Urdu Manzil


Forum
Directory
Overseas Pakistani
 

علی ارمان
سنا تو تھا میں بنایا گیا ہوں گارے کا
کہاں سے مجھ کو ملا ہے مزاج پارے کا

سخن گری یہاں عجز بیاں میں آتی ہے
چلن ہے عشق کی اقلیم میں اشارے کا

لپک کے ٹوٹ گیا آج وُہ ستارا بھی
جسے تھا علم مرے دوسرے کنارے کا

زوالِ ذات کے زینے سے شہر کو دیکھو
خسارہ دیکھنے والا ہے اس خسارے کا

یہاں سے آگے قلمرو ہے حسن ِسادہ کی
علاقہ ختم ہوا میرے استعارے کا

کھپا رہا ہے ہمیں کیوں حساب دنیا میں
تو ہم سے پوچھ محبت کے گوشوارے کا

کسی کا آنسو گرا تھا مری ہتھیلی پر
زمیں پہ پہلا پڑاؤ تھا وُہ ستارے کا

جہان بھر کا اندھیرا بھی کم ہے میرے لیے
نمو پذیر ہوں جس روشنی کے دھارے کا

ٹھٹھک گئیں تھیں شکایت کی آندھیاں ارمان
چراغ اُس نے جلایا عجب اشارے کا

 

Blue bar

CLICK HERE TO GO BACK TO HOME PAGE