Urdu Manzil


Forum
Directory
Overseas Pakistani
 

 

راشد نور اور حمیرا راحت کے اعزاز میں تقریبِ پذیرائی


 صدارت ممتاز محقق،شاعر ،ادیب اور سندھی اردو بورڈکے صدرجناب پروفیسر آفاق صدیقی نے کی

کراچی پریس کلب کی ادبی کمیٹی نے دو معروف شعراء راشد نور اور حمیرا راحت کے اعزاز میں تقریبِِپذیرائی کا اہتمام کیاجس کی صدارت ممتاز محقق،شاعر ،ادیب اور سندھی اردو بورڈکے صدرجناب پروفیسر آفاق صدیقی نے کی ،جب کہ اظہارِ خیال کرنے والوں میں فاضل جمیلی،نقاش کاظمی ،خالدہ عظمیٰ،سلمان صدیقی اور زیب اذکار حسین شامل تھے۔اِس تقریب میں شہر کے معروف ادیبوں نے شرکت کی جن میںڈاکٹرایس ایم معین قریشی، ڈاکٹر جاوید منظر،احسن سلیم ،جاوید صبا،شکیل جعفری اوردیگراربابِ ادب شامل تھے۔
 فاضل جمیلی اور نقاش کاظمی نے راشدنور کی شاعری پر اظہارِخیال کیا جب کہ سلمان صدیقی اور خالدہ عظمیٰ نے حمیرا راحت کی شاعری
پر مضامین پڑھ کر سنائے۔زیب اذکار حسین نے ۸۰ کی دہائی کے حوالے سے راشد نور کے آغازِ شاعری کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ر اشد ہمیشہ سے
محتاط اور سلیکٹو ہیں لیکن اِن کی شاعری میں ایک depthکا ایلیمنٹ بھی شامل ہو گیا ہے۔فاضل جمیلی نے راشد نوراداسی،تنہائی اورتہذیبی رویوں کا شاعر کے عنوان سے مضمون پڑھا۔انہوں نے کہا کہ راشد نور شاعری میں اپنے کڑے معیار سے نیچے آنے پر تیار نہیں ہوتے۔
راشد کی پوری شاعری امیجری،اداسی ،تنہائی اور مایوسی کے پیلے پھولوں پر منڈلاتی ہوئی تتلیوں سے عبارت ہے۔نقاش کاظمی نے کہا کہ راشد نور کالج کے شعری مقابلوں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔اور اپنی محنت سے اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہو گئے۔
 معروف نقاد سلمان صدیقی نے حمیرا راحت کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ،وہ عورت کو اسیرنہیں دیکھنا چاہتی ہیںاور نہ ہی وہ کسی کی جاگیر ہونا چاہتی ہیں۔اں کے شعری مجموعےآنچل میں اداسی سے تحیرِ عشق تک آتے آتے ذہنی پختگی کا ایک واضح قدم نظر آتا ہے۔ خو بصورت لب و لہجے کی شاعرہ خالدہ عظمیٰ،نے ، حمیرا راحت کی شخصیت اور شاعری پربھرپور روشنی ڈالی۔ز یب اذکار حسین نے کہا کہ حمیرانظم اور غزل میں واضح شعور کے ساتھ آگے بڑھنے کی خواہاں نظر آتی ہیں۔ ا ے ایچ خانزادہ، سیکریٹری پریس کلب ،نے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ راشد نور آج اپنے ہی گھر میں مہمان ہیں۔ شہر کے دو بہت سنجیدہ اور ممتاز شعراہ کو پریس کلب میں دیکھ کر بہت مسرت ہوئی ہے۔اِس موقع پر دونوں شعراء نے داد و تحسین کے درمیان اپنا اپنا کلام سنایا۔آخر میں صاحبِ صدر نے فرمایا کہ،
 لذتِ غم سے آشنائی ہے
 عمر بھر کی یہی کمائی ہے
 نور بریلوی شعر و ادب کے نہایت اہم آدمی تھے۔اب ان کے بیٹے راشد نورنے بھی اپنی جگہ بنا لی ہے۔ان کے اشعار میں کربناکی ہے اور اداسی کا رنگ بھی ۔انہوں نے حمیرا راحت کی شاعری کے حوالے سے کہا کہ حمیرا نصابِ زندگی کے حروف دل سے لکھ رہی ہیں۔ شاعرات میں انہوں نے بھی اپنا ایک مقام بنا لیا ہے انہوں نے مشورہ دیا کہ حمیرا ،میرؔ کادامن ہاتھ سے نہ چھو ڑیں۔حقیقت تک پہنچنے کے لئے غم کا اِدراک ضروری ہے۔صدرِ محفل کے خطاب کے بعد اِس تقریب کے اختتام کا اعلان کیا گیا۔
 ٭ ٭

 

Blue bar

CLICK HERE TO GO BACK TO HOME PAGE