Urdu Manzil


Forum

Directory

Overseas Pakistani

 

 اسحاق ساجد
 ( جرمنی)
 گیت
جلا دو میرے دِل کا گلشن جلا دو
محبت کی دُ نیا کو خو د ہی مٹا دو
جلا دو وہ سپنے جو دیکھے تھے میں نے
بھُلا دو وہ وعدے کئے تھے جو تم نے
نئی اپنی دُنیا بسانے کی خاطر
میری زندگی کا دیا ہی بجھا دو
 جلا دو میرے دِل کا گلشن جلا دو
نئے رنگ میں آج دیکھا ہے تم کو
ڈھلی شام تو ہوش آیا ہے مجھ کو
اچانک ہی آکاش سے گِر پڑا ہوں
میرے حال پر قہقہہ ہی لگا دو
جلا دو میرے دِل کا گلشن جلا دو
خود ا پنی خطا پر پشیمان ہوں میں
ہوئی بھول مجھ سے کہ ا نسان ہوں میں
سزا عمر بھر کی جو کافی نہیں ہے
تم ا یسا کرو اور ٹھوکر لگا دو
جلا دو میرے دِل کا گلشن جلا دو
کوئی بھول کر پیار کرنے نہ پائے
وفا شرم سے ا پنا دامن بچائے
اگر کوئی آنکھوں میں سپنے سجائے
تو تم اس کی آنکھوں کی جیوتی بجھا دو
جلا د و میرے دِل کا گلشن جلا دو
 اسحاق ساجد
 گیت
مجھ کو پاگل زمانہ کہے تو کہے
میں تیری یاد میں گیت بنتا رہوں
چاہے پھولوں کے دامن میں شبنم نہ ہو
آپ کی آنکھ میرے لیے نم نہ ہو
اور دِل کے بھی لٹنے کا ماتم نہ ہو
اپنے گیتوں پہ میں سر کو دھنتا رہوں
گیت بنتا رہوں گیت بنتا رہوں
کوئی ا پنا نہ ہو کوئی سپنا نہ ہو
چلتے رہنا ہی جیون ہو تھمنا نہ ہو
راہ میں باغ پھولوں کے آئیں مگر
صرف کانٹے ہی دامن میں چنتا رہوں
گیت بنتا رہوں گیت بنتا رہوں
بجلیاں سر پہ چمکیں کہ طوفان ہو
راہ بھی چاہے ویراں ہو سنسان ہو
ریت کے بہتے دریا میں ڈوبوں اگر
راگنی بارشوں کی بھی سنتا رہوں
گیت بنتا رہوں گیت بنتا رہوں
کوئی پیچھے بُرائی کرے ر وک دو
کوئی نا داں خطائیں کرے ٹوک دوں
کوئی کانٹے چبھائے مجھے پھر بھی میں
نرم الفاظ کے پھول چنتا رہوں
گیت بنتا رہوں گیت بنتا رہوں

اسحاق ساجد
 ( جرمنی)
 گیت
بدرا چھائے چاند ستارا سوجھے نا
رات اندھیری اور کنارا سوجھے نا
بجلی چمکے سُو نے آنگن میگھا برسے
پیا سے نینا تیرے درشن کو تر سے
رنگ محل میں رُوپ تمہارا سوجھے نا
رات ا ندھیری اور کنارا سوجھے نا
ِدِھیرے ِدِھیرے رُوپ کھِلا پھر کلیوں کا
بھول گئے ہیں رستہ تیری گلیوں کا
میرے دِ ل کا کوئی سہار ا سُوجھے نا
رات اندھیری ا ور کنارا سوجھے نا
 

یادوں کا سنسار سجا تنہائی میں
شاید اب وہ آن بسا انکنائی میں
دِل کو میرے کچھ بھی یارا سوجھے نا
رات اندھیری اور کنارا سوجھے نا
بادل گرجے طوفاں کوئی زور کرے
مورکھ منوا ! کا ہے کو تُو شور کرے
کس جانب لے جائے دھارا سوجھے نا
رات اندھیری اور کنارا سوجھے نا
بدرا چھائے چاند ستارا سوجھے نا
 

 اسحاق ساجد

 گیت
بدرا چھائے چاند ستارا سوجھے نا
رات اندھیری اور کنارا سوجھے نا
 

بجلی چمکے سُو نے آنگن میگھا برسے
پیا سے نینا تیرے درشن کو تر سے
رنگ محل میں رُوپ تمہارا سوجھے نا
رات ا ندھیری اور کنارا سوجھے نا
 

بھول گئے ہیں رستہ تیری گلیوں کا
میرے دِ ل کا کوئی سہار ا سُوجھے نا
رات اندھیری ا ور کنارا سوجھے نا
یادوں کا سنسار سجا تنہائی میں
شاید اب وہ آن بسا انکنائی میں
دِل کو میرے کچھ بھی یارا سوجھے نا
رات اندھیری اور کنارا سوجھے نا
 

بادل گرجے طوفاں کوئی زور کرے
مورکھ منوا ! کا ہے کو تُو شور کرے
کس جانب لے جائے دھارا سوجھے نا
رات اندھیری اور کنارا سوجھے نا
بدرا چھائے چاند ستارا سوجھے نا
 

 

Blue bar

CLICK HERE TO GO BACK TO HOME PAGE