Urdu Manzil


Forum

Directory

Overseas Pakistani

 

ممتاز افسانہ نگار محترمہ فرحت پروین کے افسانوی مجموعے صندل کا جنگل کی تقریبِ رونمائی

رپورٹ : اقبال طارق بحرین

مورخہ 19 مارچ بروز جمعہ شام بحرین کے ایک مقامی مگر بین الاقوامی ہوٹل میں فرحت پروین کے افسانوں کے مجموعے صندل کا جنگل کی تقریب رونمائی کا انعقاد رضوان ممتاز نمائندہ پاکستان ،اے،سی،ای،پی،نے کروایا۔جس میں عزت مآب سفیرِ اسلامی جمہوریۂ پاکستان اکرام اللہ محسود ،ماہر لسانیات نقاد اورشاعر و ادیب پروفیسر سحر انصاری،اورمعروف شاعر ڈرامہ نگارامجد اسلام امجد نے شرکت کی۔اس تقریب کی نظامت دبئی سے تشریف لائی ہوئی معروف شاعرہ ثروت زہرہ نے کی۔

اس تقریب میں فرحت پروین کے افسانوں پر بات کرتے ہوئے کنسلٹنگ انجینیر نمائندہ پاکستان رضوان ممتاز نے کہا کہ۔میں آپ سب کو اپنی طرف سے اور بحرین میں مقیم تمام پاکستانیوں کی طرف سے خوش آمدید کہتاہوں ،اور فرحت پروین کو ان کے مجموعے کے اجرا پر مبارکباد پیش کرتا ہوںاورگفتگو کا آغاز اُن کی ادبی خدمات پہ کہے گئے پروفیسر وقار صاحب کے اِن اشعار سے کرتا ہوں۔

پڑھتا ہوں تو کرتی ہے مرے ساتھ یہ باتیں

تحریر ہے تصویر کہ تصویر ہے تحریر

کانٹوں سے اُلجھنے کا قرینہ بھی سکھائے

زہرآب میں تریاق کی تصویر ہے تحریر

 فرحت بھی پردیس میں میں رہنے والے لاکھوں دلوں کی آواز ہیں وہ اپنے زمانے اور اپنی دُنیا کا مکمل ادراک رکھتی ہیں۔ فرحت نئی تہذیبوں کے امتزاج سے اُٹھنے والے نئے مسائل کو کھولتی ہیں۔وہ انسانوں کے ساتھ ہنستی ہیں اور ان کے ساتھ روتی ہیں،جذبوں کو گہری نظر سے محسوس کرتی ہیں اور یہی ایک سچے فنکار کا کام ہے۔بہت سی کہانیوں سے لگتا ہے کہ کردار ہر لمحہ اُن سے باتیں کرتے ہیںاور کاغذ پر نئی دُنیا کے انسان کی پرتیں کھولتے ہیں ۔

اقبال قمر  جو خصوصی طور پر اس تقریب میں شرکت کے لئے سعودی عرب سے تشریف لائے تھے کہا کہ۔آج افسانے کی دُنیا کی ایک افسانوی شخصیت فرحت پروین کے مجموعے صندل کا جنگل کی تقریبِ اجرا ہے جس کے لیے میں اُنہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔فرحت پروین ایک ایسی سکہ بند افسانہ نگار ہیں جو اپنا پہلا افسانوں کا مجموعہ منظرِ عام پر آنے سے قبل ہی مستند ادیبوں میں اپنی جگہ بنا چکی تھیں اورجب ان کا پہلا مجموعہ منجمد منظرِ عام پر آیا تو اُسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیااس کے بعد ریستوران کی کھڑکی سے ہوتے ہوئے کانچ کی چٹان سے آج فرحت پروین صندل کا جنگل تک آپہنچی ہیں۔اور یہ سب افسانے کے مجموعے ان کے ادبی سفر میں ایک سنگِ میل ثابت ہوئے ہیں۔ور ان کے تخلیقی عمل میں سب سے اہم بات یہ کہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ وہ اپنے آپ کو دھرا رہی ہیں۔فرحت پروین خود کہتی ہیں کہ دُکھ میری ذات کی تنگنائی سے نکل کرکائنات کے بے کراں سمندر میں پھیلتے اور پھیلتے چلے گئے۔فطرت میری دوست بن گئی،فضائیں اور ہوائیں مجھ سے ہم کلام ہونے لگیں۔

امیں کہانیاں تلاش نہیں کرتی کہانیاں خود میری راہ دیکھتی ہیں۔ان افسانوں کی فضا میں ہمیں کسی اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا۔اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب ہمارے آس پاس کی بلکہ ہماری اپنی کہانیاں ہیں،انہوں نے پوری دُنیا کے ماحول کو یوں ہم آہنگ ہم آمیز کیا ہے کہ بات کہیں کی بھی ہو اپنی ہی لگتی ہے۔فرحت کا قلم کہیں بہکتا نہیں بلکہ بڑی سہولت کے ساتھ اقدار کا دامن تھامے ہر راہِ دُشوار سے گزر جاتا ہے۔میں اُنہیں صندل کاجنگل کی دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

امجد اسلام امجد۔ فرحت کی کہانیوں میں آپ کو بہت سے شیڈ نظر آئیں گے۔وطنِ عزیز کا رنگ، سعودی یاعرب رنگ،امریکن رنگ،اور ہندوستانی رنگ، کیونکہ وہ ان تمام ممالک کے لوگوں سے براہ راست ملتی ہیں اُنہیں دیکھتی اور پڑھتی ہیں،اور پھر یہ کہانیاں تحریر کرتی ہیں۔فرحت کی کہانیاں اس لحاظ سے مخطلف ہیں کہ ان کہانیوں کے ہیروز بالکل اسی طرح ہیں جیسا کہ اُنہیں ہونا چاہیے وہ کوئی ماروائی مخلوق نہیں ہیں ۔اس کی مثال اسی طرح ہے کہ وہ اقدار کی گرتی ہوئی عمارت کو سہارا دینا چاہتی ہیں اُسے بنا سنوار کر رکھنا چاہتی ہیں کو ئی نئی ایسی عمارت تعمیر نہیں کرنا چاہتی ہیں جس میں جا بجا روزن ہوں اور زمانہ اس پر اُنگلیاں اُٹھائے۔اورآپ جانتے ہیں کہ اقدار کی اس مخدوش عمارت کو سہارا دینا اور قائم رکھنا اس وقت کتنا مشکل کام ہے۔اُن کے افسانے کا میں خاص طور پر ذکر کرنا پسند کروں گا جس کا نام جنک یارڈ ہے۔یہ ہمارے نہیں امریکن معاشرے کی کہانی ہے۔اُس معاشرے کی کہانی جس کی تقلید میں آج ہماری تہذیب اُجڑ رہی ہے۔وہ تہذیب جس میں بوڑھے والدین کا مقام اولڈ پیپل ہوم ہے بالکل اُسی طرح جیسے ناکارہ گاڑیوں کو جنک یارڈ میں پھینک دیا جاتا ہے۔ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تاوقتیکہ اُنہیں نیست و نابود نہ کر دیا جائے۔مجھے یقین ہے کہ فرحت کے افسانے ابھی مزید آگے اور آگے بڑھیں گے کیونکہ لکھنے والوں کی عمر اور مشائدہ ایک ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔اس کے بعد ناظمِ تقریب ثروت زہرہ نے سفیرِ پاکستان اکرام اللہ محسود کو اپنے افسانوں کا مجموعہ صندل کا جنگل پیش کیا اور انہوں نے اس کی تقریبِ رونمائی کی۔اور سفیرِ پاکستان نے کہا کہ میں فرحت پروین کو اُن کی تخلیقی کاوش پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور رضوان ممتاز اور اُن کے ساتھیوں ملک مسعود الرحمن اور اقبال طارقؔ کابھی شکر گزار ہوں کہ اُنہوں نے اس کتاب کی تقریب اجرا کا اہتمام بحرین میں کیا۔فرحت پروین جیسی افسانہ نگار ہمارا ادبی اثاثہ ہیں ان کے افسانوں کو جس طرح اپنے ملک اور بیرونِ ملک پزیرائی ملی ہے وہ نہ صرف اُن کے لیے بلکہ وطن عزیز اور اردؤ کے لیے بھی اثاثہ ہے اور اس قابلِ تحسین کارِ ادب کے لیے میں اُنہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔اور تمام خواتین و حضرات کا شکر گزار ہوں کہ اُنہوں نے اپنی شرکت سے اس ادبی تقریب کو دوبالا کیا۔اس کے بعد فرحت پروین مائیک پر تشریف لائیں انہوں نے سفیرِ پاکستان اکرام اللہ محسود،پروفیسر سحر انصاری،امجد اسلام امجد، رضوان ممتاز کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں فرداً فرداً آپ سب کی ممنون ہو ں کہ آپ کی شرکت نے اس تقریب کو چارچاند لگا دیئے ہیں۔ افسانہ سُننے سے نہیں پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے ،مگر تھوڑی دیر کے لیے ماضی میں لوٹ جائیے اُس ماضی میں جہاں ہمیں گھر کے بڑھے بوڑھے کہانیاں سُنایا کرتے تھے اور آج مجھ سے یہ چھوٹی چھوٹی

کہانیاں سُن لیجیے ۔ اس بات کا بھرپور تالیوں سے خیر مقدم کیا گیا۔اور فرحت پروین نے اپنے دوافسانے صندل کا جنگل اورپانچ سو کا نوٹ سُنائے اور بھرپور داد حاصل کی۔

اس کے بعدمعروف شاعر ادیب نقاد اور ماہرِ لسانیات پروفیسر سحر انصاری نے فر مایا کہ فرحت پروین کی افسانہ

نگاری کے انداز کو ادبی حلقوں میں پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا ہے۔اور اس سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے احمد ندیم قاسمی ایوارڈ کا اجرا کیا ہے اور بہت سی ایسی کُتب کو اس ایوارڈ سے نوازا ہے جو تخلیقی حیثیت سے اس کی مستحق تھیں۔اور ایک ادبی معیار رکھتی تھیں۔فرحت پروین صرف ادب ہی تخیق نہیں کررہی ہیں بلکہ ادبی سر پرستی میں بھی پیش پیش ہیں اور اس وقت ادب کی سر پرستی انتہائی اہم ہے کام ہے۔میں خصوصی طور پر بحرین کی ادبی فضا سے انتہائی متاثر ہوا ہوں یہاں کی ادبی محافل میں سفیر پاکستان کی آمد اور مکمل انہماک اور پروگرام میں آخر تک شرکت سے یہ محافل مزید نکھری نکھری دکھائی دیتی ہیں۔

فرحت پروین زندگی کو بہت ہی گہرائی میں جا کر دیکھتی ہیں معاشرتی کرداروں کو اور اُن کے مسائل کو سمجھتی ہیں اور انتہائی خوبصورتی سے اُنہیں رقم کرتی ہیں۔ان کی کہانیوں میں ان کی شخصیت کا بھرپور اضطراب نظر آتا ہے۔اور یہی اضطراب ہی اصل چیز ہے جو انسان کو تخلیق کی طرف مائل کرتا ہے۔اضطراب ہی زندگی کی علامت ہے۔اِنہیں زبان پر جو قدرت حاصل ہے وہ بہت غیر معمولی ہے۔من کے نین ہزار کا اگر آپ مطالعہ کریں تو آپ کو یقین ہو جائے گا کہ میری یہ بات بالکل درست ہے۔یہی وہ انداز ہے جو منٹو کے پاس ہے ۔کہ کہانیوں کے کردار وہی زبان بولتے ہیں جو اُن کی حقیقی زبان ہے۔ اگر آپ صندل کا جنگل نامی افسانے کو دیکھیں تو یہ ایک علامتی نام ہے کیونکہ صندل خوشبو پھیلاتا ہے اور صندل کے جنگل میں سانپوں کی بھی بہتات ہوتی ہے۔ہمارا یہ معاشرہ بھی ایک صندل کا جنگل ہی ہے جس میں خیر و شر کا ایک تصادم نظر آتا ہے یہاں وہ لوگ بھی ہیں جو اپنے تخلیقی عمل سے اس معاشرے میں خوشبو پھیلا رہے ہیں اور اور دوسری ایسی قوتیں بھی ہیں جو شر کی قوتیں ہیں جن کے قبیح اعمال ہمارے معاشرے کو پراگندہ کر رہے ہیں۔وہ سچے اور اچھے تخلیق کاروں کو بھی ایسے پیش کر رہے ہیں جیسے وہ اس معاشرے کا ناسور ہیں ۔وہ حقیقی تخلیق کار کی صلاحیتیں چھین کر اُسے مٹا دینے پر مُصرہیں وہ ایسے سانپ ہیں جو صند ل کے درخت کی جڑوں میں اپنے زہریلے دانت گاڑے بیٹھے ہیں اور صندل کو زہرلا کرنے کے درپئے ہیں مگر صند ل کی یہ خوبی ہے کہ اگر اُس سے کالا ناگ لپٹ بھی جائے تو اس کا زہر اس میں سرایت نہیں کر سکتا اورصندل،صندل ہی رہتا ہے۔ایک سچا تخلیق کار بھی صندل ہی ہے جس پر منفی قوتیں کبھی اثر نہیں کرتیں ہمارا نعرہ یہی ہے کہ بم نہیں کتاب،کلاشنکوف نہیں قلم ۔فرحت کے افسانوں میں کردار نہیں اقدار ہیں اور یہی اقدار ہماری پہچان ہیں اور ہمیں زندہ رکھتے ہیں ادبی پودے کو درخت بنانے کے لیے برس ہا برس کی ریاضت اور مشقت درکار ہوتی ہے ۔فرحت پروین کی ریاضت اور مشقت نے اس ادبی پودے کو ایک درخت بنا دیا ہے اور اب اس کے سائے افسانے کی صورت دنیا میں چہار دانگ پھیل چکے ہیں میں اُنہیں صندل کا جنگل کی مبارک باد پیش کرتا ہوں

اور اسے مزید سینچنے اور صندل کی طرح خوشبو سے جہان کو معطر کرنے کی دُعا کرتا ہوں ۔

اس تقریب میں بحرین سے ادیب و شاعر اقبال طارق

،انور بھٹی، سعودی عرب سے طارق محمود طارق

، شوکت جمال،برطانیہ سے سیمی برلاس ،اور اوجِ کمال بھی شریک تھے یہ تقریب پُرتکلف عشائیے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی

 

Blue bar

CLICK HERE TO GO BACK TO HOME PAGE