Urdu Manzil


Forum

Directory

Overseas Pakistani

 

 

 

 

نصرت زہرا
 

اردومنزل کے لئے معروف شاعرہ ثروت زہرا کا انٹرویو
٭نصرت  ۔ وہ سفر جس میں پاؤں نہیںدل تھکتا ہے مگر شاعری کی اس چھاؤں سے اس کی تمازت کم ہوجاتی ہے آپ کا اس بارے میں کیا کہنا ہے؟


۔ثروت  ۔ وہ سفر تو عشق کا سفر ہے روح کا سفر ہے اور اصل میں زندگی کا سفر ہے۔جس کا درد صرف تخلیقی اظہار کم کرسکتا ہے ویسے میں یہ سارا درد سنبھالنا چاہتی ہوں مستقلاکیونکہ اس کے بغیر سفر ختم ہوجاتاہے۔
٭نصرت  ۔آپ بیرون ملک ادبی منظر میں پیش پیش ہیں کیا وجہ ہے کہ آپ کی نئی تخلیقات اس تواتر سے سامنے نہیں آتیں جو کربِ تخلیق کا حق ہے ؟
ثروت  ۔۔میں پچھلے چھ ،سات برس سے بیرون ملک ضرور ہوں لیکن ادبی پرچوں میں مستقل تخلیقی حوالے سے شریک ہوں ہوسکتا ہے میری تخلیقات اس تو اتر سے لوگوں تک نہ پہنچ پارہی ہوں لیکن میں مستقل لکھ رہی ہوں۔اس طرح ادبی منظر پر نمایاں نہ سہی لیکن شامل ضرور ہوں میری شاعری کے موضوعات تبدیل ہوسکتے ہیں لیکن لکھنا تو میری سانس کا تسلسل ہے۔

٭نصرت  ۔وہ کون سا لمحہ یا واقعہ ہے جو جلد آپ کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور کوئی تخلیق وجود میںآجاتی ہے؟
ثروت ۔ کو ئی بھی احساس جو میرے وجدان کو تخلیقی سطح تک لے جائے مجھے لکھنے پر آمادہ کرتاہے۔ اور یہ کیفیت کہیں بھی اور کبھی بھی ہوسکتی ہے۔ اور تب تک چین سے نہیں بیٹھنے دیتی جب تک میں اس کا اظہار نہ کردوں۔
٭جلتی ہوا کا گیت آپکی اولین تخلیق ہے کیا آپ کو اس کے بعد اتنی ستائش ملی کہ آپ مزید تخلیق کی جانب مائل ہوئیں یا آپ صلے اور ستائش کی تمنا کے بغیر لکھتی ہیں ؟
ثروت ۔اس بات سے انکار کرنا تو مناسب نہیں کہ ستائش حوصلہ دیتی ہے ۔مگر۔جلتی ہوا کا گیت میں نے جب شائع کرائی یا اس سے پہلے بھی مجھے اپنے نظمیہ ،نثری نظمیہ اور موضوعات کے اعتبار سے کسی فوری شہرت کی امید نہیں تھی۔ میں نے تو اپنے لمحوں اپنے جنوں اپنے احساس کی دنیا کے بیان سے جینے کی راہ تلاش کی ہے۔ باقی فیصلے تو وقت کے ہیں انہیں وقت پر چھو ڑ دینا چاہیے۔کیونکہ مجھے یقین ہے کہ سچے جذبوں سے جنم لینے والا فن وقت کو مات دے سکتا ہے اور شاعری لمحوں کو امر بنانے کا عمل ہے جو جاری رہنا چاہیے۔
 

٭  نصرت ۔کیا آپ کے خیا ل میں تخلیق صرف تنہائی میں ہی ممکن ہے یا اس سے بھی بے نیاز ہے؟
۔ثروت  بنیادی طور پر ہر فرد تنہا ہی ہے اور تخلیق کار کو تو ہر بھیڑ میںبھی تنہائی گھیرے رہتی ہے۔اور وہ اند ر کی دنیا سے مسقتل ہم کلام رہتا ہے ۔ لہذا کبھی لمحوں نے بیچ محفل مجھ سے لکھوایا لیکن ہاں لکھتے وقت کچھ بے نیازی ارد گرد سے قدرتی ہے جو مجھے بھی چاہیے ۔
 

٭ نصرت کیا مشاعرے ادبی شعور کی بالیدگی کی علامت ہیں یامحض ایک رش اور دکھاوا؟
۔ ثروت۔ مشاعرے ہماری تہذیب و روایت ہماری زبان و ادب کی پرورش کرتے ہیں اور عوام الناس کے ادبی شعور کو بڑھاوا دیتے ہیں ان کا علم اور سنجیدہ ادب سے تعلق بحال کر سکتے ہیں۔ ان کو محض رش تونہیں کہا جاسکتالیکن کمرشلائزیشن کے عمل نے ان میں تفریحی پہلو کو بڑھاوا دیا ہے جسکی وجہہ سے ان کی ادبی اپچ کم ہوگئی ہے۔

٭ نصرت۔ کیا وجہ ہے کہ بڑی تخلیقات سامنے نہیں آتیں ؟

۔ثروت  ادبی تاریخ گواہ ہے کہ اپنے زمانے میں بڑی تخلیقات کاتعین نہیں ہوتا اور نہ ہی تخلیق کار کو ان کا حقیقی مقام نصیب ہوتا ہے۔بڑی تخلیقات کو بڑا تسلیم ہونے میں ہمیشہ وقت لگتاہے ۔آج بھی بہت اچھی شاعری اور نثر لکھی جارہی ہے نظم نئے امکانات کے زاویے تراش رہی ہے۔میں یہ بات کل اردو اد ب کی تخلیقات کے حوالے سے کہہ رہی ہوں سو جب گزرتے لمحوں کے سموں سے اڑتی دھول جب چھٹے گی تو یہ اصل تخلیقات مستند ہوجائیں گی ۔
٭ نصرت ادب میں نظریات کی کس حد تک قائل ہیں؟
ثروت ۔ ہرتخلیق کار کا کوئی نہ کوئی نظریہ ضرور ہوتا ہے یہ الگ بات ہے کہ وہ کسی سماجی سطح مقبول نظریے کا پیروکار ہے

 یا اس   نے بہت سارے نظریات سے زندگی کے لیے کارآمد عناصر کو کشید کر کے نئی راہ بنائی ہے۔اس لئے میرے خیال میں زندگی کے تسلسل اس کے حسن میں اضافے اور آذادی کے لئے تخلیق کار کو کسی محدود دائرے کا غلام نہیں ہونا چاہیے۔
 

٭ نصرت آپ کس شاعر یا ادیب کو رول ماڈل سمجھتی ہیں ؟
ثروت ۔ کوئی بھی شاعر یا ادیب ذاتی سطح پر رول ماڈل نہیں ہوسکتا اس کی شاعری ادب اور تخلیقی کے بارے میں رویہ میرے رول   ماڈل ہوتاہے ۔ اور وہ تاریخی تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتا مجھ تک پہنچا ہے ۔ اس میں بہت سے ایسے بھی ہیں جن کے نام تاریخ  میں بہت نہیں لیکن تخلیقات موجود ہیں۔ اور وہ کالی داس ، میرا ، غالب ، شاہ لطیف ، مجید امجد ، ن م راشد اور فیض و ایاز سے ہوتے ہوئے مجھ تک پہنچے ہیں۔اس لئے میں خود کو کسی بھی شخصی تقلید سے آذاد دیکھتی ہوں۔  (Piracy)۔٭ نصرت۔

کاآجکل ادب میں سلسلہ چل نکلا ہے اسکے سد باب کے لئے کیا اقدامات کرنے چائیں؟
۔۔ثروت ۔ ہر دور میں ادب وفن کے شوقین پائے جاتے ہیں جن میںاپنے آپ کو سماجی سطح پر مقبول کرنے کا جنون اور تخلیقی صلاحتیوں کا فقدان ہوتا ہے۔وہ دوسروں کے فن کی نقالی کرتے ہیں ایسے اوسط درجے کے لوگ پائرسی کا سہارا لیتے ہیں جن کو وقت اور تنقیدی عمل خود بخود ختم کردیتا ہے ، اس لئے ادیب اور شاعر کو ان لوگوں کی فکر نہیں ہوتی۔
 

٭نصرت۔ ادبی گروہوں نے کئی غیر ادبی لوگوں کو پروموٹ کیا ۔، کیا یہ زیادہ بہتر نہیں کہ ادیب ہی مل بیٹھیں ؟
۔۔۔ثروت ۔۔ادبی گروہ کبھی بھی غیر ادبی لوگوں کو پروموٹ نہیں کرتے یہ کام ادب کے نام پر سماجی کاروبار چلانے والے گروہ کرتے ہیں۔اصل ادیب و شاعر تو اپنی ذات اور تخلیقات کے عمل میں ہی اتنا الجھے ہوتے ہیں کہ ان کو پروموشن کا ہوش ہی کب رہتا ہے ۔ وہ جب بھی مل بیٹھتے ہیںتو اپنے اپنے تخلیقی عمل اور پیش نظر صورتحال سے ہی نہیںنکل پاتے تو تنظیم سازی کیاکریں گے

٭ نصرت تخلیق کے اس سفر میںآپ کو اپنے ذات کی تنہائی دور کرنے میں کتنی مدد ملی ؟
۔ثروت ۔۔اس سوال کا جواب میں آپ تخلیق اور تنہائی سے متعلق سوال میں کسی حد تک دے چکی ہوں تاہم میں اتنا ضرور کہوں گی کہ تخلیق کا عمل کچھ دیر کے لیے اپ کو اپنی ذاتِ محض کی تنہائی سے دور کرتا ہے ۔ اس لیے آپ اس لمحے کی سرشاری میں کھو جاتے ہیں۔
٭ ا س سوالنامے کے متعلق آ پ کی رائے؟
ثروت ۔  یہ سوالنامہ کسی بھی فنکار سے کچھ دیر کے لیے ہم کلام ہوتاہے۔۔۔
 

 

 

Blue bar

CLICK HERE TO GO BACK TO HOME PAGE