Urdu Manzil


Forum

Directory

Overseas Pakistani

 

افسرمنہاس ۔۔۔ایک نظریاتی شاعر

فاضل جمیلی
بندر روڈ سے کیماڑی جاتے ہوئے میری ویدر ٹاور کے دائیں جانب مولجی اسٹریٹ میں جہاں قائداعظم محمد علی جناح کی جائے پیدائش واقع ہے ۔اسی کوچہ نیک نام کی ایک عام سی عمارت میں اپنا ٹھکانہ تھا۔ ٹھکانہ بھی کیا ، کچھ دنوں کا آنا جانا تھا۔جو کسی بھی وقت معطل ہونے والا تھا کہ افسر منہاس کی بچھڑی ہوئی آتما مجھ سے آن ملی۔
دل گاؤں کا اک حجرہ ویران ہو جیسے
توشہر سے آیا ہوا مہمان ہو جیسے     افسرمنہاس
افسر منہاس کی شاعرانہ سنگت نے مجھے دل کے حجرہ ویران سے نکال کر سمندر کے کنارے آباد نسیم درانی کے سیپ جیسے سُچے شہر کا مستقل مہمان کر دیا۔جو اس کی آمد سے قبل دل ودماغ کے اُفق پر دھوئیں اور شور کے گدلے بادل صیقل کرنے لگا تھا۔افسر کے شعری احساس، فلسفیانہ وشواس اور ندرتِ خیال نے میری کیفیت بحال کردی ۔فکری گھٹن کے ساتھ اندیشہ ہائے دوردراز کی چھُبن بھی جاتی رہی۔اورشکستہ دل میں بھی خوش رنگ پھول کھلنے لگے۔
رُکا میں دشتِ سفر میں بحالِ مجبوری
چُبھا جو پاؤں میں کانٹا عذاب سے نکلا
(افسرمنہاس)
ایک نیا سفراور نئی صبح۔۔۔ماڑی پورکے ٹرک اڈے سے یونیورسٹی کا سفر ۔۔درمیان میں ٹاور، صدر اور نیپا چورنگی۔۔یونیورسٹی میں شعبہ فلاسفی سے زیادہ شعبہ اردو میں آنا جانا۔۔۔شعر سننا اور شعر سنانا۔۔۔پھر ہاسٹل کی کینٹین میں منہاج کے ساتھ دوپہر کا کھانا اور واپسی پر یونیورسٹی کے پوائنٹ کے ساتھ پورے شہر کی مٹرگشت۔۔۔صدر میں اسٹوڈنٹس بریانی کے ساتھ سہ پہر کا اختتام اور پھرشام ہونے تک زیب انساء اسٹریٹ کی بُک شاپس پر ایک ایک کتاب اٹھانا، آنکھوں سے لگانااور چوم کر رکھ دینا کہ اوقات کے کھِیسے میں چونی بھی نہیں تھی۔لیکن افسر منہاس کا حُسنِ کمال کہ زیب انساء اسٹریٹ کی کتابیں ہم سے محبت کرنے لگیں۔طارق روڈ کا حُسنِ رواں مہربان ہونے لگا۔۔فرینڈزشپ ہاؤس کے دروازے ہم پر کھُل گئے ۔۔۔ناظم آبادکی پہلی چورنگی میںمارکسی سیاستدان انیس ہاشمی کی فکری نشستوں میں حاضری روزانہ کا معمول بن گئی۔۔رفاعِ عام کی بزم علم ودانش نے زیب اذکار اور اسرارحسین ایسے یار دیے۔۔۔ہم کھارادر کی مولجی اسٹریٹ میں آبادچاچا اور کالے خان کی بیٹھک سے دُور چاندنی راتوں میں نیٹی جیٹی کے پُل پر بانسری کی دھن پر ماسٹر حسین بخش کے
ماہیے گانے لگے۔اور لیاری کے شوکت کامریڈکافیض احمد فیض کے عبداللہ ہارون کالج والاآفس ہمارا مستقل آشیانہ بن گیا۔ ۔۔
میں اکثر یاد کرتا ہوں
کوئی ساون، کوئی جادو، کوئی لمحہ
'کوئی بسرا ہوا نغمہ
ہوا کے ساتھ اڑتی بانسری کی لے
ہوا کی لے
کسی کی یاد کا جھونکا
کسی کے نام کا موسم
(افسرمنہاس )
 آوارگی کے اس موسم میں بھی ہری پورکی یادیں ہمارے دامن گیر تھیں۔۔۔یہ آنکھیں انہی منظروں کی اسیرتھیں جن میں کہیں ریاض ساغرکی چہچہاتی ، گیت گاتی فاختائیں ۔۔کہیں صدیق منظر کے صنم کدے سے محبت کے ساتھ آنے والی صدائیں ۔۔اور کہیں وحید قریشی ، سعید اشعر، ابوصفیان صفی اور صغیر ندیم کی شاعرانہ التجائیں تھیں کہ ہم فاصلے آواز کے ناپنے لگتے۔۔۔میں اپنے ہی گھر میں تربیلہ جھیل سے ملنے والی بے گھری کا غم بھول جاتا اور افسرمنہاس خیموں کی کوئی اور بستی آباد ہونے کے امکانات کو رد کرنے کی سعی کرتا۔
ہم اپنے ساتھ اس کی یاد، اس کا غم بھی لے آئےپرائے شہر اپنے شہر کا موسم بھی لے آئے
(افسرمنہاس)
افسر منہاس کی کتاب کوئی تصویر تو پتھر سے نکلےمنظر عام پر کیا آئی ۔۔۔ماضی کی کئی تصویریں ایک ساتھ اپنے چہروں پر جمی گرد جاڑکر سامنے آبیٹھی ہیں۔۔۔لیکن ان میں سب سے نمایاں تجسیم اس کی شاعری کی ہے جو اقلیم سخن میں انگاروں پر رقص کرنے کا ہنر جان گئی ہے ۔ سنجوگ کی مالا اب اتنی دور نہیں ۔ایسے لگتا ہے کہ افسر کو روٹھے ہوئے ساجن کو منانے کا سلیقہ آگیا ہے۔اس کے تکلم میں لکنت نہیں ، روانی ہے۔وہ ایک نظریاتی شاعر ہے ۔نظریے کی پختگی نے اس کی فکر کو شگفتگی عطا کر دی ہے۔اس نے غزل اور نظم میں بیک وقت روایت اور جدت کے مابین ایک توازن ،ایک ردھم اورایک تسلسل پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ۔کیاجدت ہے اس کی نظموںمیری کشتی کے پتوار میرے حوالے کردو۔۔دنیا تجھ سے ایک سوال۔۔زندگی کہاں ہے تُو۔۔دنیا کیا تبدیل کریں گے۔۔کانٹے ہی چُنے۔۔ہرشے کا موسم ہوتا ہے ۔۔۔ کوکھ مزدور اور
لینڈاسکیپ میں اور کیا ندرت ہے ان اشعار میں۔۔
دیکھ کر بازار میں گجروں کے مہنگے پھول بکتے۔۔۔۔گوریوں کی ریشمی بانہیں پرانی ہوگئی ہیں
رسم ورواج ہیں پھل دنیا کے۔۔۔۔کچھ تازہ ، کچھ سڑے ہوئے ہیں
بیٹھ کنارے بھر بھر پانی ساگر کا۔۔۔کوشش کردیکھی پر چھلنی بھری نہیں
یہ کوہ کاف ہے آنکھوں پہ اعتبار نہ کر ۔۔۔۔۔نظر سنبھال کہ منظر فریب دیتا ہے
(روئے سخن صدیق منظر کی طرف ہو تو روسیاہ)
زیادہ ترغزلیں روایت کے تسلسل میںکہی گئی ہیں۔ اوراپنے اندر وہ تمام حسن، احساس اوربوباس سموئے ہوئے ہیں جو ایک پختہ کار شاعرکے تخلیقی ہنر کی اساس ہوا کرتا ہے۔
وہ کون تھا نکلا تھا جومے خانے سے کل رات۔۔۔۔بوتل کو چھپائے ہوئے احرام میں اپنے
سبزہ اگر اگنے لگے پربت کے بھی اوپر۔۔۔قد میں اسے پربت کے برابر نہیں کہتے
جو راستے مری وحشت سے یادگار بنے۔۔۔۔ وہ راستے مری آوارگی کو بھول گئے
افسر منہاس نے جہاں جہاں اپنی اوریجنلٹی کے ساتھ چلنے کی کوشش کی ہے ۔شاعری کو نئے جہانوں سے روشناس کیاہے اور جہاں جہاں اس نے زمانے کے چلن کی انگلی پکڑ کر آگے بڑھنے کی ٹھانی ہے وہاں اس کے قدم لڑکھڑاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔کیونکہ شاعری کی دنیا میں پاؤں کے بل آنے والے نشتر رامپوریوںاور پرنم الہٰ آبادیوںنے علمِعروض کی مشقوں پر تو بہت زوردیا ہے لیکن یہ نہیں بتاسکے کہ پایل کبھی دل، مشکل ، ساحل اور منزل کی ہم قافیہ وہم رکاب نہیں ہو تی۔خوگرِ حمد کو تھوڑا سا گلہ یہ بھی ہے کہ افسر کی غزلوں میں بہت سے ایسے خیالات بھی در آئے ہیں جو رفتگاں یا معاصرین میں سے کئی شعراء اپنے اپنے اسلوب کے ساتھ بہت پہلے باندھ چکے ہیں۔
کرنا پڑا ہے راہ میں ترکِ سفر مجھے
دیکھا ہے چل کے میں نے ہر اک رہنما کے ساتھ
(افسرمنہاس)
دوچارگام چلتا ہوں ہر اک راہرو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں

(غالب)
ادھر چلیں یا ادھر چلیں ہم
دو رراہے پر کھڑے ہوئے ہیں
(افسرمنہاس)
امیدوبیم نے مارا ہمیں دوراہے پر
کہاں کے دہروحرم ، گھر کا راستہ نہ ملا
(یگانہ)
اک جیسا ہے چلنا سب کا
لگتا ہے ہم کھڑے ہوئے ہیں
(افسرمنہاس)
منیر اس ملک پر آسیب کا سایا ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
(منیر نیازی)
ستم یہ ہے ستم سہہ کر بھی تم نے
زباں کو بے صدا رکھا ہوا ہے
(افسرمنہاس)
دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا
(قتیل شفائی)
کسی کی قربتوں میں کھو رہا ہوں
ادھورا تھا مکمل ہو رہا ہوں
(افسرمنہاس)
اپنی تکمیل کر رہا ہوں میں
ورنہ تجھ سے تو مجھ کو پیار نہیں
(فیض احمد فیض)
کہا میں نے کہ تاریکی ہے گھر میں
کہا اس نے کہ اپنا گھر جلادو
(افسرمنہاس)
کوئی طلب کرے اگر تم سے علاجِ تیرگی
صاحبِ اختیار ہوآگ لگا دیا کرو
(پیرزادہ قاسم)
شرارے تیشہ آذر سے نکلے
کوئی تصویر تو پتھر سے نکلے
(افسرمنہاس)
وہ درد بھری چیخ میں بھولا نہیں اب تک
کہتا تھا کوئی بُت مجھے پتھر سے نکالو

(بھارت بھوشن پنت)
میری منزل کی راہ میں اے دوست

راحتوں کے شجر نہیں آتے

(افسرمنہاس)

ہمارے ساتھ چلے ہو تو سوچ لو پہلے

یہ راہ وہ ہے کہ جس میں شجر نہیں آتے

(فاضل جمیلی)

مقفل کرچکا تھا واپسی کے سارے دروازے

مکاں یہ چھوڑ کر میں جانے والا تھا کہ تم آئے

(افسرمنہاس)

یہاں رہنا معطل کرنے والا تھا کہ تم آئے

میں دروازہ مقفل کرنے والا تھا کہ تم آئے

(لیاقت علی عاصم)
مکاں تعمیر کررکھا ہے ہم نے
اب اس کو گھر بنانا چاہتے ہیں
(افسرمنہاس)
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے
افتخارعارف

پرنم کی صحبت میں افسرنے اپنی پروازمیں کوتاہی پیدا کی ہے ۔میں نہیں چاہتا کہ آئندہ وہ کسی خودساختہ استادکی رہنمائی میں بے راہ رو ی اختیار کرے اور ساتھ ہی یہ بھی چاہتا ہوں کہ افسر کی شاعری پڑھی جائے توافسر منہاس ہی یاد آئے ۔غالب ، یگانہ، منیر نیازی ، قتیل شفائی، افتخار عارف، بھارت بھوشن پنت، پیرزادہ قاسم، لیاقت علی عاصم کی فردیات یاد نہ آئیں اور فاضل جمیلی تو بالکل نہیں
 

 

Blue bar

CLICK HERE TO GO BACK TO HOME PAGE