Urdu Manzil


Forum

Directory

Overseas Pakistani

 

نجیب احمد

ترا رنگ بصیرت ہو بہومجھ سا نکل آیا

تجھے میں کیا سمجھتا تھا مگر تو کیا نکل آیا

ذرا سا کام پڑتے ہی مزاج اک خاک زادے کا

قد و قامت میں گردوں سے بھی کچھ اونچا نکل آیا

زر خوشبو کھٹکتے رہ گئےدستِ گل تر میں

دلِ  سادہ  خریدارِ  دلِ سادہ  نکل  آیا

عجب اک معجزہ اس دور میں دیکھا کہ پہلو سے

ید بیضا نکلنا تھا مگر کاسہ نکل آیا

کہانی جب بھی دہرائی پسِ ہر آبلہ پائی

وہی محمل وہی مجنوں وہی صحرا نکل آیا

پڑاؤ تک دلوں میں تھا بھٹک جانے کا اندیشہ

اٹھاتے ہی قدم منزل بہ کف رستہ نکل آیا

نجیب اک وہم تھا دوچار دن کا ساتھ ہے لیکن

ترےغم سے تومیرا دائمی رشتہ نکل آیا

 

Blue bar

CLICK HERE TO GO BACK TO HOME PAGE