Urdu Manzil


Forum
Directory
Overseas Pakistani
 

قطر میں مشاعروں کے 50سال پورے ہونے پر

 

بزمِ اُردو قطر کا گولڈن جوبلی مشاعرہ

قطر کی قدیم ترین (نصف صدی پرانی) تنظیم بزمِ اُردو قطر نے بارہ نومبر  ء کو جمعیۃ قطر

 الخیریۃ ہال دوحہ میں گولڈن جوبلی مشاعرہ منعقد کیا، جس کی صدارت پٹنہ (بہار) سے تشریف

 لائے ہوئے بزرگ شاعر اور میرِعصرِحاضرجناب ڈاکٹر کلیم عاجز نے کی ۔ قطرکی سرزمین پر

پہلا مشاعرہ اگست  ء میں ہوا تھا۔  ء میں مشاعروں کے پچیس سال پورے ہونے پر بزم نے

 سِلور جوبلی مشاعرہ منعقد کیا تھا اور اب  برس پورے ہونے پر گولڈن جوبلی مشاعرہ کیا گیا۔

 اس میں شرکت کرنے والے دیگر مہمان شعراء میں آکولہ(مہاراشٹر) کے بزرگ شاعر جناب ڈاکٹر

 محبوب راہی ، کراچی کے نامور شاعر لیاقت علی عاصم اور فیصل آباد کے معروف شاعر جناب

 انجم سلیمی شامل تھے۔ نیز دربھنگہ (بہار) کے منور عالم راہی اور دمّام (سعودیہ) کے سہیل ثاقب

 بھی مہمان شعراء میں شامل تھے۔ آغاز میں نظامت کے فرائض بزم کے سرپرست محمد رفیق شاد

 اکولوی نے انجام دیے ، جبکہ مشاعرے کے دور کی نظامت بزم کے چیئرمین اور درجن بھر کتب کے

 خالق محمد ممتاز راشد نے کی۔تلاوتِ کلامِ پاک قاری شمس الرحمن صدیقی نے کی۔ صدرِ بزم

 جناب امجد علی سرور نے استقبالیہ کلمات میں گذشتہ برس کے ادبی سفر اور اس میں بزم ک

ے کردار پر روشنی ڈالی اور معاونین کا نام بنام شکریہ ادا کیا۔ پھر مہمان شعراء کو تحائف پیش

 کیے گئے، جو معروف ادبی سرپرست حسن عبدالکریم چوگلے ، بانی انڈو قطر اُردو مرکز محمد

 سلیمان دہلوی ، ادبی سرپرست عبد الحمید المفتاح ، بزم کے سرپرستان رانامحمد ایوب اور سید

 عبدالحئ صاحبان کے ہاتھوں دلائے گئے۔ تالیوں کی گونج میں یہ مرحلہ طے ہوا تو مشاعرہ شروع

 ہوا۔ تقریباً سواسو خواتین و حضرات نے یہ مشاعرہ رات ایک بجے تک بھرپور جوش و خروش

 کے ساتھ سنا۔ پہلے قطر کی نمائندگی پندرہ شعراء نے کی۔ ان میں تیرہ بزم کے رکن شعراء تھے

، جبکہ دو شعراء کا تعلق انجمن محبانِ اُردو ہند قطر سے تھا، یعنی عزیز نبیل اور ندیم ماہر۔ قطر

 میں اور بھی متعدد مشّاق شعراء ہیں مگر وقت کی قلت کے سبب صرف ارکان اور اِن دو شعراء

 کے نام مشاعرہ پڑھنے والوں میں شامل کیے گئے تھے۔قطر کے شعراء نے اِس ترتیب سے اپنا کلام

 سنایا۔ ید اصغر نبی ، عبد العلام رویس ، سعادت علی سعادت ، جمشید انصاری ، سید زوار

 حسین زائر ، منصور اعظمی ، اعجاز حیدر ، اشفاق قلق ، ندیم ماہر ، فریدندوی ، افتخار راغب

، عزیز نبیل ، شاد اکولوی ، امجد علی سرور اور محمد ممتاز راشد ۔پھر مہمان شعراء سہیل

 ثاقب ، منور عالم راہی ،انجم سلیمی، لیاقت علی عاصم ، ڈاکٹر محبوب راہی اور صدرِ مشاعرہ

 جناب ڈاکٹر کلیم عاجز نے اپنا اپنا کلام سنایا اور بے پناہ داد و تحسین وصول کی۔ قطر کے شعراء

 کو ایک ایک غزل تک محدود کیا گیا تھا ، جبکہ مہمان شعراء سے تین تین چار چار غزلیں بہ

 اصرار سنی گئیں۔ انتخابِ کلام نذرِقارئین ہے

ڈاکٹر کلیم عاجز :

درد ایسا ہے کہ جی چاہے ہے زندہ رہیے             زندگی ایسی کہ مر جانے کو جی چاہے ہے

قتل کرنے کی ادا بھی حسیں ، قاتل بھی حسیں     نہ بھی مرنا ہو تو مر جانے کو جی چاہے ہے
  

ڈاکٹر محبوب راہی :


فرق کیا عشق و ہوس میں ہے تمہیں کیا معلوم؟     تم کہاں جانوگے کیا شے ہے وفا جانتے ہو؟

اپنی ہی ذات کے ہو خول میں تم سمٹےہوئے     تم کسی اور کو کب اپنے سِواجانتے ہو

 

لیاقت علی عاصم :

عشق بارِ دگر ہوا ہی نہیں

 

 

دل لگایا تھا دل لگا ہی نہیں

 

ایک سے لوگ ایک سی باتیں



 

گھر بدلنے کا فائدہ ہی نہیں

انجم سلیمی:

عمر کی ساری تھکن لاد کے گھر جاتا ہوں

 

رات بستر پہ میں سوتا نہیں ، مر جاتا ہوں

میں نے جو اپنے خلاف آج گواہی دی ہے



 

وہ ترے حق میں نہیں ہے تو مکر جاتا ہوں

منور عالم راہی :

یہ دل سے دور کدورت کو تُو نہیں کرتا

 

گلہ ہے مجھ سے تو کیوں روبرو نہیں کرتا

وہ اِس قدر مری نظروں میں معتبر ہے کہ



 

میں اس کا ذکر کبھی بے وضو نہیں کرتا

سہیل ثاقب :

صحنِ گلشن سے تو اندازہ نہیں ہوگا تمہیں

 

دشت والوں کے مزے دشت میں آکر دیکھو

میری تنہائی کا ہو جائے گا احساس تمہیں



 

خالی گھر میں کبھی آواز لگا کر دیکھو

 

محمد ممتاز راشد :

سبھی اُس جگہ پر اکٹھے ملیں گے

 

 

یہ لیڈر ، یہ مُلاّ ، یہ تاجر ہمارے

 

وکیلوں ، ججوں سے جگہ کچھ بچی تو



 

جہنّم کو بھر دیں گے شاعر ہمارے (حالی)
 

امجد علی سرور :

خوشبو وفا ، خلوص کی دل میں اتر گئی

 

بیٹھا جو دو گھڑی کو بزرگوں کے درمیاں

شاد اکولوی :

رکھی ہے تو نےمیرے لیے قبر کی زمیں



 

تیرے طفیل میں بھی زمیں دار ہو گیا

 

عزیز نبیل :

اب ہمیں چاک پہ رکھ یا خس و خاشاک سمجھ



 

کوزہ گر! ہم تری آواز پہ آئے ہوئے ہیں

افتخار راغب :

جی رہا ہوں میں کتنا گھٹ گھٹ کر



 

یہ مرا جی ہی جانتا ہے جی!

 

فرید ندوی :

بھائی بھی بھائی کا ممنون نہیں ملتا ہے



 

اپنے ہی خون سے اب خون نہیں ملتا ہے

ندیم ماہر :

قطرہ قطرہ نیند پگھلتی رہتی ہے



 

ریزہ ریزہ خواب بکھرتے جاتے ہیں

 

اشفاق قلق :

ہمارے شہر میں شیشے کے گھر ہیں

 



 

کہیں دیوار کا سایہ نہیں ہے

 

اعجاز حیدر :

غم جاناں غم دوراں  میں چھپایا ہوا ہے



 

میں نے یہ دُکھ بھی محبت میں اٹھایا ہوا ہے

منصور اعظمی :

سر سے شاید کہ اتر جائے غریبی کا پہاڑ



 

ڈھوتا رہتا ہوں یہی سوچ کے دن بھر پتھر

سیّد زوّار حسین زائر :

ایک لمحے کو اٹھا تھا درد سینے میں مگر



 

گھر پسند آیا تو پھر وہ مستقل ہوتا گیا

 

جمشید انصاری :

کل تلک تھا شاد وہ بھی ہو بہو میری طرح



 

ہو گیا برباد وہ بھی ہو بہو میری طرح

 

سعادت علی سعادت

چھیڑیے آج سعادت کوئی رنگین غزل

 



 

وہ جو بہلے تو طبیعت بھی بہل جائے گی

عبد العلاّم رویس:

میں بدلنے کی جب بات کرتا رہا

 



 

سب پہ گرنے لگیں خوف کی بجلیاں

 

اصغر نبی :

غم تو غم ہے ، خوشی سے ڈرتا ہوں

 



 

یعنی میں زندگی سے ڈرتا ہوں

 

بزمِ اُردو قطر کے اِس گولڈن جوبلی مشاعرے(منعقدہ نومبر ء) کا یہ انتخابِ کلام بطور

 نمونہ ہدیۂ قارئین کیا گیا، ورنہ شعرائے کرام نے اور بھی دلکش اور پُرتاثیر شاعری پیش کی جس

 پر تقریباً سواسو خواتین و حضرات لگاتار داد و تحسین کے ڈونگرے برساتے رہے۔ یوں یہ

 تاریخی مشاعرہ بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا۔ اس مشاعرے سے اگلے روز بزم کا دسواں عالمی

 ادبی سیمینار نظیر اکبر آبادی سیمینار  ڈاکٹر محبوب راہی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

رپورٹ : افسر عاصمی

     رکن بزمِ اُردو قطر

 

Blue bar

CLICK HERE TO GO BACK TO HOME PAGE