Urdu Manzil


Forum
Directory
Overseas Pakistani
 


ممتاز کالم نویس مصنفہ محترمہ بشریٰ رحمان کے ناول دانا رسوائی کی تقریب رونمائی
رپورٹ:۔پروین نقشؔ میاں چنوں

سخن ور فورم ملتان کے زیر اہتمام آڈیٹوریم سٹیٹ بنک آف پاکستان ملتان میں -27نومبر بروز اتوار صبح -9بجے ممتاز کالم نویس مصنفہ محترمہ بشریٰ  رحمان کے ناول دانا رسوائی کی تقریب رونمائی کا انعقاد ہورہا ہے جس کے صدار ت وزیر اعظم پاکستان جناب یوسف رضا گیلانی صاحب کریں گے اس تقریب میں شرکت کی باقاعدہ دعوت بھیجی گئی ہے ۔ لہٰذا جانے کا ارادہ کیا اوراگلے دن کی صبح -7بجے رخت سفر باندھا اور ٹھیک سوا-9بجے منزل پر پہنچ گئے ۔ آڈیٹوریم پہنچی توجناب رضی الدین رضی صاحب استقبال کیلئے دروازے پرموجودتھے  ان کے ہمراہ سخن ور فورم کی پوری ٹیم ممتاز صحافی و شاعر شاکر حسین شاکر، نوازش علی ندیم، ارشد عباس،ممتاز شاعرقمر رضا شہزاد بھی موجود تھے اسی دوران بتایا گیا کہ نیٹو حملہ کی ایک اورکارروائی کی وجہ سے وزیر اعظم پاکستان جناب سید یوسف رضا گیلانی صاحب کو ایمرجنسی میٹنگ کی غرض سے اسلام آباد جانا پڑا تاہم ان کی نمائندگی ان کے نوبیاہتا صاحبزادے سید علی موسیٰ گیلانی کریں گے چونکہ سید یوسف رضا گیلانی خود بھی ادبی ذوق اور شوق رکھتے ہیں اور پاکستان کے ادبی وزیر اعظم ہیں جنہوں نے اپنی تصنیف چاہ یوسف سے صدا کے نام سے خود نوشت پسِ زنداں تحریر کی۔لہٰذا ادبی محفل میں اپنی کمی کو پورا کرنے کیلئے اپنے بیٹے کو ولیمہ کے اگلے روز ہی تقریب میں بھیج دیا ۔تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول ﷺ سے کیا گیا ۔یہ تقریب جنوبی پنجاب کے قلم کاروں کی دوسری بڑی تاریخی کانفرنس تھی جس میں -25سے زائد شہروں کے رہائشی مرد وزن ادیب اور شعراء کی بڑی تعدادموجود تھی ۔یہ تقریب خاص اس حوالے سے بھی نہائت اہمیت کی حامل ہے کہ اس تقریب میں محترمہ بشریٰ رحمان صاحبہ کوسخن ور فورم کی جانب سے عندلیب پاکستان کا خطاب دیا گیا جبکہ قبل ازیں سخن ور فورم نے ہی انہیں بلبل پنجاب کے خطاب سے نواز رکھا تھا ۔بشریٰ رحمان کی شخصیت ،فن اور اسلوب بیان پر ڈاکٹر اسلم انصاری،پروفیسر حسین سحر،ڈاکٹر محمد امین ،پروفیسر انور جمال،عبدالجبار مفتی،قمر رضا شہزاد ،ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ،شاکر حسین شاکر،رضی الدین رضی،ضیاء ثاقب بخاری ،سید سہیل عباس اور علی موسیٰ گیلانی کااپنے اپنے خطاب اور مضامین میں معتبر عالمگیر شہرت کی حامل مصنفہ کی زندگی و فن کے مختلف پہلوؤں پر روشنہ ڈالتے ہوئے کہنا تھا کہ بشری رحمان کہیں سیاسی رہنماء نظر آتی ہیں تو کہیں شاعرہ، کہیں ادیبہ و مصنفہ تو کہیں جید صحافی ان کاکہنا تھا کہ محترمہ بشریٰ رحمان -40سال سے ادب کی خدمت میں کوشاں و کامیاب دکھائی دیتی ہیںمی۔اس دوران ان کی ناول،ناولٹ ،افسانہ،افسانچہ سفرنامہ،اور شاعری پر مشتمل -40تصنیفات شائع ہوچکی ہیں ۔ کالم نگاری میں وہ اپنا انفرادی نام و شناخت رکھتی ہیں ان کی تصنیفات میں کس موڑ پر ملے ہو،لگن،براہِ راست،بے ساختہ، لازوال ، چاند سے نہ کھیلو،پیاسی،پارسا،شرمیلی،چادر،قلم کہانیاں،بہشت،صندل میں سانسیں جلتی ہیں،ٹک ٹک دیدم،اللہ میاں جی،چادرچار دیواری اورچاندنینمایاں ہیںان کی تصانیف کے بارے میں تفصیلاً گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انکی تخلیقات میں عورت ہمیشہ مرکز رہی اور عورت کی مظلومیت اور معاشرے کی ستم ظریفی پر ہمیشہ ان کے قلم نے اپنا رنگ دکھایا ہے ان کی تحریروںکے پر تاثیر ہونے کے باعث وہ آج بھی قارئین میں مقبول ہیں۔اس موقعہ پر علی موسیٰ گیلانی کامختلف مطالبات کے جواب میں یہ بھی کہنا تھا کہ عنقریب پی ٹی وی چینل ملتان کا آغاز ہورہا ہے سخن ور فورم کو معقول گرانٹ دی جائے گی اور دیگر مطالبات کیلئے وہ وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی سے خاص طور پر اور بھرپور طریقہ سے سفارش کریں گے۔ محترمہ بشریٰ رحمان جب خود مائیک پر آئیں تو وہ اپنے میکے سے محبت کرنے والی اور اپنی سرزمین سے لگاؤرکھنے والی ایک عام مشرقی عورت کا جذباتی نظر آئیں انہوں نے اپنے شیرین بیان و دلکش اندازمیں اور میٹھی ،ادبی و جذباتی گفتگو میں حاضرین اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا اس طرح یہ یاد گار تقریب اپنے اختتام کو پہنچی ۔اس تقریب میں راقم الحروف پروین نقشؔ کے علاوہ جنوبی پنجاب کے رہائشی نامور ادیبوں ،شاعروں ،شاعرات اور صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی جن میں ندا فاطمہ ،عمار یاسر مگسی،راحت وفا،شازیہ تبسم،عمرانہ کومل،فرح رحمان،رضوانہ تبسم،زاہدہ خان،لقمان ناصر، پروفیسر سید اقبال حسین ،خالد شہزاد اور شازیہ کنول شامل ہیں ۔
 

 

Blue bar

CLICK HERE TO GO BACK TO HOME PAGE