Urdu Manzil


Forum

Directory

Overseas Pakistani

 

فرحت پروین

 

برف کے پھول

خواب بھی چھینے ہیں بے خوابی نے

جاگتی رات کے شکنوں بھرے بستر سے اٹھی

سن کے اعلان سحر گھنٹوں سے گھڑیال کے میں

دھندلے شیشے سے بند کھڑکی کے

دور تک گھوم کے لوٹ آئی نظر

ایک مدھم سے اجالے میں سفیدی اوڑھے

مانند نقش تھی ہر شے ساکت

جیسے کہ صبح ازل ہو

کہ ابد کا کوئی لمحہ شاید

کوئی ذی روح نہیں ہے، کوئی آواز نہیں

جھاڑی سے جھانکتا بھورا خرگوش

سبزے پہ ٹہلتے معصوم ہرن ۔ ۔ ۔ کوئی نہیں

جن کی چہکاروں سے معمور فضا رہتی تھی

اڑ گئے دور پرندے سارے

کوئی آواز نہیں

برف کی تہہ میں چھپے رستوں پر

کوئی رہ گیر نہیں

اور اعصاب کو کھاتا ہوا سناٹا یہ

روح میں اترا ہے وحشت بن کر

بڑی شدت سے اٹھی دل سے مرے یہ خواہش
کوئی آواز سنوں

کسی ذی روح کی آواز سنوں

جانے کس یاد کی گہرائی سے ابھرے کچھ لفظ

ذہن میں گونجے لبوں سے پھسلے

کتنی پاکیزہ و معصوم ہو تم

ان چھوئے برف کے پھولوں جیسی

جانے کیا جادو تھا ان لفظوں میں

ہو کے گلنار مہک اٹھے تھے رخسار مرے 
 

 

Blue bar

CLICK HERE TO GO BACK TO HOME PAGE