Urdu Manzil


Forum
Directory
Overseas Pakistani
 

م۔ک ۔حسرت

شباب رت میں جدا ہوئے ہم

دعا کہاں بد دعا ہوئے ہم

کہا تھا سب نے نہ دل لگانا

ہوئے جو رسوا بجا ہوئے ہم

حزیں بہت ہی تھے تم سے پہلے

ملے جو تم سے سوا ہوئے ہم

جو تم نے چاہا کیا وہ ہم نے

کہ جان و دل سے فدا ہوئے ہم

نہیں جو اس کو بھی فکرتو پھر

جہاں میں کس کو روا ہوئے ہم

پڑھا ہےجب سے اک اسمِ اعظم

ترے  اثر  سے  رہا  ہوئے ہم

ہے پیار اس کا ہی نام حسرت

اگر  وہ  مانے  خفا ہوئے ہم

غزل

پڑھ کر درود پاک ہی سینے پہ دم کریں

کب تک فراقِ یار میں سینے کو نم کریں

وہ کوئی  اور  ہے  جو  نچاتا  ہے  رات دن

ہم کیا ہیں کوئی کام جو مرضی سے ہم کریں

لوگوں کو ہم جو دے نہیں سکتے خوشی تو ہم

دنیا سے رنج و درد ہی تھوڑے سے کم کریں

فرقت کا زہر ہم کو جو پینا تھا پی چکے

آؤ  سفر  یہ  آخری  سوئے  عدم  کریں

ہم بھی وفا سے ہاتھ نہ کھینچیں گے جان لیں

حسرت وہ چاہے کتنے ہی جورو ستم کریں

م۔ک ۔حسرت

یوں ہم نے تجھ کو بھلانے کا اہتمام کیا

کہ تیری یاد کی شمشیر کو نیام کیا

یوں دونوں لازم وملزوم ہو گئے آخر

کہ اپنے نام میں شامل ترا بھی نام کیا

کٹی ہے عمر لکیروں میں اور رنگوں  میں

لبوں کو پھول کیا گیسوؤں کو شام کیا

کبھی خیال میں خوابوں کے آئینے میں کبھی

بٹھا  کے  سامنے  تجھ  سے سدا کلام کیا

تہاری آنکھ کے آنسو چھپا کے رکھے ہیں

بڑے سلیقے سے میں نے یہ ایک کام کیا

یہ ماہتاب نکلتا ہے روز ہی حسرت

مرے نہ صحن میں اس نے کبھی قیام کیا

 

Blue bar

CLICK HERE TO GO BACK TO HOME PAGE