Urdu Manzil


Forum
Directory
Overseas Pakistani
 

 

محترمہ سلمیٰ اعوان صاحبہ کاسفرنامہ مصرمیرا خواب پیش  کیاجا رہاہے

مصر میرا خواب

سلمیٰ اعوان

پیش لفظ

 میں لکھنے میں ذرا تیز نہیں۔ کہہ لیجیے سُستی کی آدھی نہیں پوری پنڈ (گٹھڑی)ہوں۔ آدھا صفحہ لکھ لوں تو جیسے اُچھڑ پھیڑے ( اُٹھنے پھرنے کی بے چینی) لگ جاتے ہیں۔ کاغذ قلم رکھ کر اپنے آپ سے کہنا ضروری ٹھہرتا ہے کہ لو اب اتنا تو لکھ لیا ہے۔ نتیجتاً ادب کی کسی بھی نثری صنف پر کام شروع کروں تو سالوں پر سلسلہ محیط ہو جاتا ہے۔ چترال پر کتاب پانچ چھ سال میں مکمل ہوئی۔ مختلف اوقات میں تین بار وہاں گئی۔ سری لنکا ۔ تین چار باب کے بعد معاملہ ٹھپ ۔ یہی حال استنبول کے ساتھ ہوا۔ مصر پر بھی چار باب لکھے اور انگڑائیاں لینے لگی۔ پورے چودہ دن مصر کے جنوبی حصّے قاہرہ اور اسکندریہ میں گزار دئیے۔ شمالی مصر کی اہم جگہیں نہر سویز اور جبلِ طُور پھر بھی رہ گئے ۔ جو میں نے اگلے دورے کے لیے رکھ چھوڑے۔

 پھر یوں ہوا کہ میں بیمار ہو گئی۔ الحمد اﷲ میں بڑی سخت جان عورت ہوں زندگی میں بیمار پڑنا تو بڑی بات نزلہ زکام اور سر درد بھی میرے پاس سوچ سمجھ کر آتا ہے۔ بھونچکی سی ہو کر میں نے خود کو دیکھا۔ اور اپنی عمر کا حساب لگایا۔ اب ساٹھے میں تو داخلہ ہو گیا اور اوپر والے کی نظر عنایت کہ گاڑی چلائے جا رہا تھا۔

 تو میں کس انتظار میں ہوں۔ یہ جو یہاں وہاں اِس دراز اُس دراز اِس شیلف اُس شیلف میں ڈھیروں ڈھیر ادھورے مسودے پڑے تمہاری جان کو رو رہے ہیں  انہیں تمہاری ادب سے بے بہرہ اولاد چولہے میں تو نہیں جھونکے گی کہ ان کے زیرِ استعمال لکڑیوں کے چولہے نہیں رہے۔ (یہ اور بات ہے کہ گیس کا بحران اُن کی باعزت واپسی کا سبب بن جائے) پر ردّی والوں کے تھیلے ضرور بھروا دے گی۔ اور رہا شمالی مصر تو زندگی اور حالات اگر دوبارہ مصر لے گئے تو اُردن کی طرف نکل جانا ۔ کچھ سامان ہو ہی جائے گا۔

 تو صاحب پہلی بار ٹک کر بیٹھی اور میں حد درجہ حیرت زدہ ہوں کہ میں نے اسے مکمل کیسے کر لیا۔ مصر مشکل اور خشک موضوع ہے۔ بہت گہرے مطالعہ کی ضرورت تھی۔ بہر حال خدا کا احسان ہے اپنی جانب سے میں نے اسے واقعات کی مکمل صحت کے ساتھ لکھا۔ فیصلہ تو قارئین کے پاس ہے کہ انہوں نے اسے کیسا پایا۔

 سلمیٰ اعوان

 فروری 2008

باب نمبر:

۱مہربانیاں مصری ایمبیسی کی

نوازشات قاہرہ والوں کی

 مصر میرے بچپنے کا وہ دلکش خواب تھا جسکے ڈانڈے میری عزیز ترین ہستی کی یادوں سے جڑے ہوئے تھے ۔میری اماّں جب جب اپنی بہنوں سے زوردار جنگ لڑتیں تب تب وہ اپنے چھوٹے سے کمرے میں شکست خوردہ سے انداز میں بیٹھ کر مولوی غلام رسول کی یو سف زلیخا کے اشعار ترنم سے پڑھتیں۔میں انکی آواز کے سحر میں ڈوبی مصر کنعان قبطی بولی فرعون عزیز مصر زلیخا یُوسف بنیامین یعقوب جیسے الفاظ اشعار میں ڈھلے سُنتی تو کتنے سوال میرے ننھے مُنے دماغ سے نکل کر میری اماں کے پاس تسلی بخش جواب پانے کیلئے دوڑے دوڑے جاتے ۔پر اُنکی تشفی نہ ہو پاتی ۔

 مصر ہزار روپ دھارتا ۔اسکے وجود کے سینکڑوں رنگوں نے میری آنکھوں کی پتلیوں میں گویا مستقل بسیرا کر رکھا تھا۔ایک جہاں آباد کیا ہوا تھا۔سالوں میں نے بہت سا وقت انکی فینٹسی میں گزارا۔

 جوانی ڈھیروں مسائل کے انبار تلے سانس لیتی اور پاکستان کے شمالی علاقوں کی سیاحت اور اُن پر لکھتے گزر گئی۔اور جب بڑھاپے نے اپنی گرفت میں لیا میں نے مصر جانے کا ارادہ کر لیا ۔معلوم نہیں اِس ارادے کی بھنک بیس 20 گھر پرے رہتی میری ممیری بہن کی نو عمر انتہائی خوبصورت بیٹی ثنا کے کانوں میں کیسے پڑگئی۔

 آنٹی مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلیے۔مصر دیکھنا میری بڑی خواہشوں میں سے ایک ہے۔

 میں نے دہل کر اُسکے حسین چہرے پر نظر ڈالی اور دل میں کہا۔

 اللہ اِس قلوپطرہ کے حُسن جہاں سوز کو میں پرائے دیس میں کہاں سنبھالتی پھروں گی۔عربی تو یوں بھی بڑے حُسن پرست ہیں ۔کوئی ہبی نبّی(اونچ نیچ)ہوگئی تو کس کی ماں کو ماسی کہوں گی۔

 نہ بابا نہ۔۔۔

 ناں کی گونج بڑی تیز اور نوکیلی قسم کی تھی جو میرے اندر سے اُٹھ کر میرے ہونٹوں پر آئی تھی۔

 پر ہوا یوں کہ ایک د ن میری بڑی بہو(ثنا کی بڑی بہن)نے میرے اوپر بم گرایا یہ کہتے ہوئے کہ وہ میرے ساتھ مصر جانا چاہتی ہے۔ نیز سرمد (میرا پوتا) کا قطعی فکر نہ کریں۔وہ اور ثنا اُسے مل کر سنبھال لیں گی۔

 بھونچکی سی ہوکر میں نے اُسے دیکھا ۔تپ چڑھے انداز میں بڑی کڑوی سی سوچ درآئی تھی۔

 دیکھو تو ذرا بالشت بھر کے بلونگڑے کے ساتھ اب یہ میرا چاہتوں بھرا سفر کھنڈت کریں گی۔ارے چھوٹا سابچہ۔ سفر تو سفر ہوتا ہے نا۔کہیں اُسکی طبیعت خراب ہوگئی۔ہوگا نہ میرا امتحان ۔اب چھوڑ کر جاؤں توسُنوں کہ بھئی دادی کو تو سپاٹوں سے فرصُت نہیں تھی۔میں تو ما ںتھی نا۔کیسے کہیں ادھر ادھر جاتی۔

 سوچا غور کیا اور پھرلبوں پر ملائمت سجائی لہجے میں محبت رچائی۔

 فریحہ میری جان زندگی پڑی ہے گھومنے پھرنے کیلئے ۔بچے پال لو پہلے۔اور ہاں اگر یہ سب ثنا کیلئے ہے تو اُسے میں لے جا تی ہوں۔

 اور یوں ثنا سفری ساتھی بنی۔مہرالنساء تو میری پکّی سفری ساتھی پہلے سے ہے چلو کاغذی مرحلوں کی تیاری شروع ہوئی۔

پر سچ تو یہ تھا کہ میں دودھ کی جلی ہوئی تھی اب چھاچھ کیلئے کیسے خوش فہمی کا شکار ہو سکتی تھی۔ ابھی کوئی دس10 ماہ پہلے تُر کی ایمبیسی نے تو مجھے رول دیا تھا۔کانوں کو ہاتھ لگوادئیے تھے۔ہر دوسرے دن ٹرنک کالوں نے میرا سفری بجٹ اپ سیٹ کر دیا تھا۔جُون کے آغاز میں دی گئی درخواست کو ستمبر میں اذن سفر ملا تھا۔

 مصر کیلئے اپلائی کرتے ہوئے گو ہم اپنے ساتھ اصلاً نسلاً مصری خاتون کو (جو ایک پاکستانی محبوب الحق کی بیگم ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری محلے دار بھی ہیں)لے کر گئے تھے۔جس نے ایک زوردار ہلّے میں ہی ہمیں بازوؤں سے تھام کر سفارت خانے کی پرُپیچ وادی میں اِس سہولت سے پہنچا دیا کہ ہم چند لمحوں کیلئے تو ہکاّ بکاّ سے ہو گئے۔کہاں کی سیکورٹی اور کہاں کے گارڈ وہ سب کو ٹھینگے دکھاتی ٹھک ٹھک ایڑیاں بجاتی افسر کے کمرے میں پہنچ گئی۔مسکراہٹوںکے تبا دلے کے بعد عربی کی عطربیز خوشبوئیں کمرے میں چار سُو پھیلنے لگیں۔ایک اور بڑا افسر بھی آشامل ہوا ۔ہم بیٹھے جوس پیتے اور ٹک ٹک دید م کے مصداق زبان یار من عربی کہتے ساتھ خود کو لعن طعن بھی کرتے جاتے تھے کہ بھئی عربی کیلئے یہ کہنا کہ من نمی دانم بے حدافسوسناک ہے۔

 ہمارے کاغذات کی پیشی ہوئی ۔ساتھ ہی ویزا فیس غالباً 1800 فی کس کے حساب سے مانگ لی گئی ۔ڈیڑھ گھنٹہ میں ساری کاروائی مکمل ہونے کے بعد ہمیں انتہائی عزت واحترام سے رُخصت کیا گیا۔

 ہمارے لیے یہ سب بڑا خوش کن تھا۔کہاں ہم شیڈوں کے نیچے جُو ن کی تپتی دوپہر وں میں بھُنتے رہے ۔کہاں وی آئی پی ٹریٹ منٹ ۔اللہ کی شان ہی تھی نا ۔وگرنہ تو ہمیں اپنی اوقات کا بخوبی علم تھا ہی۔

 ارے جرح تو انہوں نے آپ لوگوں کے سلسلے میں خاصی کی ۔مگر میں نے بھی کہا۔سب کچھ میری گارنٹی پر ہے۔ مسز محبوب نے مختصراً ہمیں بتایا۔

 چوتھے دن ویزا لگنے اور پاسپورٹ لینے کی خوشخبری تھی۔

 ہمارے تو ہاتھ پاؤں ہی پھُول گئے ۔ٹریول ایجنٹ کو فوراً ٹکٹ کنفرم کرنے کیلئے کہا۔ آواز میں تیزی تھی۔

 اتنی جلدی ۔ دوسری جانب بلا کا اطمینان تھا۔

 ہماری جانب سے تھوڑی سی تلخی کے اظہار پر جواب ملا تھا۔

 ارے آپ سمجھتی نہیں ۔ائر لا ئنز پر کتنا پریشر ہے۔اتحاد چونکہ سستی ائرلائن ہے اس لیے ہر کوئی اسی کی طرف بھاگا جاتا ہے۔

 اب فون پر ہی بحث مباحثے اور دلائل کا ایک دفتر کھُل گیا۔گرم سرد الزام تراشی سبھی کچھ شروع ہوگیا۔

 بیٹے سے بات کی تو اُسکے لہجے میں اچھی خاصی لتاڑسی تھی۔

 جب عورتیں آپ پُھدری ہوں تو پھر یونہی ہوتا ہے۔تاکید تو کی تھی کہ پھڑپونجے قسم کے ایجنٹوں سے متھا نہیں لگانا۔پر آپ سُنیں کسی کی تب نا۔اب بھگتیں۔

 سو بھگتنے کی سزا فی کس تقریباً پانچ ہزار کے لگ بھگ اضافی ادا کرنے پڑے ۔اتحاد سے گلف میں نقل مکانی ہوئی۔اور یوں خیر سے بدھو مصر سُدھارے ۔

 پہلا پڑاؤ بحرین ہونا تھا۔چار گھنٹے کی پرواز کے بعد پرشین گلف کے دہانے پر اُبھرے ہوئے چھوٹے سے خوبصورت زمینی ٹکڑے پر بستا بحرین کا شاندار شہر جیسے سُورج کی طرح طلوع ہو گیا۔ائرپورٹ شاندار تھا جس پر دنیا بھر کے بھانت بھانت کے لوگوں اور بولیوں کا قبضہ تھا۔انڈونیشیا کا اٹھائیس 28 لوگوں پر مشتمل ایک ٹولہ مصر جارہا تھا۔سارے جوان لڑکے لڑکیاں تھے۔یہ انڈونیشی بھی مزے کے لوگ ہیں ۔سارے کام جوانی میں ہی کرتے ہیں۔

 ڈھائی تین گھنٹے کا یہ وقت ہم نے ونڈوشاپنگ میں نہیں بلکہ تحقیق و تجربے میں گزارا۔ہیروںسے خوشبوؤں سے کا سمیٹکس کی چیزوں سے بغیردھیلے پولے کی خریداری کے مکمل اور بھرپُور وجودی آشنائی حاصل کی۔

 دو بجے قاہرہ ائر پورٹ پر لینڈنگ ہوئی۔ائر پورٹ کی شان وشوکت میرے حسابوں کچھ اتنی خاص نہ تھی ۔شاید ایک اور نیا عالیشان ائر پورٹ قریب ہی بن رہا تھا۔سب مراحل طے کرتے ہوئے جب باہر آئے تو میری توقع کے عین مطابق مسز محبوب کی بہن بوسیما تلبہ ہمارے استقبال کیلئے کہیں نہیں تھی۔ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کے باوجود بھی ہم نے اپنا قیمتی پون گھنٹہ اُسے کھوجنے میں گزار دیا ۔کبھی کسی شکل پر گمان گزرے کبھی کسی پر ۔پوچھ گچھ سے انکار پر جو ردعمل سامنے آتا وہ بڑا خفتّ اور تر حّم آمیز سا تھا۔

 با لآ خر یہ فضول کوشش چھوڑ کر ٹیکسی والوں کے گرد ہوئے۔پر یہاں بھی گھمبیر مسئلہ تھا۔عربی اور انگریزی کی کھینچا تانی میں کچھ پلے ہی نہیں پڑتاتھا۔تبھی وہ تیزطرّ ار ساعلی اپنی بہترین انگریزی کے ساتھ سامنے آیا ۔اور جس نے ہمیں ٹیکسی ڈرائیوروں کے ہجوم سے اُچکتے ہوئے اپنے کسی بندے کی گاڑی میں بٹھایا اور ہماری کسی اچھے اور سستے ہوٹل والی خواہش کو زبان دیتے ہوئے ہمیں اس تاکید کے ساتھ رخصت کیا۔کہ آپکا یہ مسئلہ بہ حُسن وخوبی حل ہو جائیگا فکر نہ کریں ۔

 او ر جب ٹیکسی صحرائی علاقے میں بھاگی جاتی تھی۔میں نے نکھرے آسمان کو دیکھا اور مجھے محسوس ہوا تھا جیسے اماں ہنستے ہوئے مجھے کہتی ہوں ۔

تو پھرتم پہنچ ہی گئی نا مصر۔

 خدا بندے کی اندر کی خواہشوں کو سُننے والا ہے۔اسوقت میرا مُومُو تشکّر کی پھوار میں بھیگا ہوا تھا۔

  ہم اسوقت صلاح سلیم روڈ سے گزررہے ہیں۔اور یہ سیدہ عائشہ چوک ہے۔ ڈرائیور کا انگریزی سے واقف ہونا بھی نعمت خداوندی تھا۔

 سیدہ عائشہ چوک میں دو تین سڑکوں کے موڑ کاٹنے کے بعد اُسنے ایک دو منزلہ عمارت کے سامنے رُکتے ہوئے ہمیں اُتار اکہ ہوٹل کے بارے میں بات چیت یہاں ہوگی ۔

 اندر جانے سے قبل میں نے گردونواح پر نظر ڈالی ۔بلند وبالا عمارات سے گھرا ہوا یہ صاف ستُھرا علاقہ کسِی ماڈرن شہر کا حصہ لگتا تھا۔

 اب یہ بات تو اندر جاکر ڈیڑھ گھنٹہ کھپنے کے بعدبھی ہم جیسے احمقوں پر واضح نہیں ہوئی کہ یہ بھی ٹورسٹوں کو پھانسنے کا ایک انداز ہے۔پہلے دولڑکوں سے مغز ماری کی۔پھر فون پر ایک خاتون سے وہ مُصر کہ تین بندوں کیلئے دو کمرے ہوں اور ہمارا ایک کمرے پر اصرار ۔

 ارے احمقو کچھ تو سوچو میں ذرا تلخی سے بولی ۔ایک ترقی پذیر ملک کی تین مسلمان عورتیں جن میں ایک کنواری اور نو عمر ۔الگ کمرہ کیسے لیں ۔پچاس 50 ڈالر سے شروع ہوکر 26 ڈالر پر اسکا اختتام کرتے ہوئے ہم بالآخر گاڑی میں بیٹھ گئے۔

 ڈوقی Doqqi کے علاقے سرائے سٹریٹ کے انڈیا نہ ہوٹل میں ہمارا داخلہ ہوا۔ پر یہ داخلہ صرف ریسپشن تک ہی تھا ۔کمرے تک جانے کیلئے تو پابندی لگ گئی کہ چھبیس 26 ڈالر میں اِس تھری سٹار ہوٹل کے کمرے تک جانا ممکن ہی نہ تھا اب سمجھ آئی کہ گویا نو سر بازوں کے ہتھے چڑھے تھے۔ساری مغز کھپائی ساری محنت اکارت گئی۔ پڑے ساری توانائیاں خرچ کر کے شور مچاؤ کہ ہمارا تو چھبیس 26 پر مُک مُکا ہوا تھا۔وہاں کو ن سُنے۔

 لاؤنج میں بیٹھے آسٹریلوی سیاح ڈرنک کرتے کتابیں پڑھتے اور ہماری گفتگو سنتے اور مسکراتے ہمیں بڑے زہر لگے تھے۔

 چلو لعنت بھیجو اب ہاتھ ہو گیا ہے تو کیا کریں۔

 چالیس 40 ڈالر پر کمرے کی چابی مل گئی یہ بھی غنیمت کہ کمرہ کشادہ اور بیڈ تین تھے۔

 ذرا کمر سیدھی کی۔جوان لڑکی جی جان سے تیارہوئی۔دونوں بوڑھی عورتوں نے بھی اپنے اپنے مزاج کے مطابق بننے سنورنے کا اہتمام کیا۔

 اب رات کے کھانے کیلئے چلے۔چلتے چلتے ریسپشن سے ہوٹل کا کارڈ لیتے ہوئے میں نے تو چاہا کہ چلو اِن سے کسی ریسٹورنٹ کا ہی پوچھ لیتے ہیں۔پر ثنا نے گھُر کا۔

 گولی مارو انہیں۔باہر لوگ مرتو نہیں گئے۔ ثنا کوئی دوگھنٹے پہلے کی ساری کاروائی دل میں لیے بیٹھی تھی۔

 اور باہر جیالے ٹیکسی والے شہد کی مکھیوں کیطرح جھپٹے۔ایک میں بیٹھے کہ اُسنے ہانک لگائی تھی کہ قاہرہ کے دل میں لے کر جاؤں گا۔

 لاہور کی تاریخی نہر سے جسامت میں قدرے بڑی پر واقع پل سے گزارتے ہوئے اُسنے گلا برج کا نام بتایا۔

 یہ نیل ہے تو کتنا چھوٹا۔ میں نے حیرت سے کہا۔

 کہاں چھوٹا ۔ڈرائیور فوراً بولا۔

 پار بھی نیل ہے بہت بڑا۔کہیں کہیں نیل کے درمیان یااطراف میں خشکی کے بڑے بڑے ٹکڑ ے اُبھرے ہوئے ہیں۔جیسے یہ الجزیرہ اور زمالک۔

 اور قاہرہ ٹاور پر ہمیں اُتارتے ہوئے اُسنے کہا۔

 یہ الجزیرہ کا علاقہ ہے۔قاہرہ کا دل جسکے دائیں بائیں نیل کی خوبصورتیاں اور رنگینیاں ہیں۔

 ہم تو بھونچکے سے کھڑے تھے۔فلک بوس عمارتوں کاایک طوفان خودروجنگلی پودوں کیطرح اُگا ہوا نظر آیا تھا۔آسمان کی وسعتوں کو چھُو تا اپنی بناوٹ میں بڑا منفرد بالائی حصّے پر لوٹس کیطرح کِھلاہوا قاہرہ ٹاور کو میں نے حیرت بھری آنکھوں سے دیکھتے ہوئے خود سے کہا تھا۔

  تو یہ قاہرہ ٹاور ہے۔ ہمارے فیملی فرینڈمسعود بلوچ یاد آئے جنہوں نے کوئی دس بار کہا ہوگا کہ مصر گئیں تو قاہرہ ٹاور دیکھنا نہ بھولنا۔

 لو میں تو پہلی رات ہی اُسکے سرہانے آپہنچی ہوں۔

 رات نے منظروں کی دلکشی وزیبائی میں چار چاند لگا رکھے تھے۔روشنیاں جیسے سیلاب کی صورت بہتی تھیں۔دوکانوں کی آرائش وزیبائش اور اُن میں گھومتے پھرتے لوگ ماورائی سے نظرآرہے تھے۔پاس ہی اوپرا ہاؤس تھا جس کے بارے میں پتہ چلا کہ یہ جاپانیوں کا مصریوں کو تحفہ ہے۔ عمارت کا حُسن آنکھوں میں کھُبا تو بے اختیار زبان نے کہا۔

 ارے تحفہ تو لاجواب ہے۔

 اب چلنا شروع کیا۔ہواؤں میں خنکی تھی۔شاہراہوں پر نفوس کی گرما گرمی تھی۔غیر مُلکیوںکے ٹولے تھے۔تب ہم تینوں نے ایک دوسرے سے کہا۔

 چلو قاہرہ ٹاور کے اوپر گھومنے والے ریسٹورنٹ میں کھانا کھائیں۔ پر رُک گئے صرف یہ سوچتے ہوئے کہ ابھی تیل دیکھو تیل کی دھار ۔ شہر سے تھوڑی سی آشنائی ہونے دو ۔ کیا پتہ کتنا مہنگا ہو۔ آدھی جیب یہاں ہی خالی نہ ہو جائے۔

 جو کھانا کھایاچلو خیر سستا ہی تھا۔پر نیل کے دوسرے کنارے کو ہاتھ لگانا قدرے مہنگا پڑا۔کہ خاموش بیٹھ کر پانیوں میں رواں دواں کشتیوںاور روشنیوں کو ڈوبتے اُبھرتے دیکھنا ہواؤں کے دوش پر لہراتی عربی موسیقی اور گیت سننا بھی کوئی کم پر لُطف نہ تھا۔پر رُوکھے سُوکھے کی بجائے نیل کے پانیوں میں اُتر کر اُسے ہاتھ سے چُھونا اور اُمّ کلثوم کو قریب سے سننا کہیں زیادہ خوبصورت اور انوکھا تجربہ تھا۔عربی گیت اور موسیقی اسقدر دل نواز ہے۔سچ تو یہ ہے کہ مجھے اسکا رتی برابر اندازہ نہیں تھا۔

اور قاہرہ کی وہ اولین شب ہمیشہ یادرہنے والی تھی۔

باب نمبر:

۲الازہر یونیورسٹی و مسجد

 مسجدِ حسین، خانہ خلیلی بازار

 ہلکے سے ملگجے اندھیرے میں ڈوبی قاہرہ کی صبح کو سرد ہواؤں کی بُکّل اوڑھے میں نے بالکونی میں کھڑے ہو کر دیکھا تھا۔یادوں کی بارات تھی جو گاتی بجاتی میرے سامنے چلی آرہی تھی۔انکا میں ناچ گانا اسوقت تک دیکھتی اور سُنتی رہی جب تک کہ مجھے نماز کے قضا ہو جانے کا احساس نہ ہوا۔

 ناشتے کیلئے آٹھ بجے ڈائننگ ہال گئے۔ سجاوٹ کا وہ عالم تھا کہ بے اختیار سوچنا پڑا کہ تھری سٹار اگر یہ ہے تو فائیو سٹار کیا توپ شے ہوگی۔کرسٹل کے اِس قدر بڑے شینڈلیرزکہ بندہ حیرت سے ایک پل کیلئے تو پلکیں جھپکنا بھول جائے ۔ناشتے میں ٹھونسا ٹھونسی ظاہر ہے ہم نے ڈٹ کرکی ہوگی کہ تھوڑی سی کسر چھوڑنے کو تو ہم اپنی حلال کی کمائی سے بددیا نتی کرنا تصور کرتے ہیں۔

اور آجکا پروگرام ؟

 ثنا کے یہ پوچھنے پر میں نے فوراً جامعتہ الازہر کا کہا کہ مصر کی اِس قدیم ترین یونیورسٹی کو دیکھنے کی خواہش تو جا نے کب سے دل میں ڈیرے ڈالے بیٹھی تھی۔

 ریسپشن پر چابی دیتے ہوئے ہم نے رات گئی بات گئی کے مصداق لڑکے سے ہیلو ہائے کی۔اور اُس سے قاہرہ کا نقشہ لیا۔ جہاں ہم کھڑے تھے اُس مقام کو سمجھا مرکزی جگہ پر نشان لگوایا۔کچھ اور معلومات حاصل کیں اور اللہ کا نام لے کر نکل کھڑے ہوئے۔

 تحریر سکوائر سے ٹرام اسٹیشن کو کھوج کیا گیا۔ڈھیر ساری سیڑھیاں اُتر کر زیر زمین بہت سی گھمن گھیریوں سے راستہ نکال کر ایک مصری پاؤنڈ کے ٹکٹ کے ساتھ شو کریں مارتی ٹرین میں لوگوں کے اژدہام کے ساتھ سوار ہوگئے ۔ جامع الازہر ہر سٹاپ پر اِس لفظ کی دہائی دیتی۔

پر میرے اِس شور شرابے نے کچھ مدد نہ کی۔ کمبخت زبان آڑے آجاتی ۔ٹرین زیر زمین دُنیا سے نکل کر کھلے آسمان تلے آگئی اور پھر میری گرگس اسٹیشن پر رُک گئی۔ٹرین کا آخری اسٹیشن ۔

 اب کیا کریں ۔مجبوراً اُترے ۔یہCoptic Quarter Old کا علاقہ تھا۔عیسائیوں اور یہودیوں کی قدیم عبادت گاہیں یہاں سراٹھائے تمکنت سے کھڑی تھیں۔ٹرام اسٹیشن کی حدُود سے باہر نکل کر ہم قاہرہ کے شہرہ آفاق The Hanging Church میں آگئے۔بہت اونچائی پر واقع اِس چرچ کے نام کی وجہ بھی کچھ یوں ہے کہ یہ رومیوں کے قلعہ کی چوٹی پر کھجور کی لکڑی اور پتھروں کی تہوں کے ساتھ تعمیر شدہ فرش پر بغیر گنبدوں کے بنایا گیا ہے۔جسنے اِسے ایک انفرادیت سی دی ہے اسکی چوبی چھت حضرت نوح علیہ اسلام کی کشتی کی شکل جیسی ہے۔

 یہ عبادت گاہ مقدس میری اور سینٹ Dimiana کیلئے وقف ہے۔

 کس درجہ زیبائش تھی اندر ۔چھت کا چوبی کام ۔محرابوں کی آرائش ۔نقش ونگاری فانوس۔ہم ملحقہ کمروں کیطرف چلے گئے۔برگزیدہ ہستیوں سے سجی دیواریں ۔ایک تصویر میں میری میگدلین حضرت عیٰسی کا پاؤں چوم رہی ہیں۔

 گیلریوں کی دیواریں سجی پڑی تھیں ۔اب ظاہر ہے کہ ہمیں تصویروں کے پس منظر سے آشنائی نہیں تھی۔بس دیکھتے گئے ۔کوئی ڈیڑھ گھنٹے بعد باہر نکلے پانی پیا۔ذرا سے فاصلے پر گول گنبد والا میری گرگس کا چرچ تھا۔صحن میں اینٹوں کے جنگلے میں مقید آدھا درخت اندراور آدھا باہر تھا۔ہم اندر نہیں گئے۔اب اِسے کیا دیکھنا۔ چلتے ہیں۔

 ہم دوبارہ حلقہ دام ٹرین میں آگئے۔اِن زیرزمین ٹرینوں میں سفر کرنے کی ایک موج ہے کہ ایک دفعہ اِنکی حدود میں آنے کے بعد آپ دس 10 بار کانٹے بدلیں۔شمال سے جنوب کو جائیں۔جنوب سے مشرق کیطرف ۔جیب پر بوجھ نہیں پڑے گا۔

 چرچ کی انگریزی بولنے والی لڑکیوں نے بہت اچھی طرح سب کچھ سمجھایا تھا۔پتہ نہیں میرا میٹرکیوں گھوم گیا۔اسٹیشن پر اُترنے کیلئے جونہی میں دروازے کیطرف بڑھی ۔ثنا نے پلّو سے کھینچ لیا۔

  آنٹی کہاں بھاگی جاتی ہیں۔ابھی تو سعدزغلول آنا ہے۔

 سروں کو سکارفوں سے ڈھانپے جینز پہنے نو عمر لڑکیوں اورفسٹین(لمبا فراک) میں ملبوس اُدھیڑ اور بوڑھی عورتوں نے چونک کر ہم اجنبی صورتوں کو دیکھا۔

 المالک الصباح اور السیدہ زینب گزرا۔سعد زغلول پر اُتر کر نئی سیڑھیاں چڑھیں اور اُتریں اور نئی ٹرین میں بیٹھے ۔کوئی تیسرا اسٹیشن العاتبہ کا تھا۔صد شکر کہ یہاں Escalators سے چڑھے اور باہر آگئے ۔سامنے ایک کشادہ سا پارک نما میدان تھا۔اطراف میں فلک بوس عمارتیں تھیں۔پیشانیوں پر سجے لفظ فندق نے ہمیں سمجھا دیا تھا کہ یہ سب ہوٹل ہیں۔ایک ٹوٹے پھوٹے بنچ پر ہم تینوں بیٹھ کر ذرا سا سستائے۔

یہ الغمحریہ سکوائرEL-GUMHURIYYA Sqr تھا۔صفائی نام کو نہ تھی۔ریڑھیوں او زمین پر بچھی چادروں پر دھری سستی اشیاء کی خریداری زوروں پر تھی۔کسِی سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ ہماری مطلوبہ جگہ زیادہ دور تو نہیں۔ ٹیکسی کیلئے ہاتھ دیتے ہیں رُکتی ہے پر قریب کا جان کر منہ ٹیڑھا کرتے ہوئے ڈرائیور آگے نکل جاتے ہیں۔بہرحال ایک بوڑھے کو رحم آگیا۔یونیورسٹی کے عین گیٹ کے سامنے اُتار دیا۔

 زمانوں سے دل کے اندر پلتے جذبوں اور ولولوں کے اسوقت منہ زور بہاؤ کے سامنے گارڈ نے یہ کہتے ہوئے بندلگا دیئے ۔کہ آپ اندر نہیں جا سکتیں۔

 اب چیخ اُٹھنے اور غصے سے لال پیلا ہونے کے سوا بھلا کوئی چارہ تھا۔سو یہ دونوں کام کیے اور یہ بھی دھمکی دی ۔

 کہ تم اندر کیسے نہیں جانے دو گے ۔میں تو اسکی دید کی ازلی پیاسی۔ اب یہ جام ہاتھ میں آیا ہے تو ایسے ہی تشنہ چلی جاؤں ۔جاؤ جا کر اندر بتاؤ کہ پاکستا ن سے تین دیوانی عورتیں دروازے پر کھڑ ی ہیں۔

 اِس بلاوجہ پابندی پر میں شدید اضطراب کی کھولن محسوس کر رہی تھیں۔بارے خدا وہ اجازت نامہ لیکر آیا اور ہم داخل ہوئے۔ یونیورسٹی اور مسجد حضرت فاطمتہ الزہرہ کے نام نامی پر ہے جن سے فاطمی بادشاہت کو نسبت دعو یٰ ہے۔970 ء میں مسجد کی بنیاد خلیفہ معز کے فوجی جرنیل جوہر نے رکھی۔مدرسے کا آغاز بھی اسکے ساتھ ہوا۔988ء میں یہ اسماعیلی شیعہ سکول بنا ۔یہ مصر میں فاطمی دور تھا۔صلاح الدین ایوبی کے عہد میں اِسے سُنی سکول میں بدل دیا گیا جس پر یہ آج تک قائم ہے۔

 یونیورسٹی کی عمارت مختلف بلاکوں میں بٹی ہوئی تھی۔درمیان میں روشیں اور صحن تھے۔اتنی قدیم یونیورسٹی کی عمارت کو جس شان وشوکت کا مظہر ہونا چاہیے تھا وہ مفقود تھا۔جب ہم بین الاقوامی اسلامک سنٹر کے سامنے کھڑے دو پر وفیسروں سے بات چیت کرتے تھے مجھے صفائی کا معیار بھی بہت ناقص نظر آیا تھا۔اتنی تاریخی اہمیت کی جگہ اور ایسی بے نیازی۔

 یہاں قُرآن، اسلامی قانون،منطق، گرامر،اسلامک اینڈ عرب سٹڈی اور سائنسی علوم کی تعلیم دی جاتی ہے۔زمانہ قدیم میں تدریسی عمل حلقہ کی صورت میں ہوتا یعنی شیخ کے قدموں میں ایک دائرے کی صورت میں بیٹھ کر۔اب طریقہ ہائے کار بدل گئے ہیں۔عصر حاضر کے تقاضوں کے پیش نظر 1961ء میں قائم ہونے والے شعبوں کیمیا طبیعات میڈیسن انجینئرنگ کامرس فلکیات جیسے شعبوں کے اجراء نے اسے دینی اور دنیوی تعلیم کے امتزاج کے حوالے سے ایک منفرد ادارے کی صورت دے دی ہے۔

 تاہم یہ آج بھی سُنی مسلمانوں کیلئے ایک عظیم باوقار اور مقدس درسگاہ ہے جسکے علماء کے فتوے پوری عربی اور عجمی دنیا میں مستند جانے جاتے ہیں۔

 باتیں کرتے ہوئے مجھے انکے انداز میں عجیب سی بے نیازی محسوس ہوئی تھی۔انہوں نے ڈیپارٹمنٹ دیکھنے کی بھی دعوت نہیں دی ۔وائس چانسلر تشریف نہیں رکھتے تھے۔اُنکے نائب سے تھوڑی دیر باتیں ہوئیں۔یورنیورسٹی کا انتظامی بلاک سڑک پار تھا۔

 میں صحن میں کھڑی دھوپ میں چمکتی اسکی نقش کہن والی عمارتوں کو دیکھتے ہوئے کہیں ماضی میں گم تھی۔بڑے عالم پیدا کیے اس درسگاہ نے۔صاحب ایمان جنہوں نے نپولین فاتح مصر کے بلاوے پر اُسکے دربار میں حاضر ہونے کو اپنی ہتک جانا اور انکار کیا۔اخوان المسلمین کی تربیت سازی بھی یہیں ہوتی رہی۔

 میں یہ بالکل نہیں جانتی کہ میری اس سوچ میں جذباتیت کا کتنا دخل تھا۔پر میں نے اسے کاش کے ساتھ سوچا تھا۔کہ یہاں اگر سائنسی علوم پر تحقیق وتجربات اور تدریس کا سلسلہ اسکے آغاز سے ہی اُسی طرح جاری رکھا جاتا جیسے دینی علوم کا۔تو یقینا مسلمانوں کا ماضی اور درخشاں ہوکر سامنے آتا۔اور شایدپھر تاریخ بھی مختلف ہوتی۔

 میں تو سچی بات ہے ابھی اور اس فضا میں سانس لینے کی متمنی تھی۔پر جو بندہ ساتھ لیے پھرتا تھا وہ اب اُکتایا ہوا سا محسوس ہورہا تھا۔اور اسکے عمل میں ایک غیر محسوس سا پو شیدہ کوفت بھرا اظہار کہ دفع بھی ہو جاؤ اب ۔کیا جان کھا رہی ہو۔ میرے سامنے آیا تھا۔

اُدھیڑ سے عمر والے ایک صاحب نے عقبی گیٹ سے ملحقہ شہزادی زینب زغلول اور شہزادی اشرف کی رہائش گاہوں کے زنانہ حصوں اور مزاروں کی طرف جانے کا راستہ دکھایا ۔

گلیاں گندی تھیں اور اُنکے فرش بھی غیر متوازن سے تھے۔رہائشی حصّہ جو سلام لیک زنانہ تھا چوب کاری کے کام کا بہترین نمونہ تھا۔دومنزلہ قدیم عمارت کی کھڑکیاں اور دروازوں کی ڈیزائن داری عش عش کرنے پر مجبور کرتی تھی۔

یہ شریف حمزۃ الغلبوتری کی صاحبزادیاں تھیں۔آنگن کے کمروں میں بڑے بڑے پتھروں والی دیواروں میں وہی قدیمی فضا چمٹی ہوئی تھی۔ہم گلیوں میں گھوم رہی تھیں ۔بلند وبالا چوبی کام سے سجی بالکونیوں والی عمارتیں جنکی اونچی اونچی چھتیں بڑے بڑے محرابوں والے دروازے قدرے اندھیروں میں ڈوبے چھوٹے چھوٹے کمرے ۔عمارتیں کمرشل بن گئی ہیں۔مختلف دفاتر اور کاروباری مراکز اُن میں ڈیرے ڈالے بیٹھے ہیں۔دوکاندار ٹورسٹوں کو قیمتی پتھروں اور نوادرات کالالچ دیتے ہوئے گھیر گھیر کر قابو کرنے کی کو شش میں ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔

پھولے ہوئے روٹی کے پھلکوں کے ڈھیر نظر آئے جو ٹوکریوں میں دھرے دوکانوں پر بکتے تھے۔ حیرت انگیز بات تو یہ تھی کہ اپنی پخت کے گھنٹوں بعد بھی وہ ڈھول کیطرح ہی پھولے ہوئے تھے۔ تعجب سے انہیں دیکھتے ہوئے انکی طرف بڑھے گھر میں روٹی پکانے کا رواج ہی نہیںجو عورت آتی ۔چھ سات خرید کر لے جاتی ۔

گلیوں میں پھرتے ہوئے ہم نے کڑاہیوں میں تلتے گرما گرم پکوڑے اورجلیبی جیسی چیزیں کھائیں۔یہاں گوشت سبزی کی دوکانیں تھیں ۔بڑا مانوس سا ماحول تھا۔گھروں کے اندر بھی گئے ۔کہیں غریبی تھی اور کہیں خوشحالی ۔ایک تو زبان کابڑا مسئلہ ۔گھروں میں گلیوں میں گھومتے پھرتے بچے۔ سکول کب جاتے ہیں ؟ اُس دن چھٹی تھی۔پوچھنے پر معلوم ہوا تھا۔

خاصی آوارہ گردی کے بعد واپسی کی کہ ظہر پڑھنے کا پروگرام جامع الازہر میں تھا۔

میں مسجد کے سائیڈوالے دروازے کے عین سامنے ساکت کھڑی ہلکے سرمئی اور سفید پتھروں والے سادہ پر خوبصورت بناوٹ والے میناروں سے پھوٹتی دل میں ہلچل مچاتی انسان کو فلاح کیلئے بُلاتی سرمدی آواز کو سنتی تھی الازہر مسجد صدیوں کے عظیم تعمیری نمونے کی عکاس ہے۔میری پشت پر کتابوں مقامی مصنوعات اور کھانے پینے کی چیزوں کی دوکانیں تھیں۔سڑک کے پار مصر کا شہرہ آفاق بازار خانہ خلیلی مسجد حسین اور الازہر یونیورسٹی کا انتظامی بلاک تھا۔

سیڑھیاں اُتر کر کشادہ راستے سے اندر خواتین کے حصے کی طرف جانے سے قبل میں نے عقیدت ومحبت کی گہری نظر مسجد کے چاروں طرف ڈالی۔خوبصورتی سے زیادہ اسکی قدامت پر مجھے پیار آیا۔زنانہ حصے میں درس وتدریس کا سلسلہ جاری تھا جو اذان کی آواز کے ساتھ ختم ہواتھا۔ماتھا ٹیکا تو آنسو اُبل پڑے ۔کب سوچا تھا کہ یہاں سجدہ بھی دے سکتی ہوں ۔نماز ختم ہوئی۔ کشادہ صحن میں سے مردوں کا رش ختم ہوا تو مسجد کو دیکھا۔

چھتوں اور انکے درمیان گنبدوں کا چوبی کام بڑا ہی خوبصورت اور انفرادیت لیے ہوئے تھا۔چھت کے گنبد کے گرد رنگین پچی کاری کا کام تھا۔خوبصورت اور قیمتی شینڈلیرز متاثر کرتے تھے۔

باہر نکلنے سے قبل ہم راہداری میں بیٹھے اُن لوگوں کے ہتھے چڑھے جن کے پاس ٹھگنے کے سو طریقے تھے۔انگریزی اخبار الاہرام سے متوجہ کرنے کی کو شش تو خیر میں نے یہ کہتے ہوئے ارے بھئی ہم نے نہیں پڑھنا اخبار وخبار ناکام بنادی ۔کتابیں توخیر عربی میں تھیں انہیں خریدنے کا کیا سوال۔جوتے ہم نے انکے پاس رکھوائے تھے۔اُنکے پیسے جتنے دینے چاہے وہ لینے پر راضی نہ تھے بہرحال تین مصری پاؤنڈ دے کر جان چھڑائی۔

باتھ روم اور زنانہ وضو کا انتظام باہر کیطرف تھا۔

ڈھائی بجے مسجد کی بیرونی دیوار کے ساتھ مسجد کے آٹھویں اور سب سے اہم دروازے باربرزگیٹ پر آئے۔ یہی وہ تاریخی گیٹ ہے جسکے سامنے بیٹھے حجام طلبہ کی ٹنڈیں کیا کرتے تھے۔کوئی طالب علم بالوںکے ساتھ ادارے میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ گیٹ کے داہنے رخ پر گرم گرم فلافل تلے جارہے تھے۔اُنکا لنچ بھی کیا اور ترکیب بھی جانی۔

سویا بین کی پھلیوں کو ہرے لہسن پیاز کے ساتھ ایک دستی مشین میں پیسنے اس میں انڈے ملانے اور کڑاہی میں تلنے کے بعد ان کی صورت اپنے ہاں کے لڈو پیٹھیوں جیسی ہوتی۔اسے پھر ایک میدے کی چھوٹی سی روٹی کے اندر رکھا جاتا ۔کسِ غضب کا ذائقے دار کھانا بنتا۔سستا اور مزے کا۔

زیرزمین راستے سے ہم سڑک کے دوسری جانب نکل گئے ۔

کشادہ میدان کے اختتام پر مسجد حسین پُشت پر اطراف میں دوکانوں کے سلسلے پھیلے ہوئے تھے ۔اِس مسجد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں حضرت حسین ؓ کا سر مبارک دفن ہے۔مقام صد شکر کہ مزار اقدس کی زیارت کا وقت ختم ہونے میں ابھی تھوڑا ساوقت باقی تھا۔میں نے جلدی سے اندر جا کر فاتحہ پڑھی اور مزار کی سجاوٹ کو دیکھتی عصر کی نماز کیلئے خواتین کے حصے میں آگئی۔

اور جب میں ہتھیلیو ں پر بچوں کو بٹھائے اُنکی سلامتی کیلئے دعا مانگتی تھی میں نے داہنے ہاتھ بیٹھی ایک بے حد خوبصورت عورت کی سسکیاں سُنیں۔

شام سے آنے والی خاتون جو اپنے لیے نہیں اپنے بچوں کیلئے نہیں مسلمانوں کیلئے گریہ کناں تھی۔انگریزی بولنے اور سمجھنے والی یہ رشیدہ خاتون جسکے ہونٹوں سے الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر گرتے تھے پر جسکی آنکھوں سے آنسو تو اترسے بہتے تھے۔

پاکستان کا جان کر کس محبت اور جذبے سے اُسنے مجھے اپنے ساتھ لپٹایا تھا۔میری بھی آنکھیں اشکبار تھیں کاش ہم نے عربی سیکھنے پر توجہ دی ہوتی۔

بہت دیر تک ہم ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہے وہ اقتصادیات کی پروفیسر تھی۔فرانسیسی پر اُسے زیادہ عبور تھا۔عالم اسلام کو درپیش مسائل اورخطرات پر اُسکی گہری نظر تھی۔

میں بہت متاثر تھی۔موبائل فونوں کا تبادلہ اور ایک دوسرے کے ملک آنے کی دعوت تو ظاہر ہے بڑے ہی پرجوش طریقے سے دی گئی۔مغرب کی نماز کی ادائیگی سے فارغ ہوکر باہر نکلی تو سب کچھ نور میں نہایا ہوا تھا۔ یقینا ثنا اور مہرالنساء بازار کی پرُپیچ گھاٹیوں میں گم ہونگی میدان حسین اسوقت میلے کا سماں پیش کر رہا تھا۔ مقامی اور غیر مقامی عورتوں اور مردوں کے پرُے یہاں وہاں بیٹھے چلتے پھرتے مقامی چیزیں بیچتی عورتوں سے بھاؤ تاؤ کرتے نظر آتے تھے۔میں پیچھے کی جانب نکل گئی ۔شکر قندی بھی جہازی سائز کی تھی اور ریڑھی پر دھری بھٹی کی وضع قطع بھی بڑی انوکھی سی ۔خیر ذائقہ کرنے میں ہرج ہی کیا تھا۔

پر سواد نہیں آیا ۔ اپنے ملک کی بھوبل میں دم پخت شکر قندی کی کیا بات تھی۔

خانہ خلیلی بازار کسِی مشکل معّمے کیطرح پیچ درپیچ گلیوں میں اُلجھا کسِی دُلہن کیطرح اپنے چہرے پر اپنی قدیم تہذیب وثقافت کا غازہ ملے سجا سنورا سیاحوں کو استنبول کے کیپلی کارسی بازاروں کی یاددلاتا ہے۔

میں ڈرتے ڈرتے اندر داخل ہوئی تھی۔کسِی ساحرانہ اداؤں والی دوشیزہ کی زلفوں میں اُلجھتی آگے آگے بڑھتی گئی ۔ دوکاندار لڑکے بالے گوریوں اور طرحدار گاہکوںسے ٹھٹھول بازی کرتے تھے۔قہوے اور شیشہ (حقہ) پینے کاکام بھی جاری تھا۔بھاؤ تاؤ زوروں پر اور رات پر دن کا گمان گزرتا تھا۔میں اِس پُرکشش دنیا سے نکل جانا چاہتی تھی۔پرراستوں کی بھول بھلیوں میں پھنس گئی تھی۔ایک چھوٹے سے ریستوران سے قہوہ پی کر میں نے تھوڑا آرام اور خود کو تازہ دم کیا۔

قریبی مسجد سے عشاء کی اذان گونجی ۔نماز کیلئے اندر جانے لگی ۔مجھ سے آگے جینز میں ملبوس اونچی ایڑی کا جو تا ٹھک ٹھک بجاتی ایک نوجوان لڑکی جو چند لمحے قبل دوکان پر بیٹھی تھی۔مسجد کے دروازے میں داخل ہو رہی تھی۔خواتین والے حصے میں پہنچ کر اُسنے طاق میں رکھاچوغہ اٹھایا ۔پہنا اور اللہ اکبر کہتے ہوئے نیّت باندھ لی۔نماز کے بعد کچھ دیر سستائی جب باہر نکلی لڑکی کا روبارحیات میں گُم تھی۔

سبحان اللہ بے اختیار میرے منہ سے نکلا تھا۔

نوبجے میں حسین میدان میں پہنچ کر ایک تھڑے پر بیٹھ گئی۔دس10بجے یہ دونوں آئیں۔دیوی آئسس دیوتا ہورس ملکہ نفرتیتی ملکہ ہت شی پشت رعمیس دوم سیتی اول کے مجسموں کے ساتھ چمڑے کے کشن ہینڈ بیگ موتیوںوالی کروشیے کی رنگدار ٹوپیاں اور جانے کیا کیا الّم غلّم تھا۔ شاپروں سے لدی پھندی مصر کی سوغاتوں کو سینوں سے لگائے میرے پاس آکر ڈھیر ہوگئیں۔

باب نمبر:

 

اہرام

خیفرن کے ہرم میں مہم جوئی

سُنیے ذرا

یونانی جرنلسٹ ہیروڈوٹس نے کیا لکھاہے۔Cheops left behind him a colossal of work his pyramid. اور مصریوں کا کہنا ہے وقت سے ہر چیز ڈرتی ہے لیکن اہرام مصر سے وقت بھی ڈرتا ہے ۔

مارچ کی یہ بڑی روشن اور چمکدار سی صُبح تھی۔ٹیکسی جمعیت الاقاہرہ سٹریٹ پر بھاگی جاتی تھی۔چڑیا گھر کی بیرونی دیوار کی اندرونی طرف کے بلندو بالا درختوں کی ٹہنیوں پر سفید کبُوتر نما پرندے یوں بیٹھے تھے جیسے اُن شاخوں پر کسِی نے سفیدی مائل اُودے سے پھول سجادیئے ہوں۔

غزہ ہماری منزل تھی جو کبھی فراعنہ مصر کا شاہی قبرستان تھا۔زمانوں پرانی پڑھی اور سُنی ہوئی کہانیاں گردش میں تھیں۔عجیب ساتحیر آنکھوں کے زاویوں میں منعکس تھا۔

پھر عقبی نشست پر بیٹھی ثنا نے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے موُرّخ ہیروڈوٹس کے ریمارکس سُنائے۔

یہ Cheops دراصل خو فو ہے جو چوتھے فراعنہ مصر کا بانی تھا۔

گاڑی غزہ کے علاقے میں داخل ہوگئی تھی۔ڈرائیوربتاتا تھا۔نائٹ کلبوں کیلئے یہ علاقہ بہت شہرت رکھتا ہے۔یہاں عمارات خوبصورت بھی تھیں اور عام سی بھی۔

آنٹی ۔

ثنا نے سرگوشی کے انداز میں کہا ۔

ہم نے نائٹ کلب بھی دیکھنا ہے۔

ہرم یا اہرام کا نام بعض کے خیال میں قبطی زبان اور کچھ کے خیال میں مصری اور کچھ کا کہنا ہے کہ ہیروڈوٹس جب مصر آیا اور اُسنے واپس جاکر لوگوں کو بتایا کہ تہذیب وتمدّن اور ذہانت و فطانت پر صرف یونان یا کسی اور ملک کی اجارہ داری نہیں ۔مصر جاکر انکے پائریمس (عمودی بلندی)کو دیکھو ۔

د نگ رہ جا ؤ گے ۔یہی پائریمس بعد میں PYRAMIDS بن گئے۔

تو پھر ہم اُس صحرا میں پہنچ گئے گو آبادی کا پھیلاؤ اب اُسکے لبوں تک پہنچا ہوا ہے تا ہم زردئی رتیلا کہیں کہیں پڑے پتھروں سے اٹا ہوا ایک وسیع وعریض صحرا جسمیں اہرام درمیان میں بڑا اور اطراف میں چھوٹوں کے ساتھ نظر آتا ہے۔ چند لمحوں کیلئے تو میں نے جیسے بھونچکی سی ہوکر یہ سب دیکھا اور اپنے آپ سے کہا۔

تو یہ ہیں اہرام ۔

پرنٹ میڈیا نے تصورات کا ایک جہاں یادداشتوں میں آباد کر رکھا تھا۔اسی لیے گنگ سی کھڑی اُسے دیکھتی اور پڑھا ہواباہر نکالتی تھی۔

یہ اہرام دراصل عظیم الشان مقبرے ہیں ۔مصری تمدن کو جب فروغ ہوا تب قبروں کی شکلیں بدل گئیں۔آغاز میں قبریں چبوتروں کی صورت میں تھیں ۔مختلف قدوقامت کی۔کسی کی اونچائی دس سے تیرہ میٹر اور لمبائی پچاس میٹر اور کسی کی تین اور آٹھ میٹر۔

یہ چبوترے ہی حقیقت میں مصر کے شہرہ آفاق اہراموں کے مائی باپ ہیں۔زوسر (تیسرے خاندان کا فرعون) کو چبوترے پر کئی چبوترے بنانے کا خیال اور عمل ہی مصر کے تعمیری فن میں ایک انقلاب کا باعث بنا۔

اب یورپی مورخین اِن کے بارے میں جو مرضی رائے دیں۔مٹرولوجی کہیں۔فلکیات سے تعلق ثابت کریں۔دریائے نیل کو ریت کے طوفان سے پچانے کی کاوش سمجھیں۔ حقیقت میں یہ قبریںہیں۔

دھوپ میں کھُلی فضاؤں میں دھنک رنگ بکھرے ہوئے تھے۔روایتی رنگین پھندنوں اور خوبصورت کجاووںسے سجے اونٹ اور مہاریں تھامے شتربان بھی وہیں گشت کرتے اور سیاحوں کو پھانستے نظر آتے تھے۔ٹکٹ اور چیکنگ کے مراحل سے فارغ ہوکر جب قریب گئے تو حیرت کے سمندر میں گر گئے۔

یااللہ آنکھیں تھیں کہ پھٹ پڑیں ۔اس قدر وزنی اور دیوہیکل قسم کے پتھر ۔ہر پہلو سے انکی لمبائی چوڑائی اور اونچائی حیران کن تھی۔وہ کیا جن تھے یا کوئی ماورائی انسان جنہوں نے انہیں پہاڑوں سے توڑا اٹھایا اور پھر یہاں تک پہنچا کر اسکی تعمیر میں لگایا ۔

پاس کھڑا ایک نو عمر لڑکا بتاتا تھا کہ خوفو کے ہرم کی اونچائی تقریباً 138 میٹر ہے۔پوری عمارت کا پھلاؤ کوئی پچیس لاکھ میٹر مکعب ہے اور اس میں تقریباً 33 لاکھ چٹانیں لگی ہیں۔

میرا نچلا ہونٹ بے اختیار میرے دانتوں تلے آگیا تھاشاید یہ حیرت واستعجاب کی ایک اضطراری حرکت تھی۔کتنی صدیاں گزر گئیں غالباً پانچ ہزار برس ۔

میرے خدایا کیا زمینی اور آسمانی آفات نے انہیں نشانہ نہ بنایا ہو گا ۔یہ کتنے موسموں کے تلخ وشیریں سردوگرم چشیدہ ہیں اور ابھی بھی اسی تمکنت سے کھڑے ہیں۔

سب سے چھوٹا ہرم خوفو کے پوتے MICERINUS اور درمیانہ اُسکے بیٹے CHEPHERN کا ہے۔

سسِلی کا تاریخ دان ڈیوڈورس ہو یا نپولین ۔ ایک صدی قبل مسیح مصر آنے والا ڈیوڈورس اِن اہراموں کے سامنے کھڑا حیرت زدہ انہیں دیکھتے ہوئے بے ساختہ کہہ اٹھتا ہے۔کہ دنیا اگر عجائبات کے اعتبار سے دو تین کی گنتی میں بھی آئے تب بھی یہ اہرام سر فہرست ہوں گے ۔مجھے انکے بے تحاشا بڑے سائز سے کہیں زیادہ تعمیراتی طلسم نے متاثر کیا ہے۔

ہیروڈوٹس کیطرح ڈیوڈورس بھی عماراتی تخمینوں کے ساتھ ساتھ لہسن پیاز ادرک مولی گاجروں اور اناج کا بھی حساب کرتا ہے جو تعمیر کے دوران محنت کشوں نے کھایا۔

میں اسوقت خیفرن Chephern کے ہرم کے چبوترے پر بیٹھی اُن پتھروں کو دیکھتے ہوئے سوچتی تھی۔یہ ہرم ریتلی زمین پر کھڑے ہیں ۔اور زمین پر کوئی ایسی علامت نہیں کہ جس سے یہ سمجھا جائے کہ یہ ٹھوس ہے بس یو ں جیسے کسی غیر مرئی طاقت نے اسے جادو کے زور سے یہاں کھڑا کر دیا ہے ۔تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ انہیں عجوبہ بنانے میں لاکھوں محنت کشوں کا ہاتھ ہے۔ اُن سے بیگاریں لی گئیں۔ہر ماہ ایک لاکھ آدمی یہ بیگار کرتے ۔پتھر ڈھونے والی سڑک کی تعمیر میں دس سال لگے باایںہمہ جو بھی اور جیسے بھی ہوا کل کے وقت اور پیسے کے بے مہابہ خرچ نے آج کا ایک قیمتی اثاثہ دنیا کے سامنے لاکھڑا کیا جو ڈھیروں ڈھیر کمائی کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔

دفعتاً نپولین آنکھوں کے سامنے آگیا تھا۔

تو نپولین نے تن تنہا خوفو کے ہرم میں رات کسِ تجربے کو حاصل کرنے کیلئے گزاری تھی کاش وہ اپنے احساسات کو بیان کرتا۔

اسکے ساتھی ماہرین نے فتح مصر پر اُسے یہ بھی بتایا تھا کہ غزہ کے اِن اہراموں میں جو پتھراستعمال ہوئے ہیں اِن سے پورے فرانس کے گرد دس فٹ اونچی اور ایک فٹ چوڑی دیوار کھڑی کی جاسکتی ہے۔خدا کا شکر ہے کہ لالچ میں کسِی اکھاڑ پچھاڑ میں نہیں لگ گئے۔وگرنہ فن تعمیر کا ایک نادر نمونہ تاراج ہوجاتا۔

ثنا ہرم کے اندر جانے کیلئے ٹکٹ لینے چلی گئی۔صحرا میں داخلہ کا ٹکٹ پچاس مصری پاؤنڈابھی لے کر آئے تھے۔اور اب ایک اور ٹکٹ کا خرچہ ہونے والا تھا۔اہرام کے چار مثلث پہلو ہیں ۔یہ چاروں پہلو سیدھے شمال جنوب مشرق اور مغرب کی طرف ہیں اسکا زمینی پھیلاؤ ایکڑوں میں ہے لیکن پتھروں کے ہرردّے پر اسکا پھیلاؤ کم ہوتا جاتا ہے اور جب یہ اپنی چوٹی کو پہنچتا ہے تو اس پر صرف ایک سل دھرنے کی جگہ رہ جاتی ہے۔

ثنا بھاگی بھاگی آئی اور پھولتے سانس کے ساتھ بولی۔

خوفو میں جانے کا ٹکٹ سو مصری پاؤنڈ ہے۔اُسکا دروازہ سورج کی پہلی کرن کے ساتھ صرف کچھ دیر کیلئے کھلتا ہے ۔خوفو کے ہرم میں ہیرے جواہرات اوربہت سی دیگر اشیاء دیکھی جاسکتی ہیں۔اب کیا کریں۔تم خوفو کو چھوڑو۔اسکے بیٹے کے ہاں چلتے ہیں۔اب اِسی ایڈونچر میں رہنا ہے کیا۔کل کسی اور طرف نکلیں گے۔

چلیے جناب ٹکٹ آگئے۔

خیفرنCHEPHERN) (کے ہرم میں اُترنے کے ڈھلانی راستے کے مُنہ پر چھتری کی چھاؤں تلے بیٹھا گارڈ بڑا ترش رُو تھا۔کیمرے موبائل سب اپنے قبضے میں لیتے ہوئے بیگوں کو بھی سنبھالنے کے موڈ میں تھا۔

دہانے کے باہر مختلف زمینوں اور رنگارنگ بولیوں والوں کا ایک جمگھٹاسالگا ہوا تھا۔کچھ اندر سے دھونکنی کیطرح سانس پھُلاتے ہونکتے توبہ تلّا کرتے غار سے برآمد ہو رہے تھے۔باہر والے اِس مہم جوئی میں سرخرو لوٹنے والوں سے احوال سُنتے تھے۔مہرالنساء نے ہاتھ کھڑے کر دیئے تھے۔پر مجھے تو بالی عمر والے تجربے کرنے کا خاصا شوق تھا۔سیڑھیوں میں چند لمحوں کیلئے سوچا بھی کہ اب جوانی دیوانی پاس نہیں ہے۔اور اندر سے آنے والے کچھ حوصلہ افزاداستان بھی نہیں سُنارہے ہیں۔پر نہیں جی چلبلامن مہم جوئی پر مائل تھا۔

اللہ کا نام لیکر ڈھلانی سیڑھیوں جنکے پوڈوں پر لوہے کی بار چمکتی تھی پرقدم رکھا۔ دروازے میں داخلہ ہی جھکاؤ کے ساتھ ہوا ۔پاؤں پر زور پڑا اور گھٹنے لگا جیسے تڑخ جائیں گے۔ لمحے بھر کیلئے رُک کر میں نے اپنے توازن کو متوازن کیا۔ یہ بھی سوچا کہ واپس لوٹ جاؤں نگاہیں بھی پھیریں پرفرنٹ لائن میں چلنے والے دوبوڑھوں نے تقویت دی ۔

خود کو پھٹکارتے ہوئے میں نے کہا۔

لو ان سے تو جوان ہے تو۔ اتنی بھی کیا تھُڑ دلی۔ چل جی داروں کی طرح قدم اُٹھا۔ چلیں جی آیت الکرسی کی سنگت میں قدم اُٹھنے لگے۔شروع میں ٹیوب لائیٹس تھیں تھوڑاساچلنے کے بعد اندھیراتھا۔آگے پیچھے لوگوں کا چلنا اور آنا جاری تھا۔دفعتاً شدید قسم کی گھٹن اور گھبر اہٹ محسوس ہوئی۔ پل بھر کیلئے میں نے پھر سوچا کہ رسک نہ لوں ۔پر پتہ نہیں کسِ جذبے کی کشش تھی جس نے قدموں کوتوانائی دی۔پانی کے گھونٹ سے لبوں کو ترکیا۔ تھوڑا سا اور آگے بڑھی۔خدا گواہ ہے زندگی میں اپنی کسِی حماقت پراتنا افسوس نہیں ہواہوگاجتنا اسپر ہوا۔وزن کو بر قراررکھنے میں سخت مشکل تھی۔نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن والا معاملہ درپیش تھا۔

یکدم جیسے کچھوے کیطرح رینگتا وجود کھڑا ہوگیا۔شکر کا لمبا سانس بھرا اور سیدھی ہوگئی۔ اسے سٹور کہا جاسکتا تھا۔یہ جیل ٹائپ ایک چھوٹا ساکمرہ تھا جسکے بائیں ہاتھ لوہے کی سلا خیں تھیں۔ یہاں ذرا گھُٹن کم تھی۔میں نے پھر پانی پیا۔متلی کی سی کیفیت تھی۔شاید بلڈ پریشر شوٹ کر رہا تھا۔اب خداسے دعا ہی کی جاسکتی تھی ۔

آگے پھر ٹنل شروع ہوگئی ۔چوبی ریلنگ یہاں بھی نہیں تھی۔بس ہاتھ دیواروں کو اندھوں کیطرح تھامتے تھے۔

پھر ایک اورپڑاؤ آیا ۔یہاں سُورج کی روشنی تھی۔یہ روشنی کہاں سے آتی تھی۔میں کوشش بسیار کے باوجود اسکا سراغ نہیں لگاسکی ۔یہا ںکچھ ہوا بھی تھی اور یہ Passage بھی کچھ لمبا تھا۔یادداشتوں میں اہرام پر پڑھا ہوا کچھ میرے سامنے آیا تھاکہ ہر ہرم کے اندر دوسوراخ رکھے جاتے تھے۔اِن سے روشنی کا حصول مطمع نظر نہیں تھا۔بلکہ یہ فرعون کی روح کی آمدورفت میں سہولت کیلئے تھا کہ مصریوں کے عقیدے کے مطابق ہر مقبرے میں روح کیلئے راستہ رکھنا بہت ضروری تھا۔

اب اوپر کی جانب چڑھائی تھی۔تھوڑا سا چڑھنے کے بعدRectangular Shape کا کمرہ سامنے آیا ۔کمرے کی چھت خاصی اونچی تھی۔کمرے کے وسط میں گارڈ کھڑا تھا۔سفید پگڑی اور گرے توپ(چوغہ)پہنے۔ایک سٹیپ نیچے اُتر کر عین درمیان میں ڈارک براؤن پتھر کا تابوت پڑا تھا۔ساتھ اسکا ڈھکن تھا ۔دیواریںگرے اور اُن پر موٹی سیاہ لکھائی سے کچھ لکھا ہوا تھا۔یہ یقیناً ہیرو گلیفی تحریریں ہونگی ۔واپسی پہلے سے بھی زیادہ اذیت ناک تھی۔جب باہر نکلی تو چند لمحوں کے لیے یقین ہی نہیں آیا کہ اُس اندھیرے غار سے سلامتی سے نکل آئی ہوں۔ جس میں میرے جیسی خستہ حال کے ساتھ کچھ بھی ہو نے کا امکان تھا۔ گوڈے گٹے تو یوں لگتا تھا جیسے ٹوٹ گئے ہیں اور اُنہیں بس گھسیٹ کر ہی لائی ہوں۔

سکارف اور جینزپہنے نوعمر خوبصورت اور صحت کی لالی سے سجے چہروں کا ایک جتھا تھاجو ثنا پر حملہ آور ہوا تھا۔سیکنڈری سکول کی طالبات جو سکول کے ساتھ پکنک منانے یہاں آئی تھیں۔ثنا کی خوبصورتی اور اُسکے لباس کی انفرادیت نے انہیں متوجہ کیا تھا۔اِس کشش میں ہماری مسلمانیت کا تو میرے خیال تھوڑا سا دخل ہی ہو گا ۔یوں ہمارے مسلمان ہونے کا جاننے پر الحمداللہ الحمداللہ کہتے ہوئے انکی خوشی قابل دید تھی۔اور یہ سوچ بھی یونہی میرے اندر در آئی تھی کہ کیا میرے ملک کی اِس عمر کی لڑکیاں مذہب کے اِس عالمگیری احساس پر ایسے ہی مسرت محسوس کرتی ہیں یا نری بونگی ہیں۔بہرحال تقریباً آدھا گھنٹہ ہم اُنکی گرفت میں رہے۔

دور مشرق کی جانب زردئی ریتلے صحرا کی قدرے اونچی نیچی گھاٹیوں میں لوگوں کے ہجوم SPHINX کو دیکھنے کیلئے پیدل رواں تھے۔خوفو کے ہرم سے یہ دوری کوئی تین سو پچاس میٹر کی تھی ثنا تو اپنے لونگ سکرٹ کو جھلاتی یوں اُڑی جاتی تھی جیسے کسی رتھ پر سوار ہو۔میں اور مہرالنساء نے گاڑی میں لفٹ لی۔پر گاڑی نے خاصا دور اُتاردیا پولیس والوں کی روک ٹوک سلجھانے کی بجائے کچھ اُلجھانے والی سی تھی۔پوری جگہ کو احاطے میں لیکر کام ہورہا تھا۔بڑی سی پختہ گراؤنڈ میں ساؤنڈ اینڈلائٹ شو کیلئے مشینری کی سیٹنگ کا اہتمام جاری تھا ہمارے تجسس بھرے استفسا ر پر ساتھ چلنے والا ایک کورین بولا تھا۔

یہاں رات کو روشنیوں اندھیروں سایوں اور آوازوں کے پس منظر میں تاریخ فراعنہ تمثیلی انداز میں پیش کی جاتی ہے۔اپنی پراسراریت اپنے طلسم اپنی ہیبت اور شان وشوکت کے ساتھ وہ دور مجسم ہوکر سامنے آتا ہے تو انسان گنگ رہ جاتا ہے۔

تو پھر یہ طے ہے کہ ہمیں یہ شوہر حال میں دیکھنا ہے۔میں نے چلتے چلتے خود سے کہا۔

آبادی تو ابوالہول کے سر پر چڑھی بیٹھی ہے۔ہم ایک چھوٹی سی شیڈوالی جگہ سے گزر کر آگے آئے ۔یہاں اونچی نیچی سنہری رتیلی زمین کا ایک وسیع ٹکڑا جسکے اطراف میں لڑکے بالے فرش پر کپڑے بچھائے منقش پیرامڈ فراعنہ کے مجسمے اور کتابیںبیچتے اور سیاحوں کے تعاقب میں بھاگتے تھے کہ وہ مونڈھے مار مار کر آگے جانے کی بجائے ان کے پاس رُکیں اور کچھ خریدیں۔

آگے دیوار میں دروازے کے پٹ نہیں تھے۔دہانہ چھوٹا ساتھا۔اوپر چھت بھی نہیں تھی۔دیواریںحیران کن بڑے بڑے پتھروں سے بنی ہوئی تھیں۔پہلے والے حصے میں مستطیل جنگلے کے نیچے اتھلاسا کنواں تھا جسمیں پڑے سکّے چمکتے تھے۔یہ سکّے کیوں پھینکے جارہے تھے غرض وغایت معلوم نہیں ہو سکی ۔آگے بڑھ گئے ڈھلانی راستہ چڑھ کر اوپر آئے۔

چھوٹی سی ڈھلانی دیوار پر سکون سے بیٹھ کر میں نے خودسے چند فٹ کے فاصلے پر تمکنت سے بیٹھے ابوالہول کو دیکھا۔ میری آنکھیں پلکیںجھپکنا بھول گئی تھیں ۔

وہ کون سی ماں تھی میرے اندر سے یہ سوال اُٹھ کر خراج سمیٹتا ہوا میرے لبوں تک آیا تھا۔جس نے اِس درجہ کمال کے فنکار کو جنا تھا۔

وقت کا ایک عجوبہ آرٹ کا ایک شاہکار ۔ایک بھاری بھر کم طویل الجثہ چٹان کو کاٹ کر جس انداز میں اِسے تراشا گیا وہ آج بھی حیرت زدہ کرتی ہے۔

تقریباً تہتر 73 میٹر لمبا یہ عظیم الشان مجسمہ جس کا دھڑ شیر کا اور چہرہ انسان کا ہے۔ جس کے بارے میں بعض کا کہنا ہے کہ یہ خوفو کے بیٹے کا مجسمہ اسکے مقبرے پر گارڈ کی صورت پہرا دیتا ہے۔ بنیادی طور پر ابوالہول کو (دہشت کا باپ)HOR-EM-AKHET کہا جاتا ہے جسکا مطلب ہورس دیوتا سے ہے۔جو اُفق پر ہوتا ہے۔یہ خوفو کے ہرم کے آگے اپنا چہرہ مشرق کی طرف کیے کھڑا ہے۔سورج کی پہلی کرن اسکے چہرے کو بوسہ دیتی ہے۔

اُسکی آنکھوں کو بغور دیکھنے سے عجیب سی وحشت اور خوف کا احساس رگ وپے میں اُترتا ہے۔ناک کٹی ہوئی ہے۔ہونٹوں پر ناقابل فہم مبہم سی مسکراہٹ ہے۔اسکی لمبائی کوئی چھپن6 5 میٹر اونچائی بیس 20 میٹر اور چہرے کی چوڑائی پانچ 5 میٹرہے زمانے کی گزرتی صدیوں میں بہت بار اسکا سارا وجود آندھیوں نے ریت کی تہوں میں چھپادیا۔بہت بار اسے کھود کر نکالا گیا۔ان کھدائیوں میں اُس واقعہ نے زیادہ شہرت حاصل کی جب TUTMOSES IV کو خواب میں دیوتا کیطرف سے حکم ملتا ہے نکال لو اُسے باہر۔ وگرنہ اسکا نام ونشان بھی مٹ جا ئیگا۔

قدیم مصریوں کا ایمان تھا کہ ابوالہول کو ئی فرضی وجود نہیں بلکہ یہ ایک حقیقی مخلو ق ہے۔جو لیبیا کے صحراؤں میں ایک خونخوار شیر کی صورت میں جسکی ذہانت انسانوں کی سی ہے پایا جاتا ہے۔یونانی عقیدہ بھی کچھ ایسے ہی خیال کانمائندہ تھا تاہم نئے دور کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوگیا کہ یہ خوفو کے بیٹے CHEPHERN ( خیفرن)کا مجسمہ ہے جو یقیناً فن کی دنیا کا ایک شاہکار ہے۔

سچ تو یہ تھا کہ میں جانے تاریخ کی کن گھاٹیوں میں بھٹک رہی تھی۔میری آنکھیں مسلسل اُس چہرے پر جمی تھیں۔کبھی یہاں اسکے قریب ایک مندر ہوا کرتا تھا۔ بلکہ اہراموں کے ساتھ مندروں کے وجود لازمی امر تھے اور غرض و غایت اتنی سی تھی کہ مرنے والوں کے لیے دعائیں ہوتی رہیں۔ نیل کی روانیاں بھی یہیں آس پاس ہی تھیں ۔پر اب بیچارہ تن تنہا زمانے کی تیز گردشوں اور مملوکوں کی نشانہ بازی کی پریکٹس میں اپنی داڑھی اور چہرے کی سا لمیت متاثر ہونے کے کرب میں مبتلا دکھائی دیتا ہے۔

 

 

باب نمبر:

۵سقارہ مقدس حاپی

مستطبہ طائی

سقارہ کیلئے دونوں ہی رضا مند نہیں تھیں۔ریت دھول اور شکستگی کی ویرانیوں کی گود میں لپٹے قبرستانوں کی بجائے وہ کسی متحرک زندہ نہایت دلچسپ مناظر کی متلاشی تھیں ۔جو سردست مےّسر آنا مشکل تھا۔میں نے پیار سے بہلا پھُسلا کر گاڑی میں بٹھایا۔پیرامڈ کا علاقہ ناکوں ناک مکانوں لوگوں کھجور کے درختوں سے اٹا پڑا تھا۔گندہ نالہ مزید سونے پر سہاگہ تھا۔کبھی یہ نیل سے نکالی ہوئی نہر تھی۔آج آبادی کے بے ہنگم پھیلاؤ نے نالہ بنا دیا ہے۔

باہر نکلے کھیت اور ہریالی نظر آئی۔آنکھوں کو طمانیت سی محسوس ہوئی ۔سکولوں اور ہوٹلوں کی بہتات تھی۔ کھیتوں کے درمیان چار منزلہ دو منزلہ عمارات کھڑی تھیں ۔مرغیوں کے پولٹری فارم کچے راستے کوڑے کے ڈھیر۔ سامان اُٹھائے گدھے۔کام کر تے اور حقہ پیتے مرد۔گدھوں سے چلتے رہٹ۔کھیتوں میں کام کرتی عورتیں ۔سب مانوسیت کی خوشبو نتھنوں میں گھُسیڑ رہے تھے۔

جونہی سقارہ روڈ پر آئے۔نخلستان بصارتوں میں آیا ۔کھجور روں کا وسیع و عریض باغ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔باغ سے آگے پہاڑی کا دامن ہریالیوں کی گود میں لپٹا ہوا تھا اور نظریں اٹھا کر اوپر دیکھنے سے صحرا اپنی وسعتوں اور ویرانیوں کے ساتھ سامنے آتا تھا۔ گاڑی اونچائی پر چڑھتے ہوئے درختوں کے جھنڈوں میں ٹکٹ گھر کے سامنے جا رُکی۔ آٹھ میل کے رقبے میں پھیلا ہوا مصر کا یہ قدیم ترین شاہی قبرستان قبروں کے ساتھ ساتھ عبادت گاہوں اور قربان گاہوں پر بھی مشتمل ہے۔

سیڑھی داریا چبوترے پر دھرا چبوترے دار دُنیا کا پہلا ہرم جسکی بنیاد تیسرے شہنشاہی سلسلے کے پہلے فرعون زوسرنے رکھی تھی میرے سامنے تھا۔میں ٹوٹی پھوٹی پتھروں کی ایک دیوار کے اُوپر کھڑی ہوگئی حدّ نظر پھیلی ہوئی صحرائی ویرانی کی گھمبیرتا عجیب سا یاس رگ وپے میں اُنڈیلتی تھی اور یہ سوچنے پر مجبور کرتی تھی کہ کل جب یہ نو تعمیر شدہ اور شاندار تھے تب بھی یاس افسردگی ویرانی اور اُداسی کی علامت تھے اور آج یہ جب ٹیلوں کے نیچے اور ریت کے اوپر کھنڈر بنے پڑے ہیں تب بھی سامان عبرت بنے وجود کو لرزاتے ہیں۔

ہرم کا تصور اگر زوسر کا ذہنی کمال تھا تو اِس تصور کو حقیقت کا روپ دینے والا بھی وقت کا ایک فطین طبیب امنہوتپ تھا۔

زوسر کے ہرم پرکھرُنڈ اور زخم تھے۔زوسر کے ہرم کے ساتھ ہی اوناس کا ہرم بھی ہے۔ باہر سے صورت بہت شاندار نظر آتی تھی۔ شاید ری فیسنگ کی گئی تھی۔ ہرم کو جانے کے لیے گیلری کا راستہ بہت گہرا تھا ۔ سیڑھیاں بہت نیچے اُترتی جاتی تھیں۔سچی بات ہے۔ہمت ہی نہیں پڑی۔

ہمارا ڈرائیور اِس بار ہمارے ساتھ تھا۔اور یہ وہی تھا جسنے ایک نئی اور انوکھی چیز دکھانے کے لالچ میں ہمیں مقدس سانڈوں کے تدفینی چیمبر میں لاکھڑا کیا۔

افسوس کے ساتھ ساتھ ہم پر ہنسی کا دورہ بھی پڑا۔یعنی اب ان کی کسررہ گئی تھی۔

مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق دیکھنا پڑا۔پر یہ بھی ایک حیرت انگیز دُنیا تھی۔ بڑی بڑی گیلریوں میں بسالٹ اور گرینائٹ (مختلف رنگوں کے پتھر)سے بنائے گئے بڑے بڑے تابوت تھے۔مہرالنساء نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔

لو انسانوں کو تو چھوڑو۔جانوروں کی بھی اِس درجہ عزت افزائی۔

چلو اِس عجوبے پر روشنی بھی ڈرائیور نے ہی ڈالی کہ قدیم مصریوں کے عقیدے کے مطابق اُن کا عظیم دیوتا اوزیرس بیل کی صورت میں بھی ظاہر ہوتا تھا۔اِس بیل میں اِن علامتوں کا کہ اسکا رنگ بالکل سیاہ ماتھے پر ہیرے کی شکل کا نشان ۔زبان کے نچلے حصّے پر مقدس بھونرے کی شبیہ بدن کے دائیں پہلو پر ہلال پشت پر بازو پھیلائے عقاب کی صورت اور دم پر کالے اور سفید رنگ کے بال ہونا ضروری تھا۔

ارے اِن علامتوں کے ساتھ کسی جانور کا ملنا تو جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔

مہرالنساء بول اٹھی۔

ڈرائیور کی بات میں وزن تھااور زمانوں پرانی سچائی کی جھلک تھی جب اُسنے یہ کہا تھا۔

ہر دور میں انسانی عقائد کے مطابق اوپر والا انکی مطلوبہ چیزوں کی فراہمی کرتا رہتا ہے یہ شاید قانون قدرت ہے۔

ایسا بیل ملتا تھا۔ اُسکے حصول پر خوشی کا بے پایاں اظہار کیا جاتا تھا۔مصری اِسے مقدس حاپی HAPI جبکہ یونانی اِسے اپیس APIS کہتے تھے ۔تاجپوشی سے لیکر سرکاری تقریبات میں اُسکی موجودگی لازمی ٹھہرائی جاتی۔ اور پھرروزانہ اُسے مخصوص وقت پر ٹمپل کے یارڈ میں نکالا جاتا۔یارڈ کے اُس حصّے کی آرائش وزیبائش کا خصوصی اہتمام ہوتا۔چہار جانب برآمدے اور اُن میں دھرے مجسمے جو چھت کو قائم رکھنے میں ستونوں کا کام دیتے۔بہترین خوراک بہترین آسائش ہمہ وقت خدمت گار ٹہل سیوا پر ان سب کے ساتھ ساتھ ایک اہم بات یہ بھی کہ اٹھائیس 28سال کی عمر میں اُسے اگلے جہاں بھی پہنچا دیا جاتا۔

پھر اُسکے مقبرے اور تابوت بنائے جاتے ۔ ثنا نے جملہ مکمل کر دیا تھا۔

سقارہ میںہرموں کے مستطبے MASTABAS بھی ہیں ۔عربی زبان میںمستطبہ بیٹھنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔یہ دراصل درباری امراء اور وزراء کے مدفن تھے۔جوکم وبیش اُن گھروں کے ڈیزائنوں پر بنائے جاتے جن میں یہ لوگ مرنے سے پہلے رہتے تھے۔مری رو کا نبت پتاح ہوتپ اور طائی کے کے مستطبے بہت مشہور ہیں۔ طائی کا مستطبہ آرٹ کے نقطہ نظر سے ایک شاہکار خیال کیا جاتا ہے۔طائی پانچویں بادشاہی خاندان کی ایک بے حد اہم شخصیت فرعون کا دست راست اہرام کی تعمیرات کا ڈائر یکٹر اسکی بیوی نفرہوتپ۔

ڈرائیور اُسکے مستطبے کو دیکھنے کے لیے اصرار کرتا تھا۔

اور یہ حقیقت ہے کہ اگر یہ نہ دیکھتے تو افسوس ہوتا کہ بارہ ستونوں پر مشتمل بڑا چیمبر اور اندرونی کمروں کی دیواروں پر سڈول گداز جسموں والی حسین ماڈل عورتیں اپنے سروں پر ٹوکریاں اٹھائے جیسے آگے پیچھے چلتی کسی فیشن پریڈ کیلئے کیٹ واک کرتی ہوں ۔جسمانی اعظاء کی دلکشی اور تناسب غضب کا تھا۔کچھ تصویریں کھانے پکانے شکار کرنے اور قربانی سے متعلق تھیں۔

سقارہ میں مزیداہراموں کی کھدائی بھی جاری تھا۔

میرے اللہ اِس سر زمین نے اپنے نیچے کتنا کچھ چھپایا ہوا تھا۔جواُگلی ہے تو مصر کو نہال کر دیا ہے اور ابھی اور اُگل رہی ہے۔

باب نمبر:

میمفس اور سلطان عیسیٰ

تومیں اب اُس جگہ جا رہی تھی جو میری اوائل عمری کا خواب تھا۔اپنی ماں کے گھٹنے پر سر رکھے اسکی مدھ بھری آواز میں یوسف زلیخا عزیز مصر کا شعری نامہ سنتے ہوئے میرے تخیل کی اُڑان یقیناً اتنی اُونچی نہ تھی کہ وہ عزیز مصر کے محل کی شان و شوکت اور اسمیں رہتی حُسن کی مورت زلیخا کے بارے میں اندازے لگا سکتا۔

میمفس سقارہ سے تین اور قاہرہ سے اٹھائیس کلومیٹر پر جنوب مغرب میں فراعنہ کا پہلا دارلحکومت تھا۔

میری آنکھوں میں آنسو سے آگئے تھے۔کوئی جیسے چُپکے سے آنکھوں میں اُتر آیا تھا۔پوروں سے انہیں صاف کرتے ہوئے میں باہر منظروں کی جانب متوجہ ہوئی۔

من نو فرمتحدہ مصر کے اولین دارالحکومت کا تصویر ی رسم الخط ہیرو گلیفی کا نام تھا۔میمفس نام اِسے یونانیوں نے دیا اور یہی مشہور ہوا۔فراعنہ کے پہلے شاہی خاندان کے بانی فرعون منایونانیوں کے مطابق منیز نے کوئی پانچ ہزار سال پہلے اِس علاقے کا دورہ کیا۔یہ جگہ پتاح دیوتا کی پرستش کیلئے مشہور تھی۔یہاں بالائی اور زیریں مصر کی سرحدیں ملتی تھیں یہیں سے نیل شاخوں میں بٹ کر اپنا ڈیلٹا بنانا شروع کر دیتاتھا۔منیز کی زمانہ شناس اور تجربہ کا ر نگاہوں نے اسکے محل وقوع کی اہمیت کو فی الفور بھانپ لیا۔اُس نے اِسے اپنا دارالحکومت قرار دے کر قلعہ تعمیر کروایا۔

بس توشہر بسنے لگا اور پہلے خاندان کے دور میں ہی یہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا۔قلعہ کے اردگرد اینٹوں کی دوہری فصیل تھی جس پر چونا کیا گیا تھا شاید اسی وجہ سے اس جگہ کو دیوار ابیض کہا گیا۔

فرعونوں کے محل راجباڑیاں قلعوں شاہی خاندان امراء وزراء سبھوں کے یہاں قیام عدالتیں کچہر یاں جنگی ہتھیار اور بحری بیڑے کے جہاز وں کے کارخانوںنے اسے سیاسی اور عسکری اہمیت دی۔ امراء وزراء فرعونوں کی بیگمات کی مخلوط محفلیں شہر کی تمدنی وتہذیبی زندگی کی بنیادیں بنیں۔

قریبی ہمسایہ ملکوں نے بھی یہ جان لیا کہ مصر پر قبضہ اسوقت تک ممکن ہی نہیں جب تک میمفس انکے ہاتھوں میں نہ آئے۔

گاڑی تو چند ہی منٹوں میں میمفس کبقال کے سامنے آکھڑی ہوئی۔یہ جگہ پتاح ٹمپل کے سامنے ایک کشادہ سی قطعہ زمین پر چھوٹے موٹے مجسموں نوادرات کی چند دوکانوں سے سجے ایک چھوٹے سے میوزیم کی صورت میں نظر آتی تھی۔

اندر جانے کی بجائے ہم نے پہلے گردونواح کا جائزہ لینا چاہا۔سچ تو یہ تھا۔کہ اِس عظیم شہر کی عظمت رفتہ کا ہلکا سا نشان بھی باقی نہیں تھا۔ہمارے سامنے بکھری اُن عمارتوں کے کھنڈر تھے جو کبھی زندگی کی حرارت سے لبالب بھری تھیں۔

وہاں ملبے اور اینٹوں کے ڈھیر دنیا کی بے ثباتی کے قصہ خوان تھے۔سارا شہر نشیبی زمین میں بدلا ہوا ہے۔کھجوروں کے درخت سر اٹھائے گریہ کناں ہیں ۔سامنے درختوں کے جھنڈوں میں گھرے رحینا RAHINA گاؤں کے بچے پتھروں کے ڈھیروں پر کھیلتے تھے۔

ڈرائیور نے جہاں ہم اُترے تھے اسکی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا تھا۔کبھی یہاں پتاح دیوتا کابہت شاندار مندر ہوتا تھا۔ Mummification اور بیل کی قربانی دینے اور اُسے حنوط کرنے کا رواج بھی اسی دور میں ہوا ۔ذرا پرے ایک مجسمہ گرا پڑا تھا۔سیاحوں کی ایک ٹولی گاڑی سے اتر کر اُسکے گرد اکٹھی ہوئی تھی۔

ایک بڑے سے پتھر پر بیٹھ کر میںنے گردو پیش پر نگاہ ڈالی اور سوچا۔

یہیں کہیں وہ منڈی بھی ہوگی جہاں مختلف ملکوں سے پکڑے ہوئے غلام لائے جاتے اور وہ نیلام ہوتے ۔تو وہ بے مثال حسن کا شہزادہ نام جسکا یوسف اور جو پیدائشی پیغمبر زادہ اور خود بھی پیغمبری کے تمغے سے سجا اِس بازار کی بکنے کیلئے زینت بنا۔مروجہ رواج کے مطابق اُسے بھی نیلامی کے چبوترے پر چڑھایا گیا ہو گا ۔اُسکی ڈھیروں خوبیوں کا اونچے اونچے اعلان کیا گیا ہو گا میمفس میں تو دھوم مچی ہوئی ہوگی لوگوں نے کبھی کا ہے کو ایسا چکا چوند کر دینے والا حُسن دیکھا تھا۔پر یہ کوئی کب جانتا تھا کہ وہ کیا ہے؟ اور جس کو خریدنے کیلئے امراء شہر کے ساتھ ساتھ وہ سوترکی اٹی والی عورت بھی اُسکے خریداروں کی صف میں شامل ہونے کیلئے آئی تھی اور جس نے گویا اپنا نام تاریخ میں درج کروایا تھا۔

سیاحوں کی ایک اور گاڑی آکر رُکی ۔بڑے صحت مند پلے ہوئے مردوزن اسمیں سے اُترے تھے۔

تصور کی کھلی آنکھ شہر کے بانکپن کو دیکھتی اور اُسکے تقدس کو سراہتی تھی۔اس میمفس نے پیغمبروں کے باپ ابراہیم اور انکی بیوی سارہ کو اپنی بانہوں میں سمیٹ کر خوش آمدید کہی تھی۔اِس سرزمین نے خود پر رشک کیا ہوگا جب حضرت مریم اپنے منّے سے عیسیٰ کو گودمیں لیے اُسے فلسطین کے بادشاہ کے غضب سے بچانے کیلئے اسکی دیواروں میں پناہ گزین ہوئیں ۔اور وہ بھی کیا سماں ہوگا جب بیٹے کی جدائی میں گریہ کناں باپ اور پیغمبر زمانوں کی ہجر سالی کے بعد اُسے ملنے آیا تھا۔میمفس تُو تو قابل رشک تھاتیرے ساتھ کیا ہوا؟ نیل نے بے وفائی کی توتُوتاب نہ لاسکا۔

میں جانتی تھی میرا دل میمفس آ کر کیوں بھاری بھاری ساتھا۔

میمفس کبقال آکر رُکے ۔ٹکٹ تیس 30 پاؤنڈ کا تھا۔چیکنگ خاصی سخت تھی۔

یہ جگہ ٹمپل پتاح کے سامنے تھی۔کبھی اس ٹمپل میں فرعونوں کی رسم تاجپوشی ہوتی تھی اور یہیں رعمیس دوم کے گلابی گرینائٹ پتھر کے بڑے بڑے مجسمے قطار در قطا ر پڑے تھے۔اُن میں سے دو باقی بچے ہیں ایک سٹیشن سکوائر پر فراعنہ کی عظمتوں کا علمبردار بنا کھڑا ہے اور دوسرا ہم اپنے سامنے دیکھ رہے تھے۔تیرہ میٹر اُونچا یہ اپنی شاہانہ عظمت اور دبدبے کے ساتھ زمین پر پڑا خوفناک دکھائی دیتا ہے۔اسکے بھر پور نظارے کیلئے سیڑھیاں چڑھ کراوپر گیلری میں آنا پڑتا ہے جہاں سے اسکا تفصیلی مشاہدہ ممکن ہے آخری حصہ ٹوٹا ہوا تھا۔پر کیا شے تھی ۔آرٹ کا ایک نادر شاہکار۔

گیلری سے ہی مجھے ایک سمت چھوٹی سی مسجد نظر آئی تھی۔فوراً اُتر کر میں اسکی طرف بھاگی سجدے نے جیسے آنسوؤں کا راستہ کھول دیا تھا۔ہاتھوں کو اُٹھا یا تو بچوں کی بجائے ماں وہاں بیٹھی نظر آئی تھی۔

کشادہ گراؤنڈ کو بہت سے حصوں میں تقسیم کیا ہوا تھا۔اتنے ڈھیر سارے مجسمے اور اُنکی تاریخیں میں انہیں ہاتھ ہلاتی خدا حافظ کہتی آ کر درختوں کے نیچے رکھی بینچ پر بیٹھ گئی ۔ثنا اور مہرالنساء ڈیکوریشن پیسز کی خریداری میں اُلجھی ہوئی تھیں۔

دفعتاًاُدھیڑ عمر کے ایک مصری نے میرے قریب آکر ثنا کیلئے کہا کہ وہ اُس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔

میں نے یکدم بھونچکی سی ہو کر اُسے دیکھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔

گراؤنڈ میں پھرتی ثنا کیطرف اشارہ کرتے ہوئے اُسنے اپنا مدعا صاف اور شستہ انگریزی میں دوبارہ دہرایا۔

اسمیں کوئی شک نہیں تھا کہ ثنا اپنی صبیح رنگت جاذب نظر نقوش اور دراز قامتی پر خوبصورت پہناووں کے ساتھ ماورائی سی شے نظر آتی تھی۔وہ ہر جگہ نظروں کے حصار میں ہوتی۔

پر یہ کیا۔

میرے تلووں لگی اور سر پر چھوٹی۔

حواسوں میں تو ہو اپنے ۔ میں نے ڈپٹ کر کہا۔

لڑکی حواسوں پر بجلی بن کر گری ہے اور وہ اُڑگئے ہیں ۔دیکھو میں یہاں کا امیر ترین آدمی ہوں یہ سامنے ہوٹل اور مکان سب میرے ہیں۔

ارے چولہے میں جائیں تمہارے ہوٹل اور مکان ۔تمہاری بیٹی کی عمر کی لڑکی ہے اور تم رال ٹپکانے لگ پڑے ہو۔چلو بھاگو یہاں سے۔

سچی بات ہے میں تو جیسے کھولتے کڑاھے میں گری پڑی تھی۔

مہرالنساء بھی آگئی تھی۔ اور یہ نئی رومانی سی صورت دیکھ کر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہورہی تھی۔مجھے غصے میں دیکھ کر بولی ۔

عجیب ہو تم بھی۔مزے لو ۔یہاں کونسا رشتے ناطے کرنے لگے ہیں۔

ٍٍ بات اسکی ٹھیک تھی۔ثنا بھی آگئی تھی۔اور یہ سب جان کر ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولی ۔

لو مصر میں کسی نے پروپوز بھی کیا تو ایسا بندہ شرمسارہو ہو جائے۔

سلطان عیسیٰ لسوڑے کیطرح چپک گیا تھا ۔بیوی کو طلاق دینے اور گھر ثنا کے نام کرنے پر بضد تھا۔اچھا چلو جان چھوڑو سوچیں گے ۔

ہمیں بھوک بے حال کر رہی تھی۔باہر نکل کر بلیو لوٹس ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتے ہوئے ہمیں میمفس جیسے شہر کی تباہ حالی پر دُکھ تھا۔دراصل یونانیوں کے ہاتھوں مصر پر قبضے اور اسکندریہ کی آبادی اور ترقی نے بھی اسے متاثر کیا تھا۔

باب نمبر:

قاہرہ قدیمہ

مسجد عمرو بن عاص۔ قلعہ صلاح الدین

مدرسہ سلطان حسن

دنیا کی شاید ہی کوئی قوم اپنے تہذیبی ورثے کی بنا پر اس درجہ اوج کمال پر پہنچی ہوئی ہو۔جیسے یہ مصری ۔صدیوں پرانے شاندار تمدّن کے مایہ ناز نمائندے شہروں شہروں پھیلے اسکے ہر شہر کو منفرد کرتے ہیں۔فراعنہ کا دور ہو۔یونانیوںرومیوں کا زمانہ ہو۔مسلمانوں کی مختلف نسلوں فاطمیوں ترکوں اورمملوکوں کے مختلف ادوار ہوںہر عہدنے اسکے شہروں کو کچھ نہ کچھ سوغاتیں دیں۔قاہرہ دنیا میں اپنے اہراموں کی بدولت اگر مشہور ہے تو اپنی اسلامی ثقافت کے جا بجا بکھرے رنگوں پر بھی نازاں ہے۔مسجدوں کا یہ شہر جس میں قدم دھرتے ہی میں نے روایتی مسلمان عورت کیطرح مسجدوں کی زیارتوں سے سیاحت کا آغاز کرنا چاہا تھا۔پر دونوں ساتھی فراعنہ کی یادگاروں میں جا گھُسی تھیں ۔اور جب میں نے اپنے غصے کا اظہار کیا تو فوراً بول پڑیں ۔

لو تو کیا ہوا۔بھئی کل کا سارا دن مسجدوں کی نذر۔

اللہ جانے اب یہ مصر کی سرزمین کا قصور تھا یا ہمارا بڑھاپا ہی بڑا ہنگامہ خیز ہو رہا تھا کہ چھوٹی چھوٹی ناکارہ سی باتوں پر پنگے لینے لگا تھا۔

شامت اعمال سے مہرالنساء کہہ بیٹھی پہلے امام شافعی کے مزار پر چلتے ہیں ۔میں جو دل میں فاتح مصر حضرت عمروبن عاص ؓ کی مسجد کو دیکھنے اور اسمیں نفل پڑھنے کیلئے دنوں سے مری جارہی تھی بھڑک ہی تو اٹھی ۔سڑک پر کھڑے کھڑے تھوڑی سی تُو تکار کی صورت پیدا ہوگئی۔

بہرحال ثنانے فوراً جلتی پر پانی ڈال کر اُسے بجھا دیا ۔نقشے کو دیکھنے پر احساس ہوا کہ دونوں مقام تھوڑے سے فاصلے پر ایک ہی جگہ پرانے قاہرہ میں ہیں۔

لوبھلا اب بندہ خود کو کیا کہے ہے نا وہی بات ساٹھے اور سٹھیائے۔

ٹیکسی نیل پر بنے غزہ برج کو کراس کرتی پورے شہر کے گرد بل کھاتی رنگ روڈ صلاح سلیم سٹریٹ پر پڑی اور وہاں سے گلی کوچوں کی سڑکوں پر ماردھاڑ کرتی منزل پر آرکی جامع قدرے نشیب میں واقع تھی۔سڑک اونچی ہوگئی تھی۔گرد وپیش ماٹھے لوگوں کا جان پڑتا تھا۔پھلوں کی ریڑھیاں سڑک پر گردش میں تھیں ۔

مسجد وسعت اور کشادگی میں بے مثال ہے۔سادگی کا مرقع ہے۔فانوسوں کے درمیان ستونوں پر گنبد والی چھت کے نیچے وضو کیلئے اہتمام تھا۔

کشادہ صحن میں سے گزرتے ہوئے خواتین کیلئے مخصوص حصے میں چلے گئے ۔چند نوجوان لڑکیاں لکھنے پڑھنے میں مصروف تھیں ۔دو کے قریب جا کر بات کی تو ہنسی آئی Business Correspondance جیسی موٹی کتاب میں سے پوائنٹس نکل رہے تھے پر انگریزی کا ایک لفظ بولنا نہیں آتا تھا۔آخری کونے میں بیٹھی تین لڑکیاں جیسے گلاب کے تازہ کھلے پھول قریبی محلے میں گھر چھوٹا اور افراد خانہ زیادہ ہونے کی وجہ سے مسجد میں پڑھنے کیلئے آتی تھیں ۔کالج کی طالبات تھیں ۔یہ لڑکیاں ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں اپنا مفہوم واضح کرنے کے قابل تھیں ۔

مردانہ اور زنانہ حصّے میں سُرخ قالین بچھے تھے۔ زنانہ حصّے کے قالین کچھ خستگی کا شکار تھے۔ تاہم ٹانگیں پسار لینے میں کیا ہرج تھا۔ تھوڑی سی تھکن دور ہونے کا احساس ملتا تھا۔ اطراف میں بنی الماریوں میں قرآن پاک کے نسخے اور دینی کتابیں موجود تھیں۔ مہرالنساء نے وہاں سے قرآن پاک نکال کر تلاوت شروع کر دی تھی میں تھوڑی دیر سستانے کے بعد عقبی حصّے میں گئی۔ وضو کیااور جب نفل پڑھتی تھی تو خیال آیا کتنی عظیم ہستیوں نے اِس مسجد میںسجدے کیے ہونگے ۔یہ جس جگہ میں ماتھا ٹیک رہی ہوں کیا معلوم عین اسی جگہ حضرت ابوذر غفاریؓ اور حضرت ابو عبیدہؓ میں سے کسی کا سجدہ یہاں ثبت ہو۔

اے میرے اللہ تو مجھے اپنی اُن محبوب ہستیوں کا ساایمان دے ۔(امین)

ستون سے ٹیک لگاتے ہوئے میں نے ٹانگیں پسار لیں اور چوبی پردے میں بنے سوراخوں سے باہر صحن میں دیکھا۔میرے سامنے تاریخ کا وہ درویش جرنیل عمروبن عاص تھا بیبلونBABYLON ( پرانے قاہرہ کا ابتدائی نام ) پر قبضے اور پھرپینتیس سو 3500 گھڑ سوار مجاہدوں کی ہمراہی میںا سکندریہ میں رومنوں کی شکست فاش کے بعد اِن اشعار

آئے شان تہوّر دکھاتے ہوئے گئے نصرت کا پرچم اُڑاتے ہوئے

کے ترجمان بنے واپس آکر فسطاطFUSTAT ( ماڈرن قاہرہ کے عین جنوب میں واقع علاقہ) کو اپنا دارالخلافہ قراردیتے ہیں۔عرب سے باہر دنیا کی پہلی مسجد کی تعمیر کیلئے جگہ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔یہیں اس کشادہ صحن میں مجاہدوں کا ایک ہجوم ہے۔کتنے بے شمار روپ ہیں انکے جوایک کے بعد ایک نگاہوں میں فلمی مناظر کیطرح اُبھرتے چلے آرہے ہیں ۔یہیں آس پاس اُنکے رہائشی حجرے بھی ہونگے اب ایسا کچھ موجود نہیں۔عقبی حصّوں میں عمدہ باتھ روم ہیں۔آنکھیں گیلی سی ہوگئی ہیں۔

کبھی یہ تاریخ کا روشن باب تھا۔اور ایک آج کا باب بھی ہے جسکی ہر سطر اور ہر ورقہ بے بسی وبے کسی اور ذلالت وخجالت کی سیاہی میں لُتھڑا پڑا ہے۔

ساری مسجد میں گھومے پھرے ۔مردانہ حصے میںبھی نوجوان لڑکے کتابوں کے مطالعہ میں محوتھے لڑکے سائنس کے طالب علم تھے۔

مجھے یہ سب بہت اچھا لگا تھا۔کیوں نہ ہو ماضی حال میں سرایت تو کرتا ہے۔زمانوںپہلے یہ مسجد اسلامی یونیورسٹی رہی۔پر ہم کتنے کوتاہ بین ہیں کہ مسجد یں عورتوں کیلئے شجر ممنوعہ بنادی گئی ہیں۔ خدا کا شکر ہے مصر میں ایسا نہیں تھا۔

باہر آہ وبکا اور ماتم بینوں سے پُر ایک منظر دیکھنے کو ملا۔سیاہ چوغوں اور سیاہ رومالوں میں لپٹی عورتیں جسطرح کھلے عام ماتم کر رہی تھیں وہ بڑا تعجب انگیز تھا۔ اور اس سے بھی زیادہ تعجب انگیز میرے لیے ہیروڈوٹس کی وہ تحریر تھی جو اس منظر کے ساتھ ہی میرے یاداشتوں میں اُبھر کر صدیوں پہلے اور آج کا تقابل کرتی سامنے آ گئی تھی۔

جب کوئی مصری مرتا تو اس کے گھر کی عورتیں سیاہ لبادوں میں شہر بھر میں ماتم کرتی اور بین ڈالتی پھرتی تھیں۔

تو میرے سامنے من و عین وہی صورت تھی۔ ماتم تھا۔ بین تھے اونچے اونچے رونا دھونا تھا۔

کچھ دیر افسردگی سے یہ سب دیکھتے رہے اور پھر میں اپنے آپ سے یہ کہتے ہوئے چل پڑی کہ وقت چاہے جتنی مرضی چھلانگیں مارتا ہوا آگے آ جائے ماضی کہیں نہ کہیں اپنا کوئی عکس ضرور ظاہر کرتا ہے۔

قہوے اور حقّہ پینے کی دوکانیں سجی ہوئی تھیں ۔سوچا کہ چلو شیشہ گری تو نہیں کر سکتے قہوے کو ہی لطف جان اور شامل جان کرتے ہیں۔

پھر بلک محلہ میں جا گھُسے ۔غریبوں کا محلہ تھا۔چھوٹے چھوٹے گھر سوکے کی ماری گلیاں۔گیند بلاّ کھیلتے ننگ پیرے لڑکے بالے۔دروازوں سے جھانکتے خوبصورت چہروں والی لڑکیاں وہی ہمارے اندرون لاہور والے منظر تھے۔ ایک چھوٹے سے گھر میںچلے گئے۔گھر جو ایک بیٹھک پر مشتمل تھا۔جس میں محبت اور پیار کے شیرے میں لُتھڑی ایک ایسی فیملی جو بہوحنا بیٹے عمرو شوہر محدوس اور پوتے شعید پر مشتمل زندگی کی گاڑی کو کسِ دشواری سے گھسیٹ رہی تھی۔عمرو کو انگریزی کی شُد بدھ تھی۔

حسنی مبارک سے لوگ خوش نہیں ہیں۔اب وہ اپنے بیٹے کو تیار کر رہا ہے۔ اُسنے اپنی معلومات سے فوراً ہمیں مستفید کیا۔

مگر لوگوں میں احتجاج کا عنصر نہیں پایا جاتا۔کتنے دنوں سے ہم قاہرہ میں پھر رہے ہیںکہیں کوئی جلوس کوئی جلسہ کوئی ہنگامہ کوئی ردعمل کوئی توڑ پھوڑ ۔لوگ پر سکون بہتی ندی کیطرح آج میں رواں دواں ہیں۔

مسائل لوگوں کو سراٹھانے نہیں دیتے ۔ جواب ملا تھا۔

زمانہ قدیم کی مصری قوم نہایت باشعور ۔پر جدید قوم سیاسی بصیرت اور سیاسی عمل سے بہت حد تک لا تعلق ۔ملک میں یک جماعتی نظام لوگوں کی محدود سیاسی سوچ کا عکاس ہے۔ میں نے اپنے تاثرات کو زبان دی تھی۔

بڑا سمجھدار لڑکا تھا۔تڑسے بول اٹھا تھا۔

اُنکا سارا شعور اور ذہانت آرٹ اور دیگر شعبوں میں تھی۔وہ فرعونوں کے غلام تھے۔عصر حاضر کے لوگ صدور کے غلام ہیں اور روٹی پانی میں اُلجھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے بہتیرا چائے پانی کیلئے زور مارا پر ہم مانے نہیں ۔باہر نکلے۔ تین چار راہگیروں نے تو یہ کہا کہ بس تھوڑا ساہی دور ہے امام شافعی کا مزار ۔پر ہم نے اعتبار نہ کرتے ہوئے ٹیکسی لے لی ۔اور اچھے ہی رہے ۔اتنا بھی نزدیک نہیں تھا یا پھر ٹیکسی والے کی گھمن گھیریاں تھیں۔

بڑا خستہ حال محلہ تھا جہاں وہ عالم دین استراحت فرما تھا۔تنگ تنگ سی گلیاں پرانے شکستہ سے مکان میلے کچیلے چلتے پھرتے بچے سروں کو ڈھانپے سینوں کو ابھارے مصری عورتیں ۔مسجد بند تھی۔مزار کھلا تھا اور لوگوں کے پُرے آنگن اور مزار کے اندر نظر آتے تھے۔منگتو ں کا حال ہمارے جیسا ہی تھا۔

مزار کا اندرونی حصہ کبھی بہت شاندار اور پُر وقار ہو گا پر اب خستگی سے دوچار تھا۔ مجھے پتہ نہیں دلّی میں حضرت نظام الدین اولیاء کا مزار کیوں یاد آگیا تھا۔مجاوروں کا ٹولہ وہاں بھی ہمارے آگے پیچھے تھا۔اور یہی صورت یہاں تھی۔

صفائی کا ناقص انتظام ۔ایسا جلیل القدر عالم اور اتنی عزت افزائی ۔

یہ مسلمانوں کی بے حسی کی انتہا ہے چلو دلّی میںتو ہم نے خود کو یہ کہہ کر تسلی دی تھی کہ آپ غیر مسلم حکومتوں سے کیا توقع کر سکتے ہیں۔پر یہاں کیا کہتے۔

فاتحہ پڑھی ۔ایک طرف جاکر نفل ادا کیے۔فلسطین کے گاؤں اسقلان میں پیدا ہونے والے ابو عبداللہ محمد بن ادریس الشافعی کی تعلیم وتربیت مکہ اور مدینہ میں ہوئی ۔آپکو امام مالک کابہترین شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔کچھ وقت بغداد میں رہے پھر مصر آگئے اور یہیں درس وتدریس کے سلسلے کا آغاز کیا۔اور یہیں وفات پائی۔

Southern Necoropolis یا دوسرے لفظوں میں City of the Dead قاہرہ کے خاموش مکینوں کا وہ علاقہ ہے جو مقطم پہاڑی کی چوٹی سے قاہرہ قدیم تک پھیلا ہوا ہے۔امام شافعی کے مزار سے نکلے تو میں نے چاہا کہ چلو ایک نظر اسے دیکھتے ہیں۔بہت سی برگزید ہ ہستیاں یہاں موجود ہیں ۔انکے لیے دعائے خیراور فاتحہ پڑھ لیتے ہیں۔پر دونوں نے ایڑی نہ لگنے دی۔

آگے بڑھو زندگی کی طرف ۔ہمیں نہیں جانا وہاں ۔کورا چٹا جواب تھا۔چپ چاپ ٹیکسی میں بیٹھ گئی۔

] قاہرہ کی مساجد میں سے 876ئاور 879ء میںبنائی جانے والی اپنے منفرد طرز تعمیر کی بنا پر جامع طولن TULUN خاصی شہرت رکھتی ہے۔جاہ وجلال والی مسجد تھی۔کہا جاتا ہے کہ عراق کی سمارہ SAMARRA مسجد کے ڈیزائن پر ہے پر مجھے تو اسمیں استنبول کی مسجدوں کی جھلک جھانکتی نظر آئی تھی۔بے حد وسیع بجری والا صحن جس میںچلنے کیلئے سنگ مرمر کی روشیں بنائی ہوئی تھیں۔پر مسجد میں ویرانی تھی۔اور یہ ویرانی تکلیف دہ تھی ۔صفائی ستھرائی کا انتظام بھی ناقص ہی تھا۔بہر حال ہم نے تو سر جھکایا اور زمین پر لگایا اور اوپر والے سے یہ بھی کہا کہ گواہ رہنا۔بڑے تیر مار رہے ہیں۔

ثنا نے گولائی میں لپٹی سیڑھیوں سے اوپر مینار تک جاکر تصویریں بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔پر نگران نے بتایا کہ تالا لگا ہوا ہے۔

چلو صلاح الدین کا قلعہ دیکھتے ہیں ۔نقشے نے ہمیں بتایا تھا کہ ہم قریب ہی ہیں سڑک سے قلعے کے بیرونی گیٹ تک سرخ اینٹ کا کشادہ راستہ خاصی چڑھائی والا ہے۔داہنے ہاتھ سر سبز لان ہے۔ قلعہ تاریخی اہمیت والی مقطم پہاڑی پر بنا ہوا ہے۔گیٹ کے پاس پہنچ کر میں نے تعاقب میں دیکھا۔ نیچے نیلگوں دھوئیں کے غبار میں لپٹا قاہرہ بکھرا ہواتھا ۔پُل پرٹریفک کا اژدہام مار دھاڑ کرتا گولی کی مانند رواں دواں تھا۔قلعے کی عمارت مٹی رنگے پینٹ سے مزّین تھی۔سچی بات ہے اِسے دیکھ کر مجھے تو گاؤں کی سگھڑ گرہستنو ں کے وہ گھر یاد آئے تھے جنہیں چھپڑوں (گاؤں کے باہر پانی کے بڑے تالاب ) کی چکنی مٹی سے پریت سے لیپا پوتا گیا ہو۔

] ٹکٹ لیکر اندر داخلہ ہوا ۔تعمیر تو اسکی صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں ہوئی تھی بعد میں صدیوں تک یہ مصر کے حکمرانوں کی رہائش گاہ رہا۔پھولوں کے گول قطعوں ۔سرسبز لانوں دائیں بائیں کاٹتی خوبصورت روشوں ۔کھجور کے درختوں اور اطراف میں بنی کوٹھڑیوں سے سجا نظر آیا تھا۔عجیب سی بات تھی۔نہیں یہ غلط ہے۔عجیب سی کیوں ایسا ہونا تو فطری امر تھا۔میں قلعے کی اِس فضا میںآتے ہی اُس ٹرانس میں آگئی تھی جو تاریخ اسلام کے اُس جیالے شہ زور بے مثل خوبیوں کے حامل کرُد سپہ سالار سے میری زمانوں پرانی محبت عقیدت اور محبوبیت پر مبنی تھا۔ میں سر سبز گھاس پر بے اختیار بیٹھ گئی تھی۔ بظاہر چمکتی دھوپ میں اِن خوبصورت منظروں پر نظریں جمی تھیں۔ پر ذہنی دریچوں کے پٹ کھلتے جاتے تھے اور سریر جذب و آگہی میں بھیگتا جاتا تھا۔

اور اگر ہم خدائے بزرگ و برتر کی مدد سے اکیانوے 91 برس تک دشمنوں کے قبضے میں محصور بیت المقدس کو آزاد کروانے میں کامیاب ہوئے تو سوچو یہ خدا کا ہم پر کتنا بڑا احسان عظیم ہو گا۔ یہ مقدس ترین مقام قوموں کا قبلہ اوّل پیغمبروں کے نقش پا کا امین اتنے سالوں کفر اور شرک کا مسکن بنا رہا یہاں ایک دن بلکہ ایک لمحہ کے لیے بھی خدائے واحد کی عبادت نہیں ہوئی۔

وہ رُکا ۔ اُس نے اپنے سپاہیوں کو جو اُسے محویت سے سُن رہے تھے پر ایک نظر ڈالی اور بولا۔ گاڈ فری اور ریمنڈ بیت المقدس کے فاتحین نے پوپ کو جو خط لکھا تھا اُس کے الفاظ تھے۔

ہمارے گھوڑے رواق سلیمان اور گنبد کے نیچے مسلمانوں کے ناپاک خون میں گھٹنوں گھٹنوں تک نہاتے ہوئے چلے تھے۔ اوریرون کے پہاڑ ان کی چیخوں سے گونج رہے تھے۔

اور وہ جمعہ کا دن تھا جب فتح و نُصرت کا ہما اُس کے سر پر بیٹھا۔ بیت المقدس کی چھُپی ہوئی محرابیں نکالی گئیں اور مسجد کو عرق گلاب سے غُسل دیا گیا۔ وفورشوق سے اُس کاچہرہ تمتماتا تھا جب اُس نے نماز جمعہ کی ادائیگی کی۔

پھر وہ اپنے دست راست اور بھائی عادل سے مخاطب ہوا۔

بیت المقدس کو فتح کرنا میرا خواب تھا۔ اور معافی میرے رسول کا شیوہ ۔

وہ تخت پر بیٹھا۔ درِ داؤد کو کھُلا رکھا گیا ۔ باقی دروازے بند کر دئیے گئے۔ پادریان آئے یروشلم کی ملکہ نائیٹس کے ہمراہ آئی۔ عورتیں اور بچے داخل ہوئے ۔ عورتیں شوہروں کے پاس بچے ماؤں کے پاس۔ اُس نے تمام مصیبت زدوں پر رحم کیا۔ جزیہ کے بدلے رہائی ہوئی۔

بیت المقدس کی فتح وہ تھی جس نے گویا یورپ کے ہر گھر میں صف ماتم بچھایا۔ عیسائی دنیا رنج والم کی گھاٹیوں میں گری۔ لوگوں نے اسے غمِ ذات سے بڑھ کر غم جانا۔

ولیم آرچ بشپ آف ٹائر مشرق سے آہ و زاریاں کرتا یورپ آیا۔ کنگ رچرڈ اور فلپ آگسٹس فرانس اپنی پرانی دشمنیاں بھول ایک دوسرے کے گلے لگ کر زار زار روئے۔

نائٹس اور بشپوں نے ارض مقدس چھڑانے کی قسم کھائی اور Saladin Tenth کے نام سے ٹیکس کا اجرا کیا۔ ٹیکس صلاح الدین جو ادا نہ کرے وہ دائرہ عیسائیت سے خارج ۔

تاریخ میں ایسی ناموری کسی کو کہاں نصیب ہوئی۔

اس تیسری اور سب سے بڑی صلیبی جنگ میں پورا یورپ اُس کے مقابلے پر ایشیا آ پہنچا تھا۔ جسے اُس نے اپنی جنگی فہم و تدبر اور خدا کی نظر عنایت کے سہارے عبرت ناک شکست سے دوچار کیا ۔ یورپ خاص طور پر جرمنی اپنی بہترین فوجوں اور جرنیلوں سے محروم ہوا۔ چھ لاکھ کروسیڈرز آئے اور ایک لاکھ واپس گئے۔

تاریخی سچائی صرف اتنی سی ہے کہ قدرت نے اُس کی تخلیق ہی خاص مقصد کے لیے کی تھی۔ چند گھنٹوں کی شب بسری خیمے میں، دن گھوڑے کی پیٹھ پر اور زندگی میدان جنگ میں جہاد فی سبیل اﷲ کے عشق میں ۔ تو یہ تھی وہ ہستی اسلام اور مسلمانوں کی عظمت گم گشتہ کو زندہ کرنے والی۔

بہت سے آنسو رخساروں پر بہہ گئے۔

بوسنیا کے مسلمان سرب عیسائیوں کے ہاتھوں ۔ چیچنیا ، فلسطین اور کشمیر کے مظلوم مسلمان کسی صلاح الدین ایوبی کے انتظار میں ہیں۔

پروردگار عالم اسلام کی مائیں کیا اب بانجھ ہو گئی ہیں کہ ایسے جیالوں کی پیدائش خواب بن گئی ہے۔

قلعے میں ایک کنواں بھی ہے چاہ یوسف۔پتھریلی زمین میں کھدا ہوا بالکل گول۔پانی نہیں تھا اب ۔شاید کبھی ہو۔یہ وہ کنعان والا چاہ یوسف نہیں جہاں اُنکے بھائیوں نے انہیںپھینکا تھا بلکہ حضرت یوسف نے زمین کی سیرابی کیلئے ایسے بہت سے کنوئیں اور نہریں نیل سے نکلوائی تھیں۔ قلعے کی بلند ترین جگہ پر مسجد محمد علی قاہرہ کی قابل دید جگہوں میں سے امتیاز ی نشان رکھتی ہے ۔ محمد علی پاشا کے دور میں بننے والی اِس مسجد کا ڈیزائن کار یونانی ماہر تعمیرات یوسیف بوبجنا تھا جو استنبول کی ایا صوفیا سے متاثر تھا۔مسجد کے محراب دار برآمدے اسکے ستون دروازے اور اندرونی حصے کی زیبائش وہی لوہے کی گول دائرے میں بنی چین سے لٹکتے کرسٹل کے شینڈلیئرز میناروں کا نوکیلا سٹائل جیسے ابھی کہیں میزائل داغنے کیلئے پرواز کو تیار کھڑے ہوں۔

سرخ قالینوں سے سجا فرش اور چھت کے گنبد کی حسین نقش ونگاری اگر میں نے استنبول کی مسجدیں نہ دیکھی ہوتیں تو شاید میں گھنٹوںبیٹھ کر اسکی تزئین کاری کو دیکھتی ۔وضو کیلئے فوارہ اور اسکی چھت دونوں قابل دید تھے۔چھت کے بڑھے ہوئے اُفقی شیڈوں اور حوض دونوں کی نقش ونگاری لاجواب۔ صحن کشادہ اور خوبصورت تھا۔حوض کے مغربی جانب تنا کھڑا کلاک ٹاور اپنی ساخت اورر نگ آمیزی کے باعث بہت دیدہ زیب ۔ بالائی جھروکوں اور درمیانے حصے کو تابنے کی میناکاری اور سجاوٹ سے مزّین کیا گیا ہے ۔اسکی پیشانی پر چمکتا کلاک محبت کاوہ اظہار یہ ہے جو محمد علی پاشا کو فرانس کے شہنشاہ لوئس فلپ نے بھیجا تھا۔

صحن میں کھڑے ہوکر ایک نظر گردوپیش پر ڈالی ۔تو پورا قاہرہ قدموں میں بچھے اُس خوبصورت قالین کیطرح نظر آیا تھا جس پر بلند وبالا عمارات کسی ڈیزائن کی صورت کاڑھی ہوئی ہوں۔ ایک طرف صلاح الدین سکوائر کی پُر رونق گہما گہمی سے بھری پرُی سڑکیں ۔چوک کے فواروں میں اُچھلتا ناچتا پانی ۔ مٹیالے رنگ کی خوبصورت مسجدوں کے مینار ۔دوسری طرف شہر خموشاں کی ویرانیاں تھیں۔نیل موٹی سی لکیر کی مانند نظر آتا تھا۔

یہ محمد علی پاشا البانوی نژاد اُس فوجی دستے میں ایک معمولی سپاہی تھا جو مصر کو نپولین کے قبضے سے آزاد کروانے یہاں آیا تھا اور جسے سلطنت عثمانیہ کا آشیرباد حاصل تھا۔وہ پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا حامل ذہین انسان تھا۔اپنی جنگی فہم وفراست کی بنا پروہ جلد البانوی دستوں کا کمانڈر بن گیا ۔اور 1805ء میں مصریوں نے جب ولی خورشید کے خلاف بغاوت کی تو اُس نے حددرجہ ہوشیار ی سے مصر کی حکومت کا چارج سنبھال لیا۔یہ شاہ فاروق کا پڑ دادا تھا۔مسجد میں سیاحوں کی ریل پیل تھی۔مسجد کا تقدس بھی بے چارہ انکے ہاتھوں پامال ہورہا تھا۔کہ کچھ ننگی ٹانگوں اور ننگے سروں کے ساتھ مٹر گشت کر رہی تھیں ۔کوئی روک ٹوک اور پوچھنے والا ہی نہ تھا۔ جب مغرب والے اتنے دیدہ دلیر تھے تو بھلا مشرق والوں کو کُتے نے کاٹا تھا کہ وہ خود پر پابندیاں لگاتے۔

میں نے مسجد کا ایک کونہ منتخب کیا ۔پہلے نماز پڑھی پھر ٹا نگیں پسار کر لم لیٹ ہوئی ۔اللہ کیا سکون ملاتھا۔بیچاری ٹانگوں کا پلیتھن ہوا پڑا تھا۔

تھوڑی سی اُونگھ آگئی تھی۔آنکھ کھلی تو مہرالنساء بھی استراحت کے مزے لوٹ رہی تھی سچی بات ہے اتنے سے آرام نے تازہ دم کردیا تھا۔

مسجد سے داخلی دروازے کے دائیں ہاتھ محمد علی پاشا کا مقبرہ تھا۔یہ مسجدوں کے ساتھ مقبروں کی روایت بھی مصر میں ہی دیکھنے کو ملی تھی۔بہر حال سفید سنگ مرمر کا مقبرہ نفیس نقش ونگاری سے سجا ہوا آنکھوں کو خوبصورت لگا تھا۔فاتحہ پڑھی اور باہر آگئے۔

سڑک تک آتے آتے مہرالنساء کی بڑبڑاہٹ آسانی سے سُنی جاسکتی تھی۔سویرے سے مسجدوں میں ہی پھنس گئے ہیں۔پہلے تو اچھا سا کھانا کھانا ہے دوسرے اب مسجدوں میں نہیں گھُسنا۔

انکی سنو۔کوئی پوچھے کھِے کھانے آئے ہیں مصر اگر کچھ دیکھنا نہیں ۔مسجد سلطان رفیع اور مسجد زینب دو ہاتھ پر تو ہیں۔خوبصورت اور عہد ساز سلطان مدرسہ اور مسجد ارے بابا اتنے تو گنہگار ہیں۔کہیں سجدہ کہیں دُعا شاید کچھ قبولیت پاجائے۔

پرمیں نے زبان کو تالا لگائے رکھا ۔جانتی تھی کہ وہ اگر پٹڑ ی سے اُتر گئی تو دوبارہ ٹریک پر لانا مشکل ہوگا۔

اب مہرالنساء کے کھانے کی تلاش میں جو خواری ہوئی اسکی بیان بازی کیا کروں۔ میکڈونلڈز تو پھر بھی کہیں نظر نہ آیا۔فلافل تو اپنی گرما گرم کڑاھیوں میں تلنے کے باعث دعوت طعا م دے رہا تھا۔اب اسکا کیا علاج کہ ہمارے نصیبوں میں اسکا کھانا نہیں لکھا تھا۔چلو پیزہ کی ایک دوکان نظر آئی پیٹ پوجا ہوئی۔

صلاح الدین سکوائر قاہرہ کا مصروف ترین علاقہ تھا۔مسجد سلطان حسین اور مسجد الرفیع دونوں ہم نے دیکھیں ۔ایک میں نفل پڑھے دوسری میں عصر کی نماز ادا کی۔ 1365ء اور 1363ء کے دوران بننے والی سلطان مسجد اسلامی طرز تعمیر کا بہترین نمونہ تھی ۔یہ ترک سلطان الناصرحسین کے مصر کے دور حکومت کی یادگار ہے۔جسکی تعمیر کا آغاز گو سلطان کے ہاتھوں ہوا پر تکمیل بشیر آغا نے کی جو اسکے شہزادوں میں سے ایک تھا۔مدرسے کی عمارت اب شکستگی سے دوچار تھی پر کبھی یہ بڑی عظیم الشان ہوگی۔وسیع وعریض صحن میں کھڑے ہوئے میں نے سوچا تھا کتنے لاکھوں ذہنوں نے یہاں سے جلا پائی ہو گی۔

اے مدرسو! اے علم کے خزانو! کبھی تم میں ہم میں بھی راہ تھی تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو آج تم مطعون ہو۔باعث شرمساری ہو۔ تنگ نظری کی علامت ہو۔ قصوروار کون ؟

 

 

الرفیع مسجد کے میناروں کو دیکھتے ہوئے مجھے بے اختیار قطب مینار یاد آیا تھا۔ مسجد کے میناروں کی اتنی باریک کندہ کاری مجھے اُس سے بہت مشابہ نظر آئی تھی۔ مہرالنساء اگر اہلِ تشیع سے ہوتی تو مجھے اُسکا حضرت زینبؓ کے مزار پر دیر تک بیٹھنے کا جواز سمجھ میں آتا ۔ وہ مزار سے شہد کی مکھی کیطرح چمٹی ہوئی تھی۔آنکھیں بند کیے خضوع میں ڈوبی جانے کن گھمن گھیریوں میں اُلجھی ہوئی تھی۔

باب نمبر:

۸قاہرہ سے لُکسر تک

قاہرہ میرے گلے میں اسی طرح پھنس گیا تھا جیسے چھچھوندر سانپ کے گلے میں کہ جسے نہ اُگلے بنے اور نہ نگلے

چلو غزہ ، اسقارہ میمفس اہرام فراعنہ اور ابو الہول کے مجسموں اور اُنکی لمبی چوڑی ثقیل سی تاریخ کے ساتھ تھوڑے بہت ہضم کیے۔ پر قاہرہ کے وجود پر شریانوں کی طرح پھیلے بازار مسجدیں اور جا بجا بکھرے اسلامی تہذیب کے نشاں اُس پر طرّہ قاہرہ قدیم کے محلے گلیاں اُن میں سر اُٹھائے پُرانی عمارات اور اُن سے وابستہ ہر ایک کے ساتھ تاریخی داستانیں ہو نکانے اور سانس پھلانے کے لیے بہت کافی تھیں۔

دن بھرکی خجل خواری کے بعد جونہی ہم نے انڈیانہ ہوٹل میں قدم دھرے ثنا نے اپنے خوبصورت مخروطی ہاتھ بنتی کے انداز میں جوڑ کر میری ناک کی پھنگی سے مس کرتے ہوئے دھیمے سے تنبیہی انداز میں کہا۔

آنٹی خدا کے لیے ہسٹری کے اس پٹارے کو بند کر دیجیے۔ حشر ہو گیا ہے۔ قاہرہ کی سڑکوں زیر زمین ٹرینوں بسوں ویگنوں اور ٹراموں نے رول دیا ہے۔ کروز کاپیکج لیجیے۔ نیل کی نیلگوں لہروں پر چند دن کی یہ عیاشی بہت ضروری ہے۔

چلو صبح دیکھیں گے ۔

میں نے بدقت جوتے اُتارے اور بستر پر گرتے ہوئے کہا ۔

تو پھر یہ طے تھا کہ آج ہر صورت کروز کے لیے صحرا نوردی ہو گی۔ ہوٹل کو چھوڑنا تھا۔ سامان کو کہیں ٹھکانے لگانا تھا۔ ہوٹل کے مرکزی دروازے سے قدم باہر نکالنے کی دیر ہوتی تھی کہ ٹیکسی ڈرائیوروں کے پُرے شہد کی مکھیوں کی طرح ہم پر حملہ آور ہو جاتے تھے۔ اس بھاؤ تاؤ میں ہمارا ہاتھوں کو نفی میں ہلاتے آگے ہی آگے بڑھتے چلے جانا اور اُن کا ہمارے پیچھے دوڑتے آنا تقریباً روز کا معمول تھا۔ ہم نے بھی قسم کھا رکھی تھی کہ پانچ مصری پاؤنڈ سے تین اور چار پر تو آنا ہے چھ پر ہرگز نہیں جانا۔

تحریر میدان میں پہنچ کر ہم نے اب ٹریولز ایجنٹوں کی دوکانوں کے بورڈ پڑھنے شروع کیے۔ پوچھتے پوچھاتے کھوجتے ایک دوٹورز کے پیکج اور پیسوں پر انہیں ردّ کرتے بالآخر مصری میوزیم کے بالمقابل مریٹہ باشا سٹریٹ Maritta Basha Street پر Othman Tours کے اندر جا دھمکے۔

گرینڈ پرنسس کا ایک سو نوے ڈالر کا پیکج۔ قاہرہ سے لُکسر تک ٹرین لُکسر سے آگے اسوان تک تین راتیں اور چار دن کا کروز پر قیام۔ جا بجا قابل دید مقامات پر ٹھہراؤ کے ساتھ ساتھ رنگین اور ہوش ربا پروگراموں کی تفصیل اور تصویروں سے سجا کتابچہ دیکھ کر سوچا۔

چلو ذرا غریبانہ سے اندازِ سفر کو شاہانہ رنگ دے کر بھی دیکھتے ہیں۔

اور ایک سونو ے ڈالر فی کس کے پیکج پر مُک مُکا ہو گیا۔

چلو اب تیاری کر و کہ روانگی اسی دن شام کوتھی۔

ہوٹل جا کر لُکسرکیلئے ساتھ لے جانے والا سامان الگ کیا۔بقیہ کیلئے پیکج والوں سے بات کر بیٹھے تھے کہ ہمارا سامان سنبھالنے کی انکی ذمہ داری ہوگی۔سو وہ لے جا کر Othman Tours والوں کے متھے ماراکہ ہماری واپسی تک اپنے کسی سٹور میں ٹھکانے لگا دیں ۔

چار بجے آفس میں پہنچنے کی تاکید ہوئی کہ پانچ بجے گاڑی کی لُکسر کے لیے روانگی تھی۔ اس عمل سے فراغت کے بعد جب کمر سیدھی کی تو محسوس ہوا کہ پیٹ بھوک کی شدت سے بلبلا رہا ہے۔ ناشتے پر دوپہر کے کھانے کی بچت کا خیال کرتے ہوئے جس جس انداز میں ٹھونسا ٹھونسی ہوئی تھی اُن سب پر پانی پھرا ہوا تھا۔ وقت بھی ایک بجے کا تھا۔

سوچا قریب ہی کہیں کھانا پینا ہو۔ نماز کی ادائیگی کے ساتھ مسجد میں تھوڑا سا آرام بھی مل جائے اور واپسی میں بھی سہولت رہے۔ بس تو تحریر سٹریٹ میں ہی سبھی کچھ مل گیا تھا۔ فلافل، مسجد اور آرام۔

قاہرہ اسٹیشن کی عمارت بڑی گرنڈیل قسم کی تھی۔ گردن کو پُشت کی جانب دہری کرکے آنکھوں کو تب کہیں اس کی چھت نظر آتی تھی۔

صفائی ستھرائی لوگوں کے اژدہام اور بھاگ دوڑ میں افراتفری کا سماں اُنیس اکیس کے فرق کے ساتھ بڑی مانوسیت لیے ہوئے تھا۔ گاڑیوں کی حالت بھی بس وطنی سی تھی۔

ارے انکے ساتھ کیا مرنا ہے۔ سویز کی آمدنی تیل کے ذخائر اور سیاحت اتنا پیسہ کیا کرتے ہیںیہ۔ سوچیں تھیں کہ دماغ میں گھُسی چلی آ رہی تھیں۔

گاڑی کا کوپہ تین نشستوں کے حساب کتاب کے ساتھ ایک لمبی سی سیٹ پر مشتمل تھا آگے تھوڑی سی جگہ خالی اور دروازہ ندارد۔

چلیں ٹکٹ سنبھالیں اور بیٹھیں۔

پیکج والوں کے لڑکے نے خدا حافظ کہا اور گاڑی سے نیچے اُتر گیا۔

] معلوم نہیں خدا نے کتنے شوموں کی تخلیق روک کر ہمیں بنایا ہو گا۔ مہرالنساء اکیلی جان ناک ناک تک پیسے میں لُتھڑی ہوئی مجھے بھی چارہاتھ پیچھے چھوڑ گئی تھی۔جس وقت ہم پیکج والوں سے برتھ والی ٹرین کی بات کرتے تھے اور اُس نے یکسر انکاری ہوتے ہوئے کہا تھا۔

190ڈالر میں فرنچ ٹرین کی سیٹ ناممکن ۔اُس کا کرایہ بہت زیادہ ہے۔

اُسنے بہت زیادہ کو لمبا سا کھینچ کر کہا۔ اور ہمیں دیکھیے کہ بہت زیادہ کا سُن کر یہ تک پوچھنے کی زحمت نہیں کی کہ بھئی آخر کتنا زیادہ۔ مہرالنساء بھی گُگو بنی بیٹھی رہی۔ لو اب مزے چکھو۔

مجھے بھی تپ چڑھی۔ پر کب؟ جب چڑیاں کھیت چُگ گئی تھیں۔

ٹرین اپنے وقت پر چلی۔ پر عجیب کسمپرسی کا سا عالم تھا۔ باتھ روم کی حالت بھی ناگفتہ بہ۔ ڈائننگ کار کا یقیناً کوئی وجود نہیں تھا۔ کولڈ ڈرنکس کے جھن جھن چھُن چھُن کرتے ٹھیلے بھی کہیں نہیں تھے۔ کھانے پینے کی اشیاء بیچنے والے ہاکروں کی آوازوں کو سُننے کے لیے کان ترس رہے تھے۔

ہائے ہماری گاڑیاں صدقے جاؤں ۔پکوڑے سموسوں والوں کی تانیں،نان کباب، ٹھنڈی ٹھار بوتلیں۔ ارے ہم ایسی روکھی پھیکی گاڑیوں کے کہاں عادی۔بہرحال مہرالنساء کے نمکو اور بسکٹوں کے پیکٹوں نے کوپے میں تھوڑی سی کھلبلی مچائی۔

دس بج رہے تھے۔ اور آٹھ گھنٹے ابھی باقی تھے۔ یااﷲ ابھی تک ہم تینوں ایک دوسری میں پھنسی بیٹھی تھیں۔لیٹا جائے تو کیونکر ۔مہرالنساء نے اپنی سائیڈ پر سر کو صوفے کی بیک سے ٹکاتے ہوئے جسم کوتھوڑا سا پھیلایا۔میں بھی کھڑکی کے ساتھ سر کو ٹکاتے ہوئے قدرے پھیلی۔ثنا بیجاری ہم دونوں کے درمیان سینڈوچ بن رہی تھی۔

بالآخر میں اُٹھی کوریڈور میں آئی۔ ساتھ ہی ایک بڑا سا کھُلا خالی کمرہ جہاں عملے کے کچھ لوگ بیٹھے تھے۔ اُن سے ایک کپڑے کا سوال ہوا۔

کیا دروازے پر پردہ لگانا ہے؟ پوچھا گیا۔

لوان کی سنو۔ میں نے اپنے دل میں کہا۔ کتنی پردہ دار بیبیاں سمجھ رہا ہے ہمیں۔

ارے بھئی نیچے بچھانا ہے۔ سونا ہے۔ ایکشن کیا۔

ایک بزرگ خاتون کی آنکھوں میں نیند کے ہلکوروں کا لہریں مارتا دریا دیکھ کر انہیں شاید رحم آ گیا تھا۔ کپڑا عنایت ہوا جسے لا کر میں نے فی الفور زمین پر بچھایا۔ سرہانے کپڑوں والا شاپر رکھا۔ ڈالروں والی تھیلی کو سینے میں ہاتھ لگا کر چیک کیااور آنکھیں موند لیں۔

چلو وہ بھی کھلی ڈُلی ہو گئیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کے سر کیطرف ٹانگیں پسار لیں۔ کہیں رات کے کسی پہر آنکھ کھلی۔ مدھم سی روشنی میں شیشے کی کھڑکی سے باہر پانی چھل چھل کرتا نظر پڑا۔

نیل ہی ہو گا۔ اور تو اس سرزمین پر ریڈ سی اور غربی جانب نیل سے نکلتی ایک چھوٹی سی لکیر کے سوا کسی چھوٹے موٹے ندی نالے کی صورت دکھائی نہیں دیتی۔

سوچتے اور اپنے آپ سے کہتے میں نے پھر آنکھیں موندلی تھیں۔

صبح آنکھ کھُلی تو بڑے مانوس سے منظر تھے۔ دیہی زندگی کے لشکارے ۔ سرسبز کھیتوں کے دور تک پھیلے سلسلے اُن میں جھُومتے کھجور کے درخت ۔ دومنزلہ سہ منزلہ گھر۔ کہیں کوئی بہت خستہ کہیں بہت شاندار گنے کے کھیتوں میںکام کرتے لوگ ۔ آبادیوں کو جاتے کچے راستے مسجدوں کے مینار رگ و پے میں اپنا یت کی لہریں دوڑاتے تھے۔

مہرالنساء نہیں تھی۔ میرے خیال میں شاید کہیں واش روم میںہو گی۔پر تھوڑی دیر بعد وہ کھلکھلاتی ہوئی کوپے میں آئی اور بولی۔

بھئی اس گاڑی کے ٹی ٹی نے مجھے پروپوز کیا ہے۔

کیا۔ ہم دونوں کا قہقہہ کمرے میں گونجا۔

اور جو تفصیل اُس نے ہنستی آنکھوں سے پانی خشک کرتے ہوئے ہمیں سنائی وہ کس قدر دلچسپ تھی۔ مہرالنساء کوئی چار بجے ساتھ والے کوپے میں جو رات کے کسی پہر خالی ہو گیا تھا۔ جالیٹی۔ علی الصبح وہ بیٹھی باہر کے منظروں میں گم تھی جب ٹی ٹی حضرت کوپے میں آئے ۔ بات چیت سے پتہ چلا کہ مہرالنساء خیر سے کنواری ہیں اور وہ رنڈوے۔ جھٹ پٹ رشتہ ڈال دیا گیا۔

اب چھیڑ خانی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

چلو بھئی چل کر ہونے والے جیجا جی سے انٹرویو کریں۔

نجیب مصطفےٰ لُکسر سے دو اسٹیشن پرے بہت سی اراضی اور بڑے سے گھر کا مالک تھا۔ بیوی گزشتہ سال وفات پا گئی تھی۔ بچے بڑے تھے۔ اُس نے ہمیں اپنے شہر اُترنے اور وہاں دو تین دن قیام کرنے کی پیشکش کی۔ جسے ظاہر ہے قبول کرنا ہمارے لیے ممکن نہ تھا۔ پر ہم نے اُسے پاکستان آنے اور اگر وہ مہرالنساء کے لیے سنجیدہ ہے تو اس ضمن میں اُسے جو کرنا ہے اُس پر عمل کرنے کا مشورہ دیا۔ جس پر مہرالنساء اردو میں چلائی۔

ارے پاگل ہو گئی ہو۔ باؤلے کتے نے کاٹا ہے مجھے جو دوزخ میں منہ ڈالوں ۔

چلو چپ کرو ۔لڑکیاں اِن معاملوں میں نہیں بولا کرتیں۔ میں نے ہنستے ہوئے مصنوعی خفگی دکھائی۔

بہر حال ایک شغل تو ہاتھ آیا۔

اُن کاا سٹیشن آگیا تھا۔ہمارا جیجا جی ہم سے وعدے وعید کے ساتھ رُخصت ہوا۔

لُکسر کیا آیا۔ ہماری تو اچھی خاصی پریڈ ہو گئی۔ لمبے چوڑے ڈبے میں ہم صرف تین عورتیں پنجرے میں بند کسی نو گرفتار پرندے کی مانند سر پٹخ رہی تھیں۔ دروازے بند تھے اور انہیں کھولنے میں ہماری ہر کاوش ناکام ہو گئی تھی۔ ایک دروازے تھپتھپا رہی تھی تو دوسری شیشوں پر ہاتھ مارتے ہوئے باہر پلیٹ فارم پر چلتے پھرتے لوگوں کو اپنی پریشان صورت سے بے کسی کی داستان سُنا رہی تھی۔

بارے خدا دروازہ کھلا اور باہر نکلے۔ پیکج کا تکونی آنکھوں والا لڑکا ہمارے نام کا کارڈ اُٹھائے کھڑا تھا۔ چلو اُس نے ہمیں اور ہم نے اُسے پہچانا۔ اُس کے تعاقب میں بہت سی سیڑھیاں چڑھیں اور اُتریں اور اسٹیشن کی عمارت سے باہر آئے۔

باب نمبر:

۹ویلی آف کنگز مصری میتھالوجی 

آرٹ اور مقبرے

یہ تو گمان میں بھی نہ تھا کہ آسمان سے گر کر کھجور میں اٹکیں گے۔ رات بھر کے سفر کے بعد صبح سویرے پیکج کا گائیڈ ذرا سا سستانے اور نیل کے مشرقی اور مغربی کناروں پر صحرا میں اُگے جنگلی گلاب کیطرح دل کش لُکسرLuxor شہر کو جسے الاقصر (محلات کا شہر) اورطیبس (قدیم یونانی نام THEBES) بھی کہتے ہیں کو نظر بھر کر دیکھنے کی بجائے قدیم ترین تہذیبی اور ثقافتی ورثوں میں لے جائے گا جنہوں نے دنیا بھر میں مصر کو تاریخی حوالوں سے انتہائی معتبر اور منفرد گردانتے ہوئے اُس پر سیاحت کے ذریعے پیسے کی بارش کر دی ہے کہ ہر ہر قدم پر50اور 75 مصری پاؤنڈ کے ٹکٹ جیب سے عشوہ طراز محبوباؤں والا سلوک کرتے ہیں۔لکسر (طیبس)کے نیچے پورا ایک شہر دریافت ہوا ہے۔ کھدائیاں جاری اور دنیا بھر سے ٹورسٹوں کے پُرے حاضراور شہر کا ہر شہری کسی نہ کسی رنگ میں سیاحت کے پیشے سے وابستہ ۔

 

نہ ناشتہ نہ چائے۔Winter Palace ہوٹل میں واش روم جانے اور منہ دھونے کے بس چور ہوئے۔

بیٹھئے بیٹھئے کے شور میں ویلی آف کنگز کی طرف کوچ ہو گیا۔

ہائے یہ کمبخت گاڑی کہیں روکتے تو سہی ناشتہ ہی کرلیتے ۔رات بھر کے بھوکے پیاسے ارے ہم سیر سپاٹے کیلئے آئے ہیں نہ کہ کہیں قید با مشقت کاٹنے۔

میری اِس چیخ و پکارپر دریا ئے نیل پر بنے پُل کو کراس کرنے کے بعد گاڑی ایک شاپ پر رُکی جہاں سے دودھ کے پیکٹ او ر بسکٹ خریدے گئے ۔اور جب ہم گھونٹ گھونٹ دودھ پیتے اور بسکٹ چباتے تھے ہمارے گائیڈ نے ہماری طرف رُخ پھیرا۔

ابھی تھوڑی دیر بعد آپ ہزاروں سال قبل فراعنہ کے دور میں داخل ہونے والی ہیں۔ اس قدیم تہذیب کی تھوڑی سی بھی جانکاری کے لیے مصری معبودوں سے شناسائی ضروری ہے کہ ان سے واقفیت اُس پُر اسرار دنیا کے بہت سے پہلوؤں سے پردہ اُٹھاتی ہے۔

مصریوں کا سب سے بڑا معبود دیوی دیوتاؤں کا باپ اور حکمران را سورج دیوتا تھا۔ را کے تخلیق کردہ دیوتا گب (زمین) اور نت (آسمان) سے چار اولادوں کی تخلیق جن کے نام اوزیرس دیوتا(OSIRIS) آئسس دیوی (ISIS ) دیوتا ست (SETII) اور نفتیس دیوی (Nyphthys) ہیں۔

اوزیرس کی شادی اُس کی بہن آئسس دیوی سے ہوئی اور ان کا بیٹا ہورس پیدا ہوا۔ ست کا بیاہ اُس کی بہن نفتیس سے ہوا۔

اوزیرس نیکی کا دیوتا جبکہ ست بدی کا شمار ہوا۔

مصر کی تمدنی اور تہذیبی زندگی کو جو حُسن اور رنگا رنگی اوزیرس اور آئسس نے دی وہ بے مثال ہے۔ مصری میتھالوجی کے پانچ اہم کرداروں میں سے وہ دونوں سر فہرست ہیں۔ بہترین انسانی اور بہترین حکمرانی اوصاف سے مزّین اُن کی خوشیوں اور غموں پر ایسے ایسے طربیہ گیت اور المیہ نوحے وجود میں آئے کہ جنہوں نے انسانی سوچ فکر اور احساس کی بھرپور نمائندگی کرتے ہوئے آج کی دُنیا کو ماضی کے انسان سے مکمل روشناس کروایا۔

اواخر مارچ کی خوشگوار دھوپ میں دائیں بائیں پھیلے صحرا میں تاحد نظر بکھری ویرانی اور سناٹا سریر میں خفیف سے خوف کے چھوٹے چھوٹے روزن کھولتا تھا۔ پستہ قامت پہاڑیوں کا سلسلہ داستان گوئی کرتا نظر آتا تھا۔ ہم ویلی آف کنگز Valley of kings کی طرف رواں دواں تھے۔ فرعونوں کے مقبروں کی جانب۔ اور جب پہلو کے بل لیٹی ہوئی بولتی پہاڑیوں کے قریب گاڑی رُکی تو گویا ہم بابان الملوک پہنچ چکے تھے اور سیاحوں کے پُرے جنگل میں منگل جیسی صورت کو پیش کرتے تھے۔عربی میں ویلی آف کنگز کو بابان الملو ک کہا جاتا ہے۔

ٹکٹ خرید کر جس کمرے میں داخلہ ہوا اُس کی چھت عجیب ساخت کی تھی۔ پوری ویلی کے ماڈل یہاں پڑے تھے۔ دروازے کے باہر کھُلی جگہ پر ٹرام آگے لے جانے کے لیے تیار کھڑی تھی۔ اس بے درودیوار والی ٹرام میں بیٹھنا بھی کیسا دل خوش کن تجربہ تھا۔ گورے گوریاں ہنسی کی پھُلجھڑیاں فضا میں بکھیر رہے تھے۔ ٹرام نے جہاں لے جا کر کھڑا کیا۔ وہاں دونوں اطراف کی جانب فاصلوں سے اندر جانے کے شگاف تھے وہ لمبوترے شگاف جن کے کنارے عمودی رخ اوپر تک چلے گئے تھے۔ سڑک سانپ کی مانند بل کھاتی بہت دور تک جاتی دکھائی دیتی تھی۔

پہلا داخلہ رعمیس چہار م کے مقبرے میںہوا۔ رعمیس سوم کا بیٹا رعمیس چہارم۔ تاریخ کا بڑا نالائق حکمران ثابت ہوا تھا۔ انتہائی کمزور اور بودے عقیدے کا مالک۔ مندروں کے پروہتوں اور مہنتوں سے خوف زدہ نذر و نیازوں کی اُن پر ایسی بارش کی کہ شاہی خزانہ خالی ہو گیا۔ طاقت سے مالا مال دولت سے نہال یہ مہنت اصل حکمران شمار ہونے لگے۔ اور نتیجتاً لُکسر کے بڑے مہنت تختو نے اپنی حکومت کی بنیاد رکھ کر اس شاندار خاندان کا خاتمہ کر دیا۔

سیڑھیوں کے بعد بڑے سے جالی کے دروازے سے گزرے۔گزرتے ہوئے میں نے اپنے آپ سے کہا تھا ۔

باپ نے تو جہانبانی سکھانے میں کوئی کوتاہی نہ کی۔ حکومت کے اراکین سے بھی بیٹے کے حق میں وفاداری کے حلف لیے۔ پر تاریخ میں خود کو عظیم الشان لکھوانا بھی ہر کسی کے نصیب میں کب ہوتا ہے۔ گزرگاہ مناسب حد تک کشادہ لکڑی کی ریلنگ اور فرش بھی چوبی تھا۔ پر دیواروں اور چھتوں کی زیبائش کس درجہ خوبصورت تھی کہ صدیاں گزر جانے پر بھی ان کے رنگ و روپ قائم تھے۔ گو کہیں کہیں سے ماند ضرور تھے۔ تصویر کشی میں رنگوں کا امتزاج اور اشکال کی ڈرائنگ میں تناسب کمال کا تھا۔

اس مقبرے کی دریافت رچرڈ پوکوکRichard Pocoke کے ہاتھوں 1737 ء کے آغاز میں ہوئی۔ عیسائیوں نے اسے چرچ کے طور پر بھی استعمال کیا۔

میری آنکھیں بہت دیر تک چھت کو دیکھتی رہیں۔ جو حیرت انگیز طور پر خوبصورت تھی۔ اطراف کی بیل تختی بادشاہوں کے ناموں سے سجی تھی۔ پروں والے متبرک بھنورے اور منڈلاتے کرگسوں کی ڈرائنگ اور رنگ آمیزی مصریوں کی آرٹ سے لگاؤ اور مہارت کی عکاس تھیں۔

گائیڈ نے میری اس درجہ محویت کو دیکھتے ہوئے بتانا شروع کیا۔

مصری آرٹ کو سمجھنے کے لیے یہ یاد رکھیے کہ مصری ایک ایسی زندگی کے متمنی تھے جو ابدی ہو۔ اُن کا نظریہ تھا کہ انسان ہمیشہ زندہ رہ سکتا ہے اگراس کا جسم محفوظ ہو جائے اور اُس کے کھانے پینے کا بندوبست ہو۔ اور یہی وہ چیز تھی جس نے انہیں لاشوں کو محفوظ کرنا سکھایا۔ ممیفیکیشن کے آغاز کی بنیادی وجہ یہی تھی۔

اب رہا اس کے کھانے پینے کا بندوبست جو ظاہر ہے مشکل کام تھا اور اس کے لیے سوچا گیا کہ مقبروں میں تصویریں بنا دی جائیں۔ جادو منتروں اور ٹونے ٹوٹکوں کے مصری پہلے ہی بہت عادی تھے چنانچہ یہاں بھی یہ سمجھ لیا گیا کہ جادو اور دعاؤں سے تصویریں کھانے پینے کی چیزیں بن جائیں گی۔

مصری آرٹ اسی بنیادی ڈھانچہ پر کھڑا ہے۔ یہ آرٹ ان کی مذہبی ضرورت کی تکمیل تھی۔

مصری بنیادی رنگوں سے واقف تھے۔ان رنگوںسے وہ دوسرے رنگ بناتے تھے۔ معدنیات سے دھاتوں سے پیڑوں سے رنگ نکالنے اور بنانے میں وہ طاق تھے۔ اندازہ لگائیے کہ جب رومنوں نے مصری تصویروں میں نیلا رنگ دیکھا تو وہ حیرت زدہ ہو گئے کیونکہ زمانے گزرنے کے بعد بھی یہ رنگ اپنی اصلی صورت میں موجود تھا۔ وگرنہ بالعموم یہ کچھ وقت بعد اپنی صورت بدل لیتا ہے کہیں اس میں کلاہٹ اور کہیں اس میں ہرا پن آ جاتا ہے۔ دفعتاً گائیڈ نے دیواروں کی سمت اشارہ کیا۔

اور میری نظروں نے اس کے کہے کی تصدیق کی تھی۔

اور میرے اس سوال پر کہ اس رنگ کا حصول کیسے ممکن تھا۔ گائیڈ نے وضاحت کی۔

غالب امکان ہے کہ مصری یہ نیلا رنگ ریت اور تانبے کے برادے اور Sub carbonateoysoion کو مکس کرنے ، پیسنے اور پھر پکانے سے حاصل کرتے تھے۔ سفید رنگ زندہ چونے اور Sulphate of calcium سے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ان سے بنی ہوئی بعض دیواریں صدیاں گزر جانے پر آج بھی دودھ کی طرح سفید ہیں۔

سامنے چوبی ریلنگ والے بند حصے میں اُس بڑے سے پتھر کے تابوت کو دیکھتے ہوئے اور یہ سب سُنتے ہوئے سوچے چلی جا رہی تھی۔ ذہانت اور خداداد صلاحیتیں کبھی بھی کسی زمانے کی مرہون منت نہیں رہیں۔ ہر دور کا انسان اپنے ماحول کے مطابق ذہین اور فطین تھا۔ اطراف میں دونوں چھوٹے کمروں کی سجاوٹ میں زیادہ حصہ بک اف Caverns کے حوالوں سے تھا۔

رعمیس نہم کے مقبرے میں ڈھلانی راستہ بہت دور تک جاتا تھا۔ سہولت کے لیے ایک ایک فٹ کے فاصلے پر لکڑی کی رُکاوٹ لگائی گئی تھی تاکہ پھسلنے سے روکا جا سکے۔ دیواروں کی تصویر کشی کو محفوظ رکھنے کے لیے اُن کے آگے شیشے کی دیواریں فکس تھیں۔ پہلی راہداری کے اطراف کے چاروں کمرے شاہوں کی تصویروں سے مزّین تھے۔رعمیس خاندان کے بادشاہ سورج دیوتا رااور مصریوں کے محبوب اور عوامی دیوتا اوزیرس کے حضُو ر پرستش کے انداز میں عبودیت کا اظہار کرتے نظر آتے تھے۔

اگلی راہداریوں کی دیواریں بک آف CAVERNES بُک آف ڈیڈ اور بُک آف ہیون کے نظاروں سے سجی ہوئی تھیں۔

یہ کون سی کتابیں تھیں۔مصر آنے سے قبل تیاری کے اہتمام میں جو لٹریچر مجھے دستیاب ہوا۔اُن سے مجھے انکے بارے میں تھوڑی سی جانکاری ضرورتھی۔گائیڈ وں کو میں بالعموم اعتبار کے قابل نہیں سمجھتی یہ لوگ اپنی چرب زبانی کے ساتھ اکثر وبیشتر حقائق کو مسخ کر کے واقعات بڑے افسانوی رنگ میں پیش کرتے ہیں۔مگر خدا کا شکر تھا کہ ہمارا گائیڈ جو معلومات فراہم کرتا تھا وہ میرے حسابوں حقیقت سے قریب ترتھیں۔

دیوتاRE را سے مراد سورج دیوتا جو کہ پچھترّ 75 مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔

بک آفAMDUAT اور Book of GATES کے مطابق زیر زمین دُنیا بارہ حصّوں جو بارہ گھنٹوں کے برابر ہیں میں تقسیم ہے۔اور گیٹ رات کا ایک گھنٹہ ہے جسکے ہر گیٹ پر ایک بہت خوفناک سانپ پہرے دار ہے ۔جو سورج دیوتا کی کشتی کو بحفاظت رات کے دریا میں سے پار گزارتے ہوئے دن کی روشنی میں لاتا ہے۔

گائیڈ صحیح معنوں میں گائیڈ تھا۔یہی سب میرے حافظے میں تھا۔

دراصل مقبروں کی تزئین وآرائش میں مذہبی نظریات پیش نظر رکھے گئے ہیں ۔

اِن سب بتائی گئی باتوں کو دماغ کے اُس خانے میں جہاں اِس سے متعلق مواد موجود تھا ٹھونستے ہوئے میں آگے بڑھی۔

آگے ہورس دیوتا کو بادشاہ کے روپ میں دکھایاگیا۔ پھر ایک ہال میں داخلہ ہوا جو سادہ ستونوں پر مشتمل تھا۔

اندھیرا گھٹن لوگوں کا رش اوپر سے پھنکارے مارتے ناگوں کی تصویریں ۔ سامنے قبر کے تابوت کا خالی گڑھا سب خوفناک اور عبرت انگیز تھا۔

میں نے باہر نکل کر کھلی فضا میں سانس لیا اور چلنے لگی ۔چلتے چلتے رُک کر ٹیٹرھی میڑھی سڑک جسکے دونوں پہلوؤں سے لمبے لمبے شگاف نما راستے مقبروں کے سینوں میں اُترتے تھے کو دیکھنے لگی۔

میں رعمیس III کے مقبرے کی تلاش میں تھی ۔دراصل اُسکے بارے میں جو کچھ پڑھا ہوا تھا وہ مجھے متحرک کر رہا تھا اُسکے مقبرے کو دیکھنے پر اُکسا رہا تھا۔

تاریخ فراعنہ کا ایک مثالی اور منصف بادشاہ ظلم اور ظالم کا بدترین دشمن۔ زیادتی کا مرتکب کوئی شہزادہ ہوتا یا عام آدمی ۔اُسکا سزا سے بچنا محال تھا۔عورت نقل وحرکت میں آزاد تھی۔محفوظ تھی ۔فوج چھاؤنیوں میں رہتی تھی۔اُنکا داخلہ شہری آبادیوں میں ممنوع تھا۔

1161 قبل مسیح کا یہ فرعون خود لکھتا ہے۔

میں نے سلطنت کے ہر غریب اور دُکھیارے انسان کے دکھ دور کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ میں نے بے بس بے کس اور کمزور کو تحفظ دیا۔اور میں نے ہر شخص کیلئے اُسکا گھر اور زندگی آرام دہ کی۔

مجھے یاد تھاجب میں نے یہ پڑھا تھا تو آنکھیں گیلی سی ہو گئی تھیں ۔اور میں نے خودسے سوال کیا تھا۔

کیا میرے دور کے کسی فرمانروا کو یہ توفیق ہوئی کہ وہ تاریخ میں اسطرح کے جملے لکھنے کیلئے کچھ کرتا۔ہم قیادت کے سلسلے میں کتنے بد قسمت ہیں۔

مجھے زیادہ نہیں چلنا پڑا تھا۔

مقبرے کا راستہ بڑا ڈھلانی تھا۔گیٹ پر سختی تھی ۔پندرہ سے زیادہ نفوس کو ایک وقت میں اندر نہیں جانے دیا جاتا تھا۔داخلی گزرگاہ Hathorحت حور دیوی(آسمانی معبودہ) کے نقش ونگار سے مزّین سروں والے کالموں پر جو دروازے کی ایک جانب ایستادہ تھے۔سیاحوں کی توجہ کوفی الفور کھینچتے تھے۔شیشے کی دیواروں کے عقب میں جھانکتی تصویریں قدموں کو چند لمحوں کیلئے روکتی تھیں۔

آغازکا یہ حصہ رعمیس سوم کے والد نے بنوایاتھا۔بہت اعلی تصویر کشی تھی۔دائیں بائیں دونوں جانب مت دیویکی تصویر یں اپنے پروں کے ساتھ بادشاہ کی حفاظت کرتی تھیں ۔

دائیں طرف اگر شاہی جھنڈے نیل میں تیرتی کشتیاں ہتھیار اور فرنیچر کی تصویروں میں رعنائی اور زیبائی تھی تو دوسری طرف کھا نا پکتا تھا۔نیل کا دیوتا دوسرے دیوتاؤں کے ساتھ جنہوں نے اناج کی بالیوں سے اپنے سروں کو سجا رکھا تھا نظر آتے تھے۔

آگے آگے بڑھتی ہوئی راہداریاں دیواروں میں بہت بڑے بڑے طا ق نیچے اور گہری کھدائی میں بنا ئے ہوئے کمرے اور مقبرہ نہایت ابتر حالت میں۔

بڑی لمبی سانس بھرتے ہوئے میں نے اپنے سامنے بڑے سے گڑھے نما کمرے کو دیکھا تھا۔جس کے ستون گرے ہوئے تھے۔ چونے کی پہاڑیوں کی برادہ نما مٹی بکھر ی ہوئی تھی گہرے تاسف سے میں اپنے آپ سے مخاطب ہوئی۔

تو یہاں ہزاروں سال وہ شخص رہا جو بڑا بدقسمت تھا۔جس نے اپنی رعایا کے ہر فرد کو سکھی کیا پر جسے خود سُکھ نصیب نہ ہوئے اور جسے اسکے اپنے بچوں اور بیوی نے جادو کے زور سے مارنے کی کوشش کی۔اورشایدیہ اسکی نیکیاں تھیں کہ سازش کا پتہ چل گیا ۔پر اُسنے انہیں تہ تیغ کرنے کی بجائے قانون کے حوالے کیا ۔اور عدالت کو حکم دیا کہ بادشاہ کی طرف داری کی بجائے قانون کے تحت معاملہ نپٹایا جائے۔یہ انصاف کی وہ اعلی ترین مثال تھی جو آج کے اِس ماڈرن دور کے حکمرانوں کو نصیب نہیں۔

رعمیس چوتھے نویں اورتیسرے کے بعد Tutmosis III کے مقبرے کی کوہ پیمائی کیلئے چلی ۔داخلی دروازے کے آغاز میں ریلنگ سے اوپر پہاڑ میں کتبہ نصب تھا۔ اُسے پڑھنے کے بعد میں نے غار میں قدم دھرا ڈھلانی کو ریڈور کے آگے کی صورت بڑی مخدوش سی تھی۔پتھر کی سیڑھیوں کے بعد لوہے کی عمودی سیڑھوں کا ایک لمبا سلسلہ تھا۔جن پر چڑھنے کا ارادہ ملتوی کر تے ہوئے میں نے واپسی کیلئے قدم اُٹھائے ۔جس چیمبر میں کھڑی تھی۔وہاں گرے بیک گراؤنڈمیں سرخ نقاشی تھی ۔ایک طویل الجُثہ خوفناک سیاہ ناگ اُس کشتی کو جس پر بہت سارے لوگ سوار تھے رات کے وقت اپنی حفاظت میں دوسری دنیا میں لے جارہا تھا۔سچی بات ہے اُس طلسمی سے نیم تاریک ماحول میں سانپ کا سرسراتے ہوئے چلنا جسم میں خوف کی جھر جھری پیدا کرتا تھا۔مجھے تو یوں بھی سانپ سے حددرجہ خوف محسوس ہوتا ہے۔

باہر آکر میں نے تازہ ہوا میں لمبا سانس بھرا اور اُس عارضی بنائے گئے کمرے کے سامنے بنے ہوئے چبوترے پر جا بیٹھی جو بالعموم تعمیر ات کے دوران تھوڑے سے وقت کیلئے کسی بھی جگہ لاکر کھڑا کر دیا جاتاہے۔مجھے نہ ثنا کا پتہ تھا نہ مہرالنساء۔

میں نے بوتل کا ڈھکن کھول کر پانی سے گلے کو تر کیا اور ماحول پر گہری نظر ڈالتے ہوئے اپنے آپ سے پوچھا۔اِن ویران پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر اِن میں قبریں بنانے کی کوئی تک تھی بھلا۔

ہاں تھی۔

مجھے جواب ملا تھا اُس کتاب سے جسے میں نے تھوڑی دیر قبل ایک لڑکے کے پیہم اصرار پر یونہی خرید لیا تھا۔

مصری اپنی لاشوں کے بارے میں حددرجہ ٹچی تھے ۔فراعنہ اور کیا عام لوگ سبھوں کا نظریہ تھا۔لاش محفوظ روح محفوظ ۔اِسی لیے مقبرے اوراہراموں کا سلسہ شروع ہوا۔پر چوروں کی چاندی ہو گئی۔لوٹ مار کا وہ سلسلہ شروع کیا کہ قبریں تک اُکھا ڑکرلے گئے۔اب کیا کیا جائے۔ چنانچہ فرعونوں نے ایسی جگہ پر انہیں بنانے کا سوچا جہاں یہ خفیہ اور چوروں کی لوٹ مارسے محفوظ ہوں۔

اور جب اٹھارہویں شاہی خاندان نے طیبس(موجودہ لُکسر)کو اپنا پایہ تخت قرار دیا تو انہوں نے قبروں کیلئے طیبس۔ سے خاصے فاصلے پر وہ پہاڑی زمین منتخب کی جولیبیا کے پہاڑوں کا حصہ ہے اور جسکا موجودہ نام بابان الملوک ہے۔یہ جگہ نیل کی طغیانیوں سے بھی محفوظ تھی۔

میں نے چند لمحوں کیلئے کتاب بند کی اور پاکستان کے علاقے کالاش کا سوچا۔کالاشی بھی تو اِسی نظریئے پر قائم تھے اپنے مردے کے ساتھ زیوارت قیمتی چیزیں کھانے پینے کی اشیاء سب رکھ کر آتے تھے جنہیں آیون کے چالاک مسلمان چور رات کے اندھیروں میں اُڑالے جاتے تھے۔اپنے لٹے پُٹے مُردوں کا یہ احوال دیکھ کر انہوں نے اپنے نظریئے میں ضرورت کے تحت تبدیلی کی۔

کتاب کو پھر کھولا ۔آگے جو کچھ پڑھا وہ بھی ہنسانے کیلئے کافی تھا۔

فرعونوں کے مقبروں کے ساتھ مندروں کا وجود لازمی امر تھا۔تا کہ مرحومین کیلئے قربانیاں اور دعائیں مانگی جاسکیں ۔اب اِس پہاڑی جگہ پر مندروں کا بننا ناممکن امر تھا۔چنانچہ اس خاندان کے سمجھدار اور عقلمند فرعونوں نے عقیدے میں ہی تبدیلی کر دی۔

بیجاری لاش کے شکنجے میں جکڑی روح کو آزاد کردیا ۔جہاں چاہے رہے جب چاہے آئے جائے ۔دوری نزدیکی روح کیلئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔بس تو مندر دریا کے دوسرے کنارے پر بنے ۔

تو اِن ویرانوں میں قبریں سجانے کی وجہ اب سمجھ آئی۔

۱۰طوطنخامن      

آنٹی

دُور سے ہوا کی لہروں پر تیرتی یہ مانوس سی آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔ میں نے کتابچہ بند کر کے اِدھر اُدھر دیکھا۔ ثنا دُور کھڑی مجھے اپنے پاس آنے کا اشارہ دیتی تھی۔ میں نے جواباً نفی میں ہاتھ ہلایا اور بغور اُسے دیکھا۔ پُر ہیبت پہاڑوں کے پیش منظر میں کھڑی وہ اپنے عنابی لونگ سکرٹ سیاہ ہیٹ سیاہ گاگلز اور خوبصورت چہرے کے ساتھ مجھے کوئی ہسپانوی دوشیزہ لگی تھی۔ پانچ فٹ سات انچ قامت والی اس حسین لڑکی کو اپنے ساتھ لاتے ہوئے میں تھوڑا سا خائف بھی تھی۔ پر سچ تو یہ تھا کہ اُس نے وطن کا بڑا مان بڑھایا تھا۔

پاکستان میں اتنی خوبصورت لڑکیاں ہیں۔ جگہ جگہ اس سوال کا تعاقب مجھے ایک انوکھی مسرت سے سر شار کرتا تھا ۔وطنی خوبی کسی بھی رنگ میں ہو ۔اور قدم قدم پر اُسکا اظہار بھی ہو۔ بندہ نہال تو ہوتا ہے نا۔ میں اور مہرالنساء کو جی بو ڑھیوں کی صف میں آتی تھیں ۔ مہرالنساء تو اپنی ٹِپ ٹاپ سے بڑھاپے پر تھوڑا سا پردہ ڈالنے میں کامیاب ہو جاتی تھی ۔پر میں تو بالکل سادھو مہنت چلو شکر ہے اِس دلرُبا لڑکی نے ہمیں ڈھانپ لیا۔

وہ بھاگتی ہوئی میرے قریب آ کرپھُولی سانسوں کے درمیان بولی۔ مقبر ے پر چلنا ہے۔

میں نے قدرے کو فت سے کہا ۔ گولی مارو۔ بہتیرے دیکھ لیے ہیں۔

ارے نہیں آنٹی ۔طوطنخامن Tutankhamun کے مقبرے پر چلنا ہے۔

اُدھر کچھ وی آنا سے آئے ہوئے لوگ باتیں کرتے تھے۔ اُس کی اصل ممی یہیں اُس کے مقبرے میں ہے۔ میں ابھی سُن کر آر ہی ہوں

ہیں۔ میں نے حیرت و استعجاب سے آنکھیں پھاڑیں۔

تو اور کیا۔ میں نے اپنے گائیڈ کی بھی کلاس لی ہے۔ کتنی ہوشیاری سے اپنی جان بچانا چاہتا تھا۔ چلیے آئیے میں گائیڈ کو وہاں ٹھہرا کر آئی ہوں۔

اور میں نے چبوترے سے لٹکی ٹانگوں کو نیچے فرش پر اُتار دیا۔اگلے لمحے میں اُس کے ساتھ بھاگتی جا رہی تھی۔ کہاں کی تھکن اور پنڈلیوں میں اینٹھن سب جیسے اُڑنچھو ہوئیں۔

دائیں بائیں نظریں تو بہتیری دوڑائیں کہ کہیں مہرالنساء نظر آ جائے پر جانے وہ کس مقبرے میں گھُسی ہوئی تھی۔گائیڈ بھی ساتھ ہوا۔ ہمیں K.V 62 نمبر پر چلنا ہے اب۔

طوطنخامن فراعنہ تاریخ کا سب سے نو عمر فرعون جو صرف انیس سال کی عمر میں اچانک موت کا شکار ہو گیا۔ کسی فریب کاری کے نتیجے میں مارا گیایا بیماری سے۔ اس کی وضاحت نہیں ملتی۔ البتہ اس کے شواہد ملے ہیں کہ اس کی کھوپڑی میں کوئی ایسا مہلک زخم تھا جو ٹھیک ہونے میں نہیں آ رہا تھا۔

ویلی آف کنگز کا یہ سب سے چھوٹا ظاہری کشش سے عاری مگر اپنے محفوظ اثاثوں کی وجہ سے سب سے امیر ترین مقبرہ شمار کیا جاتا ہے۔ دراصل ایک تو نوجوان فراعنہ کی اچانک موت اوپر سے رعمیس IX کے مقبرے کی اوپر پہاڑ پر تعمیر سے ضائع شدہ مواد کی پھینکا پھنکائی نے اس کے راستے بلاک کر کے اسے نہ صرف چوروں ڈاکوؤں سے محفوظ کر دیا بلکہ ایک طرح یہ ایسے مدفن میں بدل گیا جس کے بارے میں کسی کو کچھ خبر نہیں تھی۔

نومبر1922کو برطانوی آرکیالوجسٹ ہا ورڈ کارٹر نے اسے دریافت کیا اور یہ دریافت بیسویں صدی کی انتہائی اہم سنسنی خیز اور مشہور واقعات میں سے ایک تھی۔

گائیڈ ابھی اتنی معلومات ہی ہم تک پہنچا پایا تھا کہ جائے مطلوبہ آ گئی۔

میں بہت اکسائیٹڈ تھی۔ داخلی راستے کا پہلا کوریڈور بہت مختصر سا تھا۔ فوراً ہی ہم بڑے کمرے میں آ گئے۔ اس کے ساتھ ملحقہ ایک اور چھوٹا سا کمرہ تھا۔ اس کے ساتھ انیکسی تھی دائیں ہاتھ خزانے والا کمرہ اور اُس سے آگے Burial chamber ۔

یقیناً میں اعتراف کروں گی کہ یہ سارا ماحول حد درجہ فسوں خیزی کا حامل تھا۔ اینٹی چیمبر میں ممی والے چیمبر کے بالکل سامنے دو انسانی مجسمے بائیں ہاتھوں میں کسی دھات کے بنے لمبے ڈنڈے پکڑے مستعد یوں کھڑے تھے جیسے کہتے ہوں ۔ہے کسی کی مجال جو آگے جائے۔ دائیں ہاتھوں میں چھوٹی سی راڈیں جن کے ایک جانب کے اگلے سرے گیند نما تھے۔ سیاہ چہرے سیاہ بدن۔ سیاہ ٹانگیں سر کو ڈھانپے وگ جس کی پیشانی پر سانپ جن کے لہراتے پھن ایک لمحے کیلئے رگوںمیں دوڑتے خون کو منجمند کرتے تھے۔

میری نظریں اُس سکرٹ نما پہناوے پر تھیں جو یقیناً یا سونے کا تھا یا اس پر سونے کی ملمع کاری تھی۔ بازوؤں گلوں پر ڈیزائن اور پاؤں میں جوتے ۔واﷲ سب کچھ جدید وضع کا تھا۔ وہ وضع جو آج کل لاہور میں رائج الوقت تھی۔

بہت پہلے کا پڑھا ہوا ایک مضمون فوراً دماغ میں کلک ہوا۔ جس میں لکھا گیا تھا کہ فیشن کے گھر پیرس سے جتنے بھی فیشن نکلے ہیں یا نکلتے ہیں۔ اُن کا زیادہ حصہ پرانی مصری عورتوں اور مردوں کی ایجاد ہیں۔

دائیں ہاتھ والے مجسمے کے پاس غالباً آبنوسی لکڑی کا ایک قدرے لمبوترہ سا بکس نما چیز تھی جس پر ہاتھی دانت کی مینا کاری اور سونے جواہرات کی پچی کاری نگاہوں کو مقناطیس کی طرح کھینچ رہی تھی۔ اینٹی چیمبر میں گھوڑے کے منہ اور دو پہیوں والی رتھیں تھیں جو شاہی جلوسوں اور شکار وغیرہ میں کثرت سے استعمال ہوتی تھیں۔ مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے گاڑیاں نایاب قسم کی کرسیاں ۔۔۔، تپائیاںاور سٹول ٹائپ کی چیز یں انسان کو اپنی بناوٹ اور اِ س پر کندہ کاری سے حیرت زدہ کر تی تھیں۔ سچی بات ہے مجھے اُن چیزوں کے ناموں کو سمجھنے میں دشواری کا سامنا تھا۔ پتھر کے ایسے نفیس جار تھے کہ جن کے اندر رکھی ہوئی چیزیں صاف نظر آتی تھیں۔ تیر کمان کا پڑھا کرتے تھے بادشاہوں کے وجود کا جزولانیفک۔ چلو آج اس کا بھی دیدا ر ہوا۔ گائیڈ ہمارے قریب آ کر بولا تھا۔

کیا آپ یقین کریں گی کہ کارٹر پانچ سال کی محنت شاقہ کے بعد جب سیڑھیوں سے اس کے دروازے پر پہنچا اور اُس نے اندر جھانکا تو یہاں وہ خزانے تھے جس نے چند لمحوں کے لیے اُس کی دھڑکنوں کو ساکت کر دیا تھا ۔ اور نو سال کا طویل وقت صرف ہوا سامان کے ایک بڑے حصے کی قاہرہ میوزیم منتقلی میں۔

اﷲ کیا کیا اینٹیک تھیں یہاں۔ نہ ہوئے چور ڈاکو ہم۔

Burial chamber ایک تو ماحول اس درجہ فسوں خیزی والا۔ اوپر سے حد درجہ احتیاط بندی ۔ بے حد خوبصورت پیلے پتھر کے تابوت جس میں وہ بڑی بڑی آنکھوں والا طوطنخامن چھت کو گھُورتا ہمارے قدموں کو منجمند کرتا تھا۔ میں تو سانس روکے اُسے ٹکٹکی باندھے دیکھتی تھی۔اور گائیڈ کی زبان سرپٹ بھاگی جاتی تھی۔

کم وبیش ہر فرعون کی لاش اوپر نیچے چار چار تابوتو ں میں رکھی جاتی تھی۔ طوطنخامن کی لاش پہلے سونے کی پٹیوں میں لپیٹی گئی۔ یہ پٹیاں ہیرو گلیفی (تصویری تحریریں) فیروزے اور عقیق کی پچکاری سے سجائی گئیں پھر اسے خالص کندن کے صندوق میں رکھا گیا جس کی بناوٹ خالصتاً انسانی صورت اور جسم کی سی تھی اور جس کا وزن ایک سو دس گرام ہے۔

اب بغور اِسکی تفصیل سُنیں۔ بادشاہ کا چہرہ ہو بہو اُسی کے نقوش والا آنکھوں کے جڑاؤ کام کے ساتھ بنایا گیا۔ بازو چھاتی پر کراس کی صورت رکھے گئے اور ہاتھوں میں اناج نکالنے والی بالی اور خم کھائی ہوئی چھڑی تھمائی گئیں۔ ممی کا سر سونے کے ماسک سے ڈھانپا گیا اور ا سپر پھر سونے کی ملمع کاری کی گئی۔ ماسک کو قیمتی پتھروں اور رنگا رنگ شیشوں سے آراستہ کیا گیا۔ آنکھیں کالے اور سفید پتھر جس پر لیپس Lapis جیسے قیمتی پتھر کی میناکاری کی گئی تھی سے بنائی گئیں۔سر کے لباس پر پیشانی کے عین درمیان کرگس اور اژدہا بٹھائے اور چھاتی کے بڑے کالروں پر کندھوں کی جانب شکرے سجائے گئے۔

دفعتاً وہ رُک گیا ۔ پھر اُس نے تابوت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بات کو جاری رکھا۔ طوطنخامن یہاں کفن کی دو حالتوں میں موجود ہے۔ اس کے بقیہ دو تابوت قاہرہ میوزیم میں ہیں۔ اور یہ بھی جان لیجیے کہ یہ چیزیں اتنی نایاب اور قیمتی ہیں کہ انسان صرف ان کے بارے میں سوچ ہی سکتا ہے۔ تیسرے مرحلے میں ممی لکڑی کے تابوت میں رکھی گئی جو رنگین قیمتی پتھروں اور سونے کی تختیوں سے سجا ہوا تھا۔

ابھی بے چاری کی جان بخشی نہیں ہوئی۔میں نے ہنستے ہوئے گائیڈ کو دیکھاجواباًوہ بھی ہنس پڑااور بولا۔

اب اسے پھر ایک اور سجے سنورے لکڑی کے تابوت میں رکھا گیا۔ چوتھے مرحلے کی تکمیل ہوئی۔ آخر میں ان سب تابوتوں کو پتھر کے ایک بہت بڑے صندوق نما تابوت جس کے چاروں طرف جنازے سے متعلق چاروں دیوی دیوتاؤں اوزیرس، نت، سَت اور نفتیس کی مورتیاں کندہ کی گئی تھیں میں ڈال دیا گیا۔میں نے گہری نگاہ سے تابوت کے اطراف کا جائزہ لیا۔ دو سمتیں میرے سامنے تھیں اور دیوی جی جس لباس میں ہاتھ پھیلائے کھڑی تھیں اُس کے گلے کا ڈیزائن اور آدھی آستینوں کی فٹنگ اور اگلے حصے کا ڈیزائن میرے ملک میں آج کل بڑا اِن تھا۔

 

کمال ہے قدیم مصریو! تمہاری ذہانت اور فطانت کو سلام۔ تم لوگ واقعی دنیا کی تہذیبوں کے مائی باپ ہو۔

طوطنخامن سے نظریں اُٹھا کر میں نے دیواروں پر پھینکیں۔تصویروںسے وہ بھری پڑی تھیں۔صدیاںگزرجانے پر اُن کے حُسن و جمال کی وہ کیفیت تو نہ تھی ۔پر یہ کیا کم تھا وہ ابھی بھی اپنے رنگوں کی بھر پور جزئیات اور واقعات کی تفصیلی صحت کے ساتھ مو جو د تھیں اور دیکھنے والوں کو اُس دور کی پوری کہانی سناتی تھیں۔

مشرقی دیوار ماتمی جلوس سے سجی ہوئی تھی۔ تقریباً دس اعلیٰ افسروں کا ٹولہ ایک ہتھ گاڑی پر طوطنخامن کی ممی رکھے اُسے گھسیٹ رہا تھا۔

میں نے شمالی دیوار کو تاکا۔ یہاں بارہ بندر نما جانور تین قطاروں میں نظر آئے۔ جو یقیناً رات کے بارہ گھنٹوں کی علامت تھے۔ ان کے اوپر پانچ دیوتا ایک قطار میں کھڑے تھے۔ دیوتا Kheper متبرک بھونرے کی صورت ظاہر ہوا تھا۔

مغربی دیوار پر دائیں سے بائیں تصویروں کی صورت کچھ یوں تھی۔طوطنخامن کا جانشین ایک پروہت کی صورت چیتے کے سے داغ رکھنے والی کھال والا لباس پہنے ایک ایسا ساز ہاتھ میں پکڑے کھڑا تھا۔ جس ساز سے نکلنے والے سُرممی کی منہ کشائی کرتے ہیں۔ یہ مذہبی رسم ممی میں بعد ازحیات کھانے پینے اور بولنے کی صلاحیت پیدا کرنے والی مسٹری Mystery تھی۔ اگلے منظر میں طوطنخامن کو دیوی نت (آسمان کی معبودہ) اُسے اُسکے مقبرے میں خوش آمدید کہتی ہے اور آخری تصویر میں طوطنخامن اپنی روح کے ساتھ دیوتا اوزیرس کے سامنے کھڑا ہے۔

اور جنوبی دیوار کا منظر بڑا اثر انگیز سا تھا۔

طوطنخامن دیوی حت حور Hathor اور بھیڑ کے سر والے) جنازوں اور مُردوں کا دیوتا) انوبیس دیوتا کے درمیان کھڑا ہے۔ دیواروں پر لکھی گئی یہ تصویری کہانی گائیڈ کی مدد کے بغیر پڑھنی بے حد مشکل تھی۔ اور میں جو گزشتہ ہفتہ بھر سے کتابوں اور کتابچوں میں ان کے کتے بلیوں بھیڑوں مینڈھوں اور ناگوں کے سروں والے ڈھیروں معبودوں جیسے نت مت ست کی خصوصیات کو یاد رکھنے کے چکر میں گھن چکی کی طرح پس رہی تھی۔ سخت بد دل ہوئی تھی اس سارے فسانے میں اوزیرس دیوی آئسس کے علاوہ سورج دیوتاکی بیٹی حت ہورHathor اورمُردوں کا دیوتا انوبیس بمشکل یاد ہوئے تھے۔ سارا کچھ گڈ مڈ ہو ہو جاتا تھا۔

کاش میں نے اسی خضوع و خشوع سے اپنے معبود کو یاد کیا ہوتا۔

جب باہر نکلے تو گائیڈ نے ایک اور حیران کن انکشاف کے ساتھ حیرت زدہ کر دیا تھا۔ فرعونوں کی قبروں کی کھدائی کرنے والے کسی نہ کسی انداز میں ان کے عتاب کا شکار ضرور ہوئے۔ طوطنخامن کے مقبرے کی دریافت ہاورڈ کارٹر کے ہاتھوں ہوئی تھی۔ انہوں نے ایک بہت خوبصورت گیت گانے والی بلبل پالی ہوئی تھی ۔جس دن کارٹر مقبرے میں گئے اسی دن ایک کوبرا سانپ نے بُلبل کو ڈسا اور کھا گیا۔ کوبرا سانپ فرعون کی پیشانی پر تاج کے ساتھ سجا ہوتا ہے۔ اور پرانی مصری دستاویزوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ فرعون کو تنگ کرنے والے شخص کو کوبرا جلا کر بھسم کر دیتا ہے۔

chamber میں داخل ہونے کا وقت آیا لارڈ نے ہنستے ہوئے اپنے ساتھیوں سے کہا۔

فرعون کے کمرے میں جا کر رات کو جشن منانا بہت ضروری ہے اور یہ کس قدر حیران کن بات ہے کہ ڈیڑھ ماہ بعد لارڈ کی موت بیڈ پر کوبرا سانپ کے ڈسنے سے ہوئی۔ یہی ٹریجڈی پروفیسر سٹیڈ کے ساتھ پیش آئی۔ وہ بھی مقبرے میں داخل ہوئے تھے مرنے سے قبل بالکل تندرست تھے دفعتاً فوت ہو گئے۔

ہم تینوں چلتے چلتے رُک گئی تھیں۔ حیرت اور خوف سے لبالب بھری آنکھوں سے ہم نے گائیڈ کو دیکھا کہ وہ درست کہتا ہے یا یونہی گپیں لگا کر بیان کو سنسنی خیز کر رہا ہے۔ کتابیں پڑھ لیجیے۔ میں نے تو صرف دو تین مثالیں دی ہیں اور وہ بھی طوطنخامن کے حوالے سے ۔ بے شمار خوفناک واقعات ہیں جو انگلینڈ کے اُن لوگوں کو پیش آئے جو کسی نہ کسی حوالے سے مقبروں سے وابستہ رہے۔

ثنا کی ہنسی سے پُر آواز صحرا میں دور تک بکھر گئی۔

طوطنخامن مجھے تو سچی بات ہے تمہاری جوان مرگی کا شدید دُکھ ہے۔ تم جیسے اتنے خوبصورت اور ہینڈ سم کو اتنی بھری جوانی میں مرنے کی کیا ضرورت تھی۔ زندگی اور موت دینے والے سبھی دیوتا تو تمہارے ہاتھوں میں تھے۔

باب نمبر:

۱۱ویلی آف کوئینز

نفرتیری رعمیس دوم

ویلی آف کنگزسے یہی کوئی ڈیڑھ کوس کاپینڈاہو گا ویلی آف کوئینز Valley Of Queensکا۔صحرا میں عجیب سی وحشت کا سماں تھا۔ پستہ قامت پہاڑیوں اور زمین پر دوپہرکی تازہ خالص جوانی سے بھر پور سنہری دھوپ بڑے ظالمانہ انداز میںپنجے گاڑے نظر آتی تھی۔ پانچ منٹ بھی نہ لگے تھے کہ منزل پر جا کھڑے ہوئے۔

ثنا لوگ ٹکٹ کیلئے چلی گئیں اور میں اس سے متعلق معلومات کے کتا بچے میں سر گھےُسڑ بیٹھی ۔

ویلی آف کو ئینزکو عربی میں بابباں الحرم کہاجاتاہے۔اسّی80دریافت شدہ مقبروں میں اکثریت کی حالت انتہائی ابتر ہے۔ابتری اور خرابی کی وجہ لائم سٹون کا ناقص معیار بارشوں کے پانیوں کا مقبروں میں داخلہ کیمپ فائرز سے اٹھنے والادھواں اوربیشتر مقبروں کا اصطبل وغیرہ بنا یا جانا خوبصورت مقبروں کی تباہی کے ذمہ دار عناصر تھے۔

مصر آنے سے قبل تیاری کے اہتمام میں جو کچھ پڑھا تھااُن میں نفرتیتی اور مصر کی حکمران ملکہ ہت شی پشت بہت اہم تھیں ۔پر اِس صحرا میں جو کتاب میں تھا مے کھڑی تھی ۔وہ فرعون رعمیس دوم کی حسین ملکہ نفرتیری پر تھی۔جسکا مقبرہ خصوصی اہمیت کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بہتر حالت میں بھی تھا۔اور گائیڈ بھی اُسکے قصیدے پڑھ رہا تھا۔

کہیںہجّو ں کا ہیر پھیر تونہیں ہوگیا۔میں نے گائیڈ سے دریافت کیا۔

با لکل نہیں ہو ا مصر کی تاریخ میں ایک نفرتیری جگمگاتی اور دوسری نفر تیتی مہکتی ہے۔

تکبرّ نما احساس تفاخر تھا اسکے لہجے میں۔مجھے ہر گز بُرا نہیں لگا تھا ۔تاریخ ناز کرنے والی ہو تو انداز میں یہ سب آنا فطری امر ہے۔

رعمیس دوم تاریخ فرعون کاایک زبردست شہنشاہ تجربہ کار جنگجوجرنیل تاریخ کا پہلا معاہدہ ساز سالار ڈھیروں بیویوں اور ڈھیروں بچوں کا باپ تھا ۔مگر نفرتیری اس کی بیوی نہیں محبوبہ تھی جسے اُس نے بے شمار ٹائیٹل دے رکھے تھے۔

نفرتیریجسکا مطلب ہی ہے سب سے حسین ،حد سے زیادہ وفادار بیوی ، دو سری زمینوں کی ملکہ ، خوبصورت چہرے اور محبت بھری مسکراہٹ والی ۔

نفرتیری کون تھی ۔میرے اِس سوال پر ہمارا گائیڈ کچھ صحیح طرح بتا نہیں سکا ۔قاہرہ پہنچ کر میں نے کتابوں کی دوکانوں پر بیٹھ کر بہتیر ی مغز ماری کی پرکہیں واضح انداز میں مجھے اپنے اِس سوال کا جواب نہیں ملا۔ مختلف کڑیاں ملانے سے جو میری سمجھ میں آیا اُسکے مطابق نفرتیری رعمیس دوم کے ساتھ جنگ کرنے والے شام کے حکومتی قبیلے Hattiکے بادشاہ ختا سار کی بیٹی تھی ۔دونوںملکوں کے درمیان معاہدہ پاجانے کے بعدختاسار بیٹی کے ساتھ خو د مصر آیا اور اُسے بادشاہ کے حضور پیش کیا۔ رعمیس دوم نے اس حسن کی مورت کی حددرجہ عزت افزائی کی۔ اُسے آفتاب کا حُسن دیکھنے والی کا خطاب دیا ۔

اور یہ آفتاب کون تھا۔؟آفتاب وہ خود تھا ۔رعمیس دوم۔ کیا بات ہے خود ستائی کی۔ پڑھتے ہوئے میں بے اختیار ہی مسکرا اُٹھی تھی۔

گفتگو ابھی جاری تھی کہ ثنا لوگ آئے تو آگے چلے ۔ پہاڑوں کے درمیان ایک لمبی سی سڑک ہلکی ہلکی اُترائی چڑھائی کے ساتھ دُور تک چلی گئی تھی۔

نفر تیری کا مقبرہ اختتام پر ہے۔چند لمحوں کیلئے قوسی صورت کی قدرے لمبی سی سرنگ کے سامنے بنے شیڈ کے نیجے ہم لوگ رُکے۔ہمارے سامنے پہاڑ درمیان سے پھٹے ہوئے بڑی خوفناک سی صورت دکھاتے تھے۔ قوسی سرنگ میں داخل ہوئے چوبی ریلنگ چوبی ڈھلانی راستہ جس پر پھسلنے سے بچاؤ کاپورا اہتمام تھا۔ سامنے دروازہ جسکے اُ وپر دو کتبے انگریزی اور عربی میں لکھے ہوئے ۔

مقبرہ ملکہ رعمیس ثانی۔

داخلی راہداری کی چھت پر سورج ڈسک کی کندہ کاری تھی ۔جسکے دائیں بائیں دو عقاب دیوی آئسس اور اسکی سگی بہن نفتیس کے روپ میں بیٹھے تھے۔افسوس کہ سورج ڈسک کا بالائی حصّہ اور ایک عقاب کا سر دونوں کے سر اُڑے ہوئے تھے۔اِس منظر کو پورٹر یٹ کرنے کا مقصد دراصل سورج دیوتا راکا مشرقی اُفق پر طلوع ہونا گویا ملکہ کی دوبارہ پیدائش کا مفہوم دیتا تھا۔

اگلی سیڑھیاں ہمیں بڑے کمرے میں لے آئیں۔

میرے خدا!

بے اختیار میری زبان سے نکلا ۔کبھی یہ رنگوں کا کھلکھلاتا گلزار ہوگا۔گلزار تو وہ آج بھی تھا پر خزاں کی گھمبیر اُداسی اور ویرانی میں پور پورڈوبا ہوا۔سیڑھیوں کے بالکل ساتھ والی دیوار پر کنوپی کے نیچے ایک اُونچی بیک والی خوبصورت کُرسی پر نفرتیری بیٹھی ہاتھ میں ہری بانسری پکڑے دوسرے ہاتھ سے سٹینڈ پر دھرے ایک پیانو نما سا ز پرانگلیاں پھیررہی تھی۔

واہ کیا شا ہانہ لباس تھا ۔سفید سنہری اور رسٹ کے کمبی نیشن ۔لا جواب قسم کی کڑھا ئی والا گلا میکسی نما لباس جسکے سینے سے رسٹ کلر کی سنہری جواہرات سے مزّین پٹیاںنیچے اسکے پاؤں تک آتی تھیں۔ کھلُے بال کچھ چھاتی پراور کچھ پیچھے۔

کرسی کی بناوٹ بھی بڑی حیران کرنے والی تھی۔ اسکے پائے اور بیک اسکی سیٹ کا ڈیزائن۔ میری بہو اپنے جہیز میں ایسی ہی کُرسیاں لائی تھی ۔ساتھ ہی ایک اور منظر نے نگا ہیں کھینچ لیں۔نفر تیری گھٹنوں کے بل جھکی عبادت میں مصروف تھی ۔پاس ہی انسانی صورت والا پرندہ با بھی موجود تھا۔

اُف میرے خدایا۔مصریوں کا ہردل عزیز دیوتا انکی محبوب دیوی آئسس کا شوہر دنیا وآخرت کی زندگی کی سبھی نعمتیں عطا کر نے والا اوز یرس کوئلے جیسے سیاہ چہرے پر اونچا سا تاج پہنے جسکے ساتھ کلغی نمادو پر لہلا تے تھے بے حد ڈروانی تصویر پیش کر رہا تھا ۔اسکے ہاتھوں میں نقش ونگارسے سجی سنوری دو چھڑیاں تھیں۔ایک طاقت کی علامت اور دوسری شہنشاہت کی۔

اور جب میں اُ س کے گلے میں پہنے نیکلیس نما ہنسلی (گلے کا زیور)کے ڈیزائن کو دیکھتی تھی۔ مہرالنساء اگلی تصویر کے قریب کھڑی بولتی تھی۔

جان چھوڑ دو اِس کلموہے کی۔کُتے بلیوں کی صورت والے اسکے چار پوتوں کو دیکھ لو۔ واقعی یہ ہورس کے بیٹے تھے ۔آگے پیچھے بیٹھے جیسے کیسیاں لیتے ہوں۔

پتہ نہیں ہماری اِس ٹھٹھول بازی کو گائیڈ کیا سمجھا ۔اُسنے فوراً کہا۔

یہ ہورس کے چاروں بیٹے ہیں اور اِس سین کا تعلق The Book of The Dead سے ہے the book of the dead کیا بلا ہے ۔مہرالنساء نے فوراً اسکی طرف رُخ موڑا۔

ہمارا گائیڈ بولنے بتانے اور سمجھانے میں بڑا پروفیشنل تھا۔

اِس نام سے مربوط کسی کتاب کا تصور ذہن میں مت لا یئے گا۔دراصل پیپرس PAPYRUSکے چھوٹے بڑے ٹکڑ وں پر چھوٹی چھوٹی رنگین تصویروں اور پُر تاثیر فقرات پر مبنی حسابِ آخرت جنت دوزخ راستے کا احوال آسمانی دروازوں اور دیگر بہت سے مذہبی عقائد کی تفصیل درج ہوتی تھی۔قدیم مصریوں کا یقین راسخ تھا کہ وہ اِن مناجاتوں دعاؤں اور منتروں کو پڑھتے ہوئے موت کے سب مراحل آسانی سے طے کرتے ہوئے دوسری دنیاکے مالک ومختاراوزیرس کے حضور سلامتی سے حاضرہو جائیں گے۔

اس وقت ایک اور سوچ نے بھی دروازہ کھول کر کہا تھا۔ یہ قبل مسیح کی مذہبی دنیا اور میرے عقائد میں تھوڑے بہت اختلافات کے ساتھ مماثلت بھی کافی ہے۔

یہ پیپرس کیا کوئی کاغذ ٹائپ چیز ہے۔ ثنا نے پوچھا۔

Papyrusنامی پودے کی چھال ہے ۔یہ نباتاتی کاغذ (برُدی)مصریوں کی ہی ایجاد تھی۔ہم نے بے حد دلچسپی سے یہ سنُا ۔مجھے یاد آیا تھا میں نے گلگت کی ایک وادی نلتر میں ایسے درخت دیکھے تھے۔

رُخ بدلا تو ایک اور سین منتظر تھا۔ ایک خوبصورت تخت پر ایک ارتھی رکھی ہوئی تھی۔سرہانے پائنتی دو عقاب بیچارے مسکین سی صُورتیں بنائے آئسس اور نفتیس دیویوں کے روپ میں بیٹھے تھے ۔

مردے کا چہرہ بڑا خوفناک تھا۔

اُف کبھی یہ چوکور ستون رنگوں کے حُسن سے جگمگا تے ہو نگے ۔اب تو انکے وجود داغوں سے بھرے پڑے تھے۔

ہم بڑے سے ملحقہ دونوں چھوٹے کمروںمیں چلے گئے۔یہاں بڑی تصویروں کے ساتھ ساتھ دیواریںمُنّی مُنّی تصویروں سے بھی بھری پڑی تھیں ۔یہ مُنّی مُنّی کون سی داستانوں کی نمائندہ تھیں۔مجھے اُن میں ہرگز دلچسپی نہیں تھی۔بڑی تصویروں کی صورت کچھ اِس شعر کی نمائندہ تھیں ۔

کہاں تک سُنو گے کہاں تک سناؤں۔

ہر تصویر کچھ بتاتی تھی کچھ بولتی تھی۔میںنے اُن سبھوں کو دیکھا۔بھونرے کے سر والا کیپری دیوتا ۔انتہائی خوفناک قسم کے سانپ آسمانوں کی معبود دیوی حت حور میری توجہ تو کھینچ رہی تھیں پر میں نے معذرت کرتے ہوئے کہا۔

۔ٔٔ ًَ۔۔ نہیں بھئی معاف کریں کتنا مشکل ہے تم لوگوں کو پڑھنا۔اب کہاں the book of dead کے باب کھولوںاور تمہیں سمجھنے میں بھیجا کھپاؤں بس میں تو نفرتیری کو ہی دیکھوں گی۔

کیا قدوقامت تھی۔ کس قدر خوبصورت سڈول جسم تھا۔ کیا ہاتھو ں پاؤں کی نزاکت تھی۔سفید پیرھن تھا جو یہ بتا تا تھا کہ اِس وقت کے سلائی کرنے والے کیسے ماہر لوگ تھے ننگے سڈول با زوؤ ں پرکس خوبصورتی سے کپڑے نے چُنٹ کی صورت آکر اُ نہیں کچھ یوں ڈھانپا تھا کہ وہ اِس شعر کا الُٹ ہو گئے تھے۔چھُپے ہوئے بھی ہیں۔اور پوری طرح سامنے بھی ہیں ۔گلے کی کڑھائی اُن میں رنگوں کا امتزاج ہُڈ پر مینا کاری ہم تینوں دم بخود اُسکی تصویر کو دیکھتی تھیں۔

ایک اور تصویر بھی خاصی دلچسپ تھی ۔۔را سورج دیوتا ۔اتنا اہم دیوتا اور صورت کسی منحوس سے پرندے کی ۔ارے کونسے پرندے کا سر چو نچ ہے یہ۔بہتیرا دماغ لڑایا۔ پر ہمیشہ کی کو ڑھ مغزہوں سمجھ ہی نہیں آئی۔گائیڈ بھی پاس نہیں تھا کہ پوچھتی۔ہاں البتہ اُسکے بازو میں ہاتھ ڈالے اسکے ساتھ بیٹھی دیوی حت حور اپنی عنابی رنگی میکسی سیاہ بالوں اور میکسی کے ہمرنگ ہئیربینڈ کے ساتھ بڑی جاذب نظر تھی۔اُسے ایسا ہی ہوناچاہیے تھا آخر سارے فنون لطیفہ والے شعبے موسیقی رقص خوشی محبت اُسی کے قبضہ اختیارمیں تو تھے۔

جب مڑنے لگی تو دفعتاًدروازے کی چوکھٹ پر ایک بڑا سا گدھ پر پھیلائے نظر آیا۔

اب یہ منحوس اللہ مارا جانے کسِ دیوی دیوتا کا روپ دھارے بیٹھا ہے۔گائیڈ نے بتایا تھاکہ یہ بالائی مصر کی دیوی نکبت کا روپ ہے۔معلوم نہیں اِن قدیم مصریوں کی مت اِس معاملے میں کیوں ماری گئی تھی کہ ہر دیوی دیوتا کو کسی جانور کاچہرہ ضرور سونپاہوا تھا۔

ایک اور تصویر دیوی آئسس اورنفتیس کی تھی۔دونوں بہنیں۔دونوں دیورانی جیٹھانی۔دونوں اپنے سگے بھائیوں سے بیاہی ہوئی۔

دونوں بہنیں سورج دیوتا را کا مینڈھا والاسر پکڑے کھڑی تھیں۔

را دیوتا کو کتنے جانورں کے روپ میں ڈھالا ہوا ہے۔حد ہے اِن کی بھی۔

سیڑھیاں اُتر کر میں درمیانے چیمبرمیں آئی۔پر یہاںٹھہری نہیں ۔ ایک نظر ڈالتی کوریڈور Burial Chamberکی طرف بڑھنے لگی تھی۔پر میں رُک گئی۔stairsکے چھوٹے سے کوریڈور کی مشرقی اور مغربی دیواروں پر بنی تصویر وں نے میرے پاؤں میں زنجیریں ڈال دی تھیں۔ایک جہازی سائز نما پروں والا سانپ ستون پر نقش بیل تختی پر لکھے گئے نفرتیری کے نام کی حفاظت کیلئے مستعد تھا۔اوزیرس کا ناجائز بیٹا انوبیس مُردوںاور قبرستانوںکا دیوتا گیڈر کی صورت میں قطعاًمیرے لیے قابل توجہ نہ تھا۔

پر وہ دونوں دیویاں مت اور ست اپنی حسین صورتوں اور خوبصورت پہناوں کے ساتھ بھلا نظر انداز کرنے کے قابل تھوڑی تھیں۔میں نے انکے لباسوں کی تراش خراش اور جن کرسُیوں پر وہ بیٹھی تھیں اُنکی بناوٹ پر بھی خصوصی غور کیااور مصریوں کی فنکاری کا کھُلے دل سے اعتراف کیا۔

اور یہیںعقبی دیوار پر اِس مقبرے کی دُلہن نفرتیری شراب کے دو جام دیوی حت حور کو پیش کرتی تھی۔اُف کیا شے تھی یہ۔پھر میں نیچے Burial chamber میں اُتر آئی تھی۔

قدرے اندھیراویرانی کا گھمبیر سا تاثر شکستگی اور ٹوٹ پھوٹ کی سارے میں اجارہ داری کا پھیلاؤ۔میں نے دروازے میں رُک کر پورے کمرے پر نگاہ دوڑائی۔چار چوکور ستون اطراف میں زمین سے اُوپر اُٹھے چبوتروں پر کھڑے چھت سے ملتے تھے۔جن کے درمیان سے دوپوڈوں کے زینے اطراف کے تین چھوٹے کمروں کی طرف نکلتے تھے۔مقبرے کی جگہ گراؤنڈ لیول سے تھوڑی سی زمین بوس ہو گئی تھی۔چھت نیلے پس منظر میں پیلے ستاروں سے سجی ہوئی تھی۔جو آسمانوں کی نمائندگی کی عکاس تھی۔

دروازے کی چوکھٹ پر سورج دیوتا کی دُلاری بیٹی سچائی اور انصاف کی مظہر انپے سر پرشتر مرغ کا پر سجائے انپے بازوںکے پروں کو پھیلائے بیٹھی تھی۔بسنتی لباس کا میچنگ بینڈ بالوں میں سجا ہوا تھا۔

پتہ نہیں کیوں میں پژ مردگی کی دبیز تہہ تلے آگئی تھی۔ستونوں پر بنی تصویریں بھی مجھے فی الحال متوجہ نہیں کر رہی تھیں ۔شاید نہیں یقیناً اسوقت میں دنیا کی بے ثباتی پر افسردہ تھی۔ہندوستان کی عظیم ملکہ نورجہاںمجھے اپنی تمام تر رعنائیوں اوردبدبوںکے سا تھ یاد آئی تھی۔جہانگیرکے دل کے ساتھ ہندوستان جیسے ملک پر بھی راج کرنے والی ۔

شعر بھی کہیں سے اُڑتاہوا ہونٹوں پر آکر اکسانے لگا کہ مجھے گنگنانے کا بھلااِس سے زیادہ موزوں موقع کونسا ہوگا۔

بر مزار ماغریباں نے چراغے نے گلے

نے پرے پروانہ سوزد نے صدائے بلُبلے۔

کس قدرزبوںحالی تھی اسکے مقبرے کی ۔میں جب بھی شاہدرہ اُسے دیکھنے گئی میری آنکھیں ہمیشہ بھیگیں۔

آج بھی وہی صورت تھی۔ رعمیس دوم جو بالائی اور زیریں مصر کا مطلق العنان فرمانرواتھا۔جو جنگ اور امن کا بادشاہ تھا۔جس نے دنیا کی سب سے پہلی امن دستاویز تیار کی اوراِس پر دستخط کیے۔جو بے شمار مقبروں مندروں مجسموں اور یاد گاروں کا بنانے والا تھا۔ جو انتہائی متکبر اور ظالم بھی تھا۔یہی وہ رعمیس دوم تھا جس نے بنی اسرائیل کے نوزائیدہ بچوں کو قتل کرنے کا حکم دیاتھا۔ اور جسکی نفرتیری محبوب بیوی تھی۔وہ بیوی جس نے اُس کے ساتھ امور مملکت سر انجام دیئے۔ اور یہ کس قدر حیرت انگیزبات ہے ۔کہ ہزاروں سال قبل مسیح کا ایک فرمانروااس قدر روشن خیال تھا۔کہ وہ بالائی مصر کے آخری حصے میں ابوسمبل کاٹمپل بناتے ہوئے مصریوں کی حُسن ومُحبت کی محبوب دیوی حت حور کے ساتھ خود کو اور نفرتیری کو 33فٹ اونچے مجسموں کی صورت میں کھڑا کرتا ہے ۔اور یہ بھی اُسی کا حُکم تھا کہ میری محبوبہ کا ویلی آف کو ئینز کا خوبصورت ترین مقبرہ ہو۔

اللہ حُسن اور خوبصورتیوں کو وقت کی بے ثباتی کیسے چاٹ جاتی ہے۔وہ جن کا کبھی طوطی بولتا تھا۔قصہ ماضی بنتے ہیں۔

فانی فانی فانی جیسے ہر شے نے پکار کرکہا۔

میں Burial Chamber میں اطرافی چبوترے کے ایک کونے میں دھرے سٹول پر بیٹھ گئی تھی۔میرا ماتھا پسینے سے تر بتر تھا۔

تھوڑی دیر بعد اُٹھ کر میں نے ستونوں پر پینٹ تصویروں کو دیکھا ۔پہلے ستون کی تصویروں سے میری خاصی شناسائی ہو چکی تھی۔ پر اگلے ستونوں کی کندہ کاری خوفناک ہونے کے ساتھ ساتھ سمجھنی بہت مشکل تھی۔

چلیے دوات تو مصریوں کے عقیدے کے مطابق عالم آخرت تھا۔ اور دیوتا اوزیرس کی بادشاہت کے چوتھے اور پانچویں گیٹ کے دربان بھی سمجھ میں آگئے کہ عالم بالا سات دروازوں میں تقسیم تھااورہر گیٹ پر کوئی نہ کوئی دیوتا بیٹھا ہوتا تھا۔پر یہ The book of deadکے 17,92,94,144,146,148ابواب کو پڑھنا اور سمجھنا خاصا کار مشکل تھا۔گائیڈ بیچارہ تو پس منظرسمجھانے کیلئے تیار تھا۔پریہ بڑا مشکل اور بوریت والا کام تھا۔اورسچی بات میں نے بھی توجہ نہیں دی۔دراصل قاری کو اتنی گھمن گھیریوں میں ڈالنا کونسی دانشمندی ہے۔کوئی بیچاروں نے پی ایچ ڈی تھوڑی کرنی ہے۔

Burial chamberکی پینٹنگ دراصل ملکہ کے لمبے سفر آخرت کی عکاس ہیں۔مصر کی اینٹیک آرگنائز شن Antique Organizationکو بہر حال یہ کریڈٹ دینا پڑے گا کہ اُس کے واویلا مچانے اور بین الاقوامی سطح پر مقبرہ بچاؤمہم خاصی موثر ثابت ہوئی کہ وگرنہ توآرٹ کے اس نادر شاہکار نے وقت کی گردشوں میں اپنے باقی ماندہ وجود کے ساتھ ڈوب جانا تھا۔ 1986ء Conservation Insititute Getty نے اسکو بچانے کی ذمہ داری قبول کی اور خاصی محنت اور تگ ودو کے بعد سب سے زیادہ متاثر زدہ حصہ Burial chamberکو جدید سامان اور اوزاروں سے کسی حد تک محفوظ کر دیا۔

باب نمبر:

۱۲ملکہ ہت شی پشت

فرعون تھتھومس سوم

دو منفرد کردار

یہ تھکاوٹ تھی ۔بھوک کی نڈھالی تھی یاگاڑی کے اندر کی حرارت بخش نگھی سی فضا تھی۔اِن سب کا نتیجہ میرے سر کا کھڑکی کے پٹ سے ٹکنا اور آنکھیں بند ہو جانا تھا۔جب کوئی آدھ گھنٹہ بعد آنکھ کھلی تو چند لمحوں کیلئے تو کچھ سمجھ ہی نہیں آیا کہ آخر ہوں کہاں ؟۔ پھر تھوڑی سی حواسوں میں آئی تو یاد آیا کہ ویلی آف کوئینزسے تو چل پڑے تھے۔

بائیں جانب نظروں کے سامنے لمبے لمبے شگافوں والی دو منزلہ خوبصورت عمارت اپنے کشادہ ڈھلانی راستے کے ساتھ یکدم نگاہوں کو کسی مقناطیس کیطرح اپنی جا نب کھینچتی تھی۔ لوگوں کا ایک ہجوم اسکی طرف رواں تھا۔

ثنا نہیں تھی ۔مہرالنساء عقبی سیٹ پر باقاعدہ سورہی تھی۔گائیڈ بھی نہیں تھا اور ڈرائیور گاڑی کے قریب ہی ایک چھوٹے سے پتھر پر بیٹھا غالباً کسی عربی گیت کا تیاپانچہ کر رہا تھا۔

یہ کونسی جگہ ہے؟۔میں نے پوچھا۔

دارالجریہ۔ملکہ ہت شی پشت کا ٹمپل۔

اُسی ملکہ کا جو تاریخ مصرکی واحد فرعون ہوئی ہے۔

صحیح سمجھی ہیں آپ۔

ارے یہ تو دیکھنا ازحدضروری تھا۔خود سے کہتے ہوئے میں نے ڈرائیو رسے ٹکٹ کے پیسوں کا پوچھا۔

پچاس مصری پاؤنڈ۔

پچاس سے ہر گز کوئی ٹکٹ کم نہیں ۔قسم کھالی ہے اِن لوگوں نے۔

بڑبڑاتے ہوئے ڈرائیور کو ٹکٹ لانے کیلئے کہا اور خود مہرالنساء کو اُٹھانے لگی ۔

ارے تم جاؤ ۔نیم باز سی آنکھوں سے اُسنے مجھے ہاتھ اٹھا کریوں اشارہ دیا جسے میں مثل ناک پر بیٹھی ہوئی مکھّی ہی تو تھی جسے بندہ ہاتھ جھٹک کر اُڑادے۔پر جب ٹمپل کیطرف رواں دواں تھی۔ میں نے دیکھا مہرالنساء بھاگتی آتی تھی۔ ثنا اوپر ٹمپل پر کھڑی مجھے نظر آئی تھی۔

ٹمپل کی عمودی چڑھائی چڑھتے ہوئے میں نے اپنے سامنے پھیلی عمارت کو بغور دیکھا۔عمارت کا آرٹسٹک پوائنٹ سے منفرد ہونا اور فنکار SENMUT کے اِس ٹمپل کی تعمیر میں اپنے کمال فن کے اظہار کو زبان دینا اور خود کو مصر کی تعمیری تاریخ میں منوانا سمجھ آتا تھا۔

سینمت پر توصیفی انداز میں لکھا ہوا مواد میرے دماغ میں محفوظ تھا۔دراصل یہ سینمت کا ہی شاہکارنہ تھابلکہ اُس خاتون فرعون کے ذوق کا بھی نمائندہ تھا ۔جس نے اِسے اپنے باپ TUTMOSES I کیلئے بنوایا تھا۔ جگہ کے انتخاب سے لیکر اُسنے اسکے تمام مراحل میں جسطرح خصوصی دلچسپی لی اُسنے ثابت کیا کہ وہ ملٹری کمانڈر کے ساتھ ساتھ آرٹ لور (Art Lover) بھی ہے۔ IMHOTED جیسے بے مثل آرٹسٹ کے تقریباً بارہ سو سال بعد سینمت ہی وہ فنکار تھا جس نے یاد گار کے عقب میں پھیلی چٹانوں کی صورت گری بھی بڑے ہی دلفریب اور خوبصورت انداز میں کی تھی ۔

لائم سٹون کے پہاڑوں پر تیز بارشوں اور آندھیوں نے اُن میں جودراڑیں ڈال رکھی تھیں وہ فرعونوں کی مختلف شکلوں میں ڈھلی ہوئی تھیں ۔میری تو ہنسی چھوٹ گئی تھی۔

۔۔اللہ مصر کی سر زمین اُس زرخیز عورت کیطرح ہے جسے مرد کاذرا سا لمس فوراً حاملہ کر دے۔۔۔

مشرقی جانب اپنے چہرے کے جھکاؤ کے ساتھ یہ متعددکشادہ ٹیرسوں پر مشتمل ہے۔میں سیدھی بالائی ٹیرس سے اندر کی جانب مڑ گئی ۔کم چوڑے لیکن لمبے کوریڈور بڑے بڑے پتھروں والے کھردرے فرش جس پر چلتی ہوئی میں نے دیوار پر بنی اُن تصویروں کو دیکھا جن کی نقاشی وقت کے ساتھ ماند پڑی ہوئی تھی ۔یہاں رکنے کی بجائے میں نے ایک نظر پہلے سارے ٹمپل کو دیکھنا چاہا۔عقبی جانب ستونوں کا نصف برآمدہ گرا پڑا تھا۔

پہلا ٹیرس Sphinxes (طیبس حالیہ لُکسر کی دیوی جسکا دھڑ شیر اور سر انسان کا)کے لیے مخصوص تھا۔ اِس ٹیرس کے اختتام پر ایک ڈھلانی راستہ اوپر جاتا تھا۔میں یہاں رُک گئی۔اور دیوار پر اُن تصویروں کو دیکھنے لگی جو ملکہ ہت شی پشت کی پیدائش اور بچپن کی تھیں ۔کچھ تصویریں ایک جنگی مہم کی بھی تھیں۔

میں کچھ دیکھنے کی خواہشمند تھی جو مجھے ابھی تک یہاں نظر نہیں آیا تھا۔میں نے بغور دیواروں کا جائزہ لیا اور جیسے میری آنکھیں چمکیں ۔

فرعون ملکہ ہت شی پشت کی تاج پوشی کی رسمیں تھیں جو یہاں کندہ تھیں اور جن کے بارے میں میں نے پڑھا تھا۔اور میں انکی ہی کھوج میں تھی ۔

پہلے منظر میں ملکہ ہورس دیوتا اور آخرت کے دیوتا (THOTH) کے درمیان کھڑی تھی اور دونوں اس پر دو برتنوں سے پانی اُنڈیلتے اور اسکے ہاتھ صاف کرتے تھے۔پھر دونوں نے اُسے دیوتاؤں کے سامنے پیش کیا۔

ایک دوسرے منظر میں دربار کا سین تھا۔اپنے پہناووںاور ہاتھوں میں پکڑی اشیاء سے وہ درباری کا تاثر دیتے تھے یہاں ملکہ کی تخت نشینی کا اعلان ہوتا تھا۔

تیسرے سین میں ملکہ کو تاج پہنایا اور شاہی عصا اُسکے ہا تھ میں دیا جا رہا تھا ۔یہاں دو تخت تھے ۔دو تاج ۔شمالی مصر کے تخت کا رنگ سرخ اور جنوبی مصر کا سفید دونوں تاج اسکو پہنائے گئے۔

فرعون TUTMOSES I تھتھومس اوّل کی شاہی بیوی سے صرف ایک ہی بیٹی جو مصری قانون کے مطابق تاج وتخت کی جائز اور حقیقی حقدار۔ پرمسئلہ اُسکے عورت ہونے کاتھا۔درباری متفق نہ تھے تاہم فرعون نے دلیرانہ فیصلہ کیا اور اُسے اپنا جانشین بنایا۔

یہاں ایک اور سین دیکھنے میں آیا ۔فرعون اپنی بیٹی کیطرف اشارہ کرتے ہوئے درباریوں سے کچھ کہتا ہے۔

دفعتاً مجھے اپنے داہنے طرف کچھ تیز سی آوازیں سنائی دیں ۔میں نے فوراً رخ پھیر کر دیکھا۔چار مرد اور دو عورتیں کاغذات کا پلندہ ہاتھ میں پکڑے تصویر یں دیکھنے اور انہیں کاغذات سے میچ کرنے میں محو تھے۔

V[L:0][L:0][L:0] کمال ہے تحقیق تو ختم ہے اِن لوگوں پر۔

[L:206][L:0][L:0][L:0] میرے اندر رشک وحسد کا ناگ پھنکارا سچ ہے خدا ایسے ہی نہیں نوازتا۔اندرونی جذبا ت ہونٹوں پر آگئے تھے۔

[L:140][L:4 R:0][L:0] میں نے دوسری طرف کا چکر پورا کاٹا اور جب دوبارہ اس سمت آئی تو وہ ٹولہ وہیں پتھروں کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔میں قریب گئی اپنا تعارف کروایا اور ان کے بارے میںجاناکہ سکاٹ لینڈ سے چھ کے اس گروپ میں دو تاریخ کے اُستاد تھے اور بقیہ طالب علم۔میں نے کاغذات دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ صد شکر کہ انہوں نے خوشدلی سے وہ مجھے پکڑا دئیے۔ اور میرے لیے یہ مقام مسرت تھا کہ مواد سارا انگریزی میں تھا۔میں نے ورق پلٹا۔فرعون TUTMOSES تھتھومس کا خطاب تھا۔اپنی بیٹی کی جانشینی کے بارے میں بیٹی کیلئے اسکی بے پایاں محبت کا اظہار اور اپنے امراوزراء کو اُسکی فرمانبرداری کی تلقین۔دیوار پر یہ مناظر موجود تھے۔میں وہیںبیٹھ کر اوراق کی ورق گردانی کرنے لگی۔

بڑی زبردست ملکہ تھی ۔تےئس 23 سال تک بڑے دبدبے سے حکومت کی۔شوہر کو کھڈے لائن لگائے رکھا۔دربار میں مصنوعی داڑھی لگا کر آتی ۔

ورق پلٹے۔پھر اچانک میری نظروں نے پانچویں صفحے کا احاطہ کیا۔ایک نئی اور انوکھی داستان یہاں رقم تھی۔تصویریں بھی تھیں جو عید فیسٹیول کے عنوان کے تحت تھیں ۔

یقینا یہ تصویریں یہیں کہیں اِن دیواروں پر ہونگی ۔میں نے خود سے کہا ۔اور نفس مضمون دیکھنے لگی ۔

ملکہ ہت شی پشت کے بارے میں ایک خیال یہ بھی تھا کہ وہ دیوتا امن(لُکسر کا دیوتا) کی بیٹی ہے ۔ دیوتا امن نے اہموسی(تھتھومس کی ملکہ) کے حُسن کے بہت چرچے سُنے تھے۔ایک دن اُسنے دیوتا توت سے دریافت کیا ۔ کیا اہموسی فسُوں خیز حُسن کی مالک ہے؟ توت کا جواب تھا آپ نے اُسے دیکھا نہیں۔ دیکھتے تو یہ نہ پوچھتے۔ ایسے سحر انگیز حُسن کی مالکہ سے ملنا تو ضروری ہے ۔دیوتا امن اُسکا دیوانہ ہوگیا۔پڑھتے پڑھتے میری ہنسی چھوٹ گئی۔لو یہ دیوتا بھی نرے انسانوں جیسے نکلے۔

تب امن نے شاہی جوڑا پہنا ۔نک سک سے تیار ہوا اور توت اُسے اہموسی کے محل میں لے گیا۔اُسکے بدن سے پھوٹتی خوشبو سارے محل میں پھیل گئی۔اسوقت ملکہ اپنی خوابگاہ میں گہری نیند میں تھی ہر سو بکھری خوشبو کے سحر سے بیدار ہوئی۔اور کمرے سے مسکراتے ہوئے نکلی۔اور باہر کھڑے امن دیوتا کو والہانہ انداز میں دیکھنے لگی۔

پھر محل میں انوکھی خوشبوئیں پھیل گئیں۔ دیوتا اور ملکہ رات بھر ایک دوسرے کے ساتھ رہے صبح دم دیوتا امن نے ملکہ کو خوشخبری دی کہ میرے اورتیرے ملاپ سے مصر کی ملکہ جنم لے گی۔وہ زبردست اور طاقتور ہوگی ۔وہ میری بیٹی ہوگی اور کوئی شخص اُسے زیر نہیں کر سکے گا۔

اور جب ملکہ اہموسی کے ہا ں بیٹی کی پیدائش ہوئی تو اُسکا نام ہت شی پشت رکھا گیا۔دیوی اور دیوتا آئے جنہوں نے اُسے دعاؤں سے نوازا۔

اپنے بچپن کی پڑھی ہوئی کہانی دماغ میں کلک ہوئی۔اِسی سے کسی حد تک ملتی جلتی ۔

تےئس 23 برس تک وہ مصر کے تخت پر راج کرتی رہی ۔اس میں کو ئی شک نہیں کہ اسکے زمانے میں راوی نے چین ہی چین لکھا۔

پر جونہی اسکی آنکھیں بند ہوئیں ۔اُسکا شوہر TUTMOSES سوم ایک زبردست فرعون کی صورت میں مصر کے تخت پر بیٹھا۔بیوی کے خلاف اُسکے اندر جیسے زہر بھرا ہواتھا۔جسے جانے کب سے دبائے بیٹھا تھا اور جسکا کھُلّم کھُلّااظہاراُسنے موقع ملتے ہی کرنا شروع کردیا۔اُسنے ہر اُس نشان ہر اُس یاد کو سختی سے مٹا دینے کی کوشش کی جس سے ملکہ کا نام یا اسکا کوئی کارنامہ وابستہ تھا۔اُسکے مجسموں کو تڑوا دیا یا انکی صورت بدلوادی۔اور اگر یہ نہ کر سکا تو اسکے چہرے کے کچھ نقوش کی توڑ پھوڑ سے اُسے بدصورت اور کر یہہ بنانے کی پوری کوشش کی۔نفرت کا جیسے اُسکے اندر لاوہ بھرا ہواتھا جو پھوٹ پھوٹ کر باہر نکل رہا تھا۔

تاہم وہ ایک دوررس دوربین مدبر اور بہترین منتظم ثابت ہوا۔اپنے فیصلوں اور ارادوں میں پختہ اور اٹل۔ایسا جیالا اور شہ زور فرعون مصر کو نہ کبھی پہلے نصیب ہوا تھا اور نہ بعد میں ہوا ۔اُسنے ملک کو اتنا سر بلند کیا کہ چہار جانب اسکا ڈنکہ بجنے لگا۔

[L:174][L:2][L:0][L:0] شام ہمیشہ سے مصر کا رقیب رہا ۔کبھی اُسکے HATTI قبیلے اُسپر چڑھ دوڑے اور کبھی سامی۔ Tutomoses III تھتھومس سوم کے کانوںمیں جونہی انکے عزائم کی بھنک پڑی اُس نے خود فوجی لشکر کے ساتھ چڑھائی کر دی ۔وہ پوری قوت سے انکی طاقت کچل دینا چاہتا تھا۔اُسکی جنگی چالوں میں دوربینی تھی۔جُرات اور شجاعت تھی۔مرمٹنے کا جذبہ تھا۔یہی وجہ تھی کہ وہ ہر محاذ پر کامیاب ہوا۔

تینتیس 33 برس میں اُس نے مصر کو وسعت کے اعتبار سے شام وفلسطین تک پہنچا دیا تھا خوشحالی کے لحاظ سے اسکے خزانے بھرے ہوئے تھے اور امن وامان کی صورت مثالی تھی۔

ہمسایہ ملک خوفزدہ تھے۔اسکے باجگذار تھے۔ مُلک مصر کے شاہی کالجوں میں اپنے وارثوں کو تعلیم کیلئے بھیجنا اور مصریوں کے اطوار کی نقل کرنا باعث فخر سمجھتے تھے۔

اُنہیں کاغذات واپس کرتے ہوئے میں قبل مسیح تاریخ کے اس کردار پر حیرت زدہ تھی۔

باب نمبر:

۱۳اخناتون نفرتیتی

کلوسی آف ممنون

ویلی آف نوبلز کی طرف چلنا ہے۔وہاں سے ویلی آف ورک مین کی جانب کوچ ہوگا۔

گائیڈنے ڈرائیور کو بتاتے ہوئے چلنے کا اشارہ کیا۔

خدا کیلئے ہم پر رحم کرو۔ہمیں نہیں دیکھنے کمبخت مارے شیطان کی آنت کیطرح پھیلے ویلز کے یہ مزید سلسلے۔ پہلے ہی ڈیڑھ گھنٹہ سے گاڑی میں سوکھنے پڑے ہوئے ہیں۔ تاریخ کی اس بوبو کی کسی طرح تشفی ہو تو آگے بڑھیں۔

مہرالنساء تلخی سے بولی تھی۔

یہ بڑا واضح طنز تھا جو مُجھ پر کیا گیا تھا پر جسے میں نے برداشت اور صبر شکر کے میٹھے گھونٹ کی طرح پی لیا تھا۔ اسوقت واقعی بھوک نے پیٹ میں طوفان اُٹھایا ہوا تھا۔اور مزید کچھ دیکھنے پر طبیعت قطعی مائل نہیں تھی۔

چلیے ٹھیک ہے۔ کہتے ہوئے گاڑی سرپٹ بھاگنے لگی ۔

میں نفرتیتی کے بارے میں سخت اُلجھن میں تھی۔یہ چاروں کھونٹ اپنے حُسن کی دھوم مچانے والی کون تھی؟ کس کی بیوی تھی؟

گائیڈ سے پوچھا کہ بھئی کچھ اس پر تو روشنی ڈالو۔

نفرتیتی آپکے اعصاب پر سوار معلوم ہوتی ہے۔ وہ ہنسا۔

کہہ سکتے ہو ۔ میں بھی ہنس پڑی۔

یہ اٹھارویں خاندان کے نویں بادشاہ AMENHOTEP IV امنہو تپ چہارم کی بڑی دلاری اور چہیتی بیوی پر بیوی کم اور محبوبہ زیادہ تھی۔تاریخ مصر میں قلوپطرہ کے بے مثال حُسن کے بعد نفرتیتی کا شہرہ ہے۔حُسن میں یکتا تھی تو عشوہ طرازیوں میں بھی بے مثل تھی۔وہ اپنے وقت کی ذہین ترین عورت تھی کہ جس نے نت نئے فیشنوں اور ملبوسات کی تراش خراش اور ڈیزائنوں میں جدّتیں کیں اُسکا شوہر بھی ایک جینئیس تھا۔اپنے وقت سے پہلے پیدا ہونے والا نابغہ روزگار کم عمری میں تخت نشین ہوا اور اپنا نام اخناتون AKHENATEN) ( رکھا۔

فرعون اخنا تون ایک سچا صاف گو نڈر بے باک ریاکاری اور بناوٹ سے مبرّا ایک عظیم انسان تھا۔ہر دور کے فرعون ذاتی اور نجی زندگی کے بارے میں حد درجہ محتاط اور حساس ہوتے تھے۔اپنی تصویر یں اور مجسمے ایسے شاندار بنواتے تھے کہ حقیقی صورت شرمندہ ہو ہو جاتی تھی۔

تاریخ فرعون میں اخناتون واحد مثال ہے جس نے اپنے ہر کام کی اساس سچائی پر اُٹھائی۔ سنگ تراشوں اور آرٹسٹوں کو حکم دیا کہ وہ اُس کے اور اُس کے خاندان کے مجسمے من و عین اُن کی اصلی صورتوں جیسے بنائیں۔اپنی نجی زندگی کو تصویروں میں عرُیاں کیا کہ وہ اپنے محل میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اپنے شب وروز کیسے گزارتا ہے۔اُسکی تصویریں نفرتیتی سے اسکی بے پایاں محبت کی حقیقی عکاسی ہیں ۔کہیں وہ دونوں بیٹھے ہنس رہے ہیں گلے مل رہے ہیں ۔دربار میں نفرتیتی نک سک سے آراستہ اُسکے ہمراہ تخت پر بیٹھی ہے۔کہیں انکے بچے انکے پاس کھیل کود میں مصروف ہیں ۔مندروں میں اُسنے اپنی تصویروں اور مجسموں کے ساتھ نفرتیتی کی تصویریں اور مجسمے بھی بنوائے اور اُنکی پوجا ضروری ٹھہرائی۔

واہ محبت ہوتو ایسی ۔ بے اختیار ہی رشک آیا۔پر چُپ رہے کہ چُپ میں اکیسویں صدی میں سانس لینے والے اعلیٰ تعلیم یا فتہ ہمدم کا پردہ رہنا ضروری تھا۔

گائیڈ بڑے دھیمے لہجے میں بڑے ٹھہراؤ سے بات کرتا تھا۔

شاعر تھا۔وحدت پرست تھا۔پروہتوں اور بے شمار دیوی دیوتاؤں کا مخالف تھا۔اسکے ہاں حقیقی خدا کا تصور تو نہیں ملتا ہاں البتہ اتون کی صورت میں سورج دیوتا کی پرستش ضروری تھی۔یہی اُسکا واحد خدا تھاجسکی مدح سرائی میں کی گئی شاعری اُسکی وحدت پرستی کو نمایاں کرتی ہے۔

تو نے زمین انسان او ر تونے آسمان پیدا کیا اس لیے کہ تیری عظمت کو مانا جائے

تو ہی معبود ہے اکیلا معبود۔ تو چمکتا ہے ۔ تو ایک ہے ۔ اکیلا ہے۔ واحد ہے۔

تیرے جیسا کوئی نہیں۔ جب تو اپنی کرنیں زمین پر پھینکتاہے توزمین خوشی سے جھومنے لگتی ہے۔ اور تیری بڑائی اور عظمت کے گیت گاتی ہے۔

یہ ایک لمبی حمد ہے۔مجھے اسکے چند ٹوٹے ہی یاد ہیں ۔گائیڈ نے معذرت کی۔

پر وہ صرف بتیس 32 سال جیا ۔اور اسکی موت کے ساتھ ہی اُسکا مذہب بھی ختم ہوگیا۔یقینا اسکی وجہ رائج مذہبی عقائد میں خرابیوں کو دور کرنے میں اسکی عدم دلچسپی تھی۔شاید اُس نے اِس نکتے کو بھی سمجھنے میں غفلت برتی کہ انتظامی امور کو فعال طریقے سے چلانے کیلئے سخت گیری اور شمشیر زنی کی ضرورت ہوتی ہے۔

دفعتاً مہرالنساء بولی۔

دُنیا میں کل کتنے پیغمبر آئے ؟ دُنیا میں ایک لاکھ اور چوبیس ہزار پیغمبر آئے۔ارے بھئی یہ سوال پالنے سے اماں نے یاد کروانا شروع کیا اور سارا بچپن اسلامیات کی ٹیچر نے اِسے رٹوانے میں گزارا۔تو ذرا سوچو کہ یہ اتنے ڈھیر سارے پیغمبر کب آئے۔تو بھئی میرا خیال ہے کہ یہ اخناتون جیسے لوگ ہی ہونگے۔اب ذرا غور کرو اسکی شخصی خوبیوں پر اسکی وحدت پرستی پر ۔

واقعی میں نے بھی غور کیا۔

کوڑی تو بڑی دور کی لائی تھی مہرالنساء۔

یہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کے بارے میں ہمارا علم تو صفر تھا۔بس رٹا ہوا جواب آتا تھا۔

اِسی بحث مباحثے میں گاڑی سر پٹ بھاگتی نیل اور ویلی آف کنگز کی درمیانی جگہ اس رڑے میدان میں آکر رُک گئی۔جسکے ایک طرف گنّے کے کھیت تھے۔دوسری جانب چند دوکانیں اور مرکز میں دیو ہیکل قسم کے دو ٹوٹے پھوٹے بُت۔

میں اور مہرالنساء دونوں ہی بول اٹھیں۔

ہم تھکے ہوئے ہیں ۔بھُوکے بھی ہیں ۔ہمیں مزید کچھ نہیں دیکھنا۔

بس یہ چھوٹا سا آخری آئٹم ہے۔کلوسی آف ممنون کا۔اسکے بعد پانچ منٹ میں آپ کروز پر ہوںگی ۔گائیڈ نے گاڑی کے دروازے کھول دیئے تھے۔

اب اُترنا پڑا ۔ثنا بھاگ کر سامنے شاپ سے بسکٹ اور جوس کے پیکٹ لے آئی۔بسکٹوں اور جوس کے گھونٹوں نے کچھ توانائی دی۔

گائیڈ کی ہمراہی میں ہم مجسموں کیطرف چلنے لگے۔بیس 20 میٹر اُونچے دومیٹر لمبے اور ایک میٹر چوڑائی والے اِن ٹوٹے پھوٹے لمبی لمبی دراڑوں والے مجسموں کو دیکھ کر خوف سے بھری جھرجھری وجود کو ہلاتی تھی۔زمین پر دھرے چبوترے پر رکھی کرسُیو ں پر بیٹھے ہاتھوں کو گھٹنوں پر سجائے یہ اپنے ماہر سنگ تراشوں کی مہارت کامنہ بولتا ثبوت تھے۔ٹانگوں کے ساتھ دوعورتیں بندھی تھیں ۔ایک ماں اور دوسری بیوی اِس روشن زمانے میںبیچاری عورت کی جس انداز میں مٹی پلید ہوتی ہے۔فرعونوں کا عہد تو اس لحاظ سے بڑا تابناک تھا کہ عورت بہرحال مرد کے ساتھ کھڑی ہوتی تھی۔

یہ اخناتون کے والد امنہوتپ سوئم AMENHOTEP III کے مجسمے ہیں ۔اِس فرعون نے بہت شاندار اور خوبصورت ٹمپل بنائے لیکن اِس جگہ کا شاندار اور پُر شکوہ ٹمپل 27 قبل مسیح ایک خوفناک زلزے سے زمین بوس ہو گیا اِن مجسموں میں بھی سرسے کولہوں تک دراڑیں پڑ گئیں۔اب یوں ہوا کہ جونہی صُبح کی کرنیں اِن مجسموں پر پڑتیں ان سے بے حد افسردہ سے گیت نکل کر فضا میں بکھرنے لگتے۔

اور یہ المیہ گیت نیل اور بحیرہ روم کے پانیوں پر تیرتے یونان پہنچ گئے اوریونانی شاعروں کو تو ایسے مواقع اللہ دے۔بھاگے بھاگے آئے اور اِسے Memnon کی عبادت گاہ کانام دے دیا۔ ممنون دراصل یونانیوں کا ایک دیوتا تھا۔پس یہ مجسمے کلُوسی آف ممنون کے نام کے ساتھ دیوتاؤ ں کا روپ دھارگئے اور یونانیوں اور رومیوں کیلئے مقدس اور زیارت کی جگہ ٹھہرے۔

ہمارے یہ پوچھنے پر کہ کیا واقعی گیتوں کا کوئی سلسلہ تھا۔گائیڈ زور سے ہنس پڑا اور بولا۔

ارے کچھ بھی نہیں ۔بس ہوتا یہ تھا رات بھر کی ٹھنڈک کے بعد صُبح کی پہلی شعاعوں سے پیدا ہونے والی حرارت کی کپکپاہٹ اِن دراڑوں میں ارتعاش پیدا کر دیتی تھی۔جو افسردہ گیتوں کی صورت میں ڈھلی محسوس ہوتی تھی۔

بس تو اتنی سی بات تھی جسے یاروں نے افسانہ بنا دیا۔

سچی بات ہے اسوقت ہمارا جی چاہتا تھا کہ گاڑی سر پٹ بھاگتی کسی ریسٹورنٹ کے دروازے کے سامنے جا رُکے ۔آناً فاناً دروازے کھُلیں اور ہمیں کھانوں کے طباق نظر آئیں جن پر ہم ٹوٹ پڑیں۔

کورنش نائیل روڈ پر گائیڈ نے ہمیں اِس تاکید کے ساتھ اُتار ا کہ شام کو پانچ بجے آپ لوگوں نے کرنک اور لُکسر ٹمپل کیلئے چلنا ہے لہٰذا وقت کا خیا ل رکھنا اشد ضروری ہے۔

باب نمبر:

۱۴کروز کرنک ٹمپل

فرعونِ موسیٰ منفتاح

چند لمحوں کیلئے The Great Princess کا چہرہ مہرہ رعب داب اور شان وشوکت دیکھ کر مجھ جیسی ٹٹ پونجی سیاح تو دم بخود رہ گئی۔ مجھے ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ جب تین جوڑے کپڑوںکے اثاثے پر مشتمل اپنا چھوٹا سا شاپر ہاتھوں میں جُھلاتی بہت سی سیڑھیاں اُتر کر نیل کے دہانے پر لنگر اندازاس بڑے سے جہاز میں داخل ہوں گی تو گویا ایک طرح دانتوں میں اُنگلی دبا کر بٹر بٹر تکنے والی صورت حال کا سامنا کروں گی۔

ریسپشن روم سے بالائی حصوں کو چڑھتی چمکتے پیتل کی ریلنگ والی سیڑھیاں بہترین قالینوں سے سجے فرش اورآرٹ کے شاہکار وںسے سجی راہداریاں جن میں کھلتے کمروں کے شاندار دروازے پیانو پر بجتے کسی طربیہ گیت کی دھن اور بھانت بھانت کی بولیاں بولتے گورے گوریاں دیکھنے کو ملیں گی۔

[L:198][L:0][L:0][L:0] سیڑھی کے دوسرے پوڈے پر ایک جانب سکون سے بیٹھتے ہوئے شاپر میں نے اپنے پاس ہی رکھتے ہوئے خود سے کہا۔

اب ثنا کو میرا یوں بیٹھنا ایک بار چھوڑ ہزار بار بُرا لگے مجھے قطعی پرواہ نہیں۔ دائیں بائیں دھرے صوفوں پر توچپہ برابر جگہ نہیں۔ غباروں کیطرح پھولے وجود براجمان ہیں۔ صبح سے سیاحت کی اس اَ نی ّ(اندھی) شوقین کی ٹانگیں لُورلُور کے سپاٹوں میں زخمی ہوئی پڑی ہیں۔

پاسپورٹ اُن کے پاس تھے اور معمول کی کاروائی جاری تھی۔ اور پیٹ میں چوہے بلیاں کودتی تھیں۔ پر اندراج ہونے اور کمرہ کی چابی ملنے سے پہلے ہمارا ڈائننگ ہال میں داخلہ ممنوع تھا۔

میری نظروں کے عین سامنے داخلی دروازہ تھا جس کے ساتھ معلق راستے hanging path پر باہر سے آنے والے جھُولتے جھُومتے اندر داخل ہوتے تھے۔

میں جب ٹھوڑی کو ہتھیلی پر ٹکائے دنیا کے بکھرے رنگوں کے کچھ عکسوں کا اجتماع اس چھوٹی سی جگہ پر حیرت ودلچسپی سے دیکھ رہی تھی ثنا نے ہاتھ میں چابی لہراتے ہوئے ہم دونوں کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔

مائی گاڈ۔

O\ipiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiدروازہ کھولتے اور بتیاں جلاتے ہی کمرے کی اونچے درجے کی آرائش و زیبائش پر ثنا تو جیسے خوشی سے نہال ہو گئی۔ پل جھپکتے ہی اُس نے کھڑکی کے بھاری پردوں کو جھٹک جھٹک کر کناروں پر کیا اور نیل کے پانیوں کو دیکھنے لگی جو کھڑکی سے ذرا ہی نیچے مدھم مدھم سروں میں انگڑائیاں لیتے تھے۔

میں نے بیگ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا اور بیڈ پر دراز ہو گئی۔ پیٹ میں بھوک کی ہا ہا کارمچی ہوئی تھی۔

ثنا باتھ روم سے فارغ ہو کر اب ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنے حُلیے کو درست کرتے ہوئے کہتی تھی۔

آنٹی واش روم سے ہو آئیے ۔ پھر لنچ کے لیے چلیں۔ ڈھائی بج رہے ہیں۔

ڈائننگ ہال نیچے تھا۔سیڑھیوں میں جوپینٹنگ آویزاں تھی اُسنے قدموں کو روک دیا تھا بدوی اور صحرائی زندگی کا ایک دلآویز شاہکار۔

کھانا کو نٹینینٹل تھا ۔دس بارہ سلاد کی اقسام آٹھ دس سالنوں کی اور چھ سات میٹھے۔ بھوک جس حساب سے تھی وہ ہبڑہبڑ کی متقاضی تھی ۔پرفائیو سٹار ماحول نے گواچی گاں کیطرح اِدھر اُدھر بھٹکتے ہمارے ہاتھوں کو سلیقے اور تہذیب کی زنجیر سی پہنا دی ۔دھیرے دھیرے باوقار انہ انداز میں اُٹھنا پلیٹ میں نخروںسے کچھ ڈالنا واپس آنا مزے سے اُسے کھانا پھر کھانے کیطرف جاناگزشتہ ہفتہ بھرسے اچھے کھانوں کے لیے ترسیدہ تھے۔ایسے میں بیشتر لوگوں کے اُٹھ جانے پر بھی ہمارا وہاں اسّی 80 منٹ تک بیٹھنے کا جواز سمجھ میں آتا تھا۔

واپس آکر بستر پر گرے اور پل جھپکتے میں تھکن اور پُر باشی نے آنکھوں کو بند کردیا۔پتہ نہیں یہ کون سی آوازیں تھیں ۔گھنٹیاں تھیں جو بجتی تھیں ۔پھر جیسے کسِی نے ز ورسے ہلایا۔

پھرآواز آئی۔

آنٹی اُٹھ جائیے۔نیچے لابی میں ہمارا گائیڈ انتظار میں ہے۔باربار کال کیے جارہا ہے۔کرنک اورلُکسر ٹمپل چلنا ہے۔

۔۔خصماں نو کھان لُکسر تے کر نک ٹمپل۔ مدہوشی میں ڈوبی مہرالنساء کی آواز کمرے میں بکھری۔اتنی میٹھی نیند جیسے زندگی میں پہلی بار نصیب ہوئی ہو۔

پتہ نہیں کن جتنوں سے خود کو اٹھایا ۔جلدی جلدی کا شور مچایا۔اپنے کپڑوں کی سلوٹوں کو ہاتھوں سے دُور کیا۔بالوں میں کنگھا چلایا اور گاڑی میں بیٹھ گئے۔

یہاں سے ہمارے ساتھ ایک ملائی جوڑا مسٹر ومسز لارا کول نتھی ہوئے۔

کرنک کا پہلا منظر ہی ڈراؤنی اور جادوئی کیفیت اور تاثر کا حامل تھا۔جنگلی گلابوں کی کیاریوں کے عقب میں بھیڑ کے سروں سے مشابہ ابوالہول ( Sphinxes ) کے پچاسوں مجسمے دور ویہ سجے ہوئے تھے ۔بلند وبالاسنگی اور کہیں کہیں سے شکستہ دیواروںمیں لگے چھوٹے سے آہنی گیٹ سے آگے اسی ٹائپ کے تین اور انسانی سروں والے Sphinxes کی ایک قطار ننگے آسمان کی چھت تلے شام کے اس جھٹ پٹے میں خوف کی لہروں کو سارے سریر میں ایک سنسنی کی صورت بکھیر رہی تھی۔تقریباً تیس 30 ایکڑ میں پھیلا اپنے جہاز ی سائز اور کالموں پر تعمیر دُنیا کایہ وہ قدیم ترین ٹمپل ہے جو لُکسر (طیبس) کے دیوتا امن کے نام پر ہے۔

ہیپو سٹائل ہال حقیقتاً مصری طرز تعمیر کا بہترین نمونہ تھا۔خدا گواہ ہے کہ جب میں اس سو 100

میٹر لمبے اور ترپن53 میٹر چوڑے ہال میں داخل ہوئی ۔میری حیرت سے پھٹتی آنکھوں کو 23 میٹر بلند ہلکی سی سُرخی کی آمیزش لیے گہرے براؤن کالموں کا ایک جہاں نظر آیا تھا۔میں نے انہیں گننا چاہا پر تھوڑے سے وقت میںایسا کرنا مشکل کام تھا ۔کلاوے میں بھر کر ایک ستون کی گولائی کا اندازہ لگانے کی کوشش کی تو اپنی حماقت پر ہنسی آگئی۔ میرے جیسی چھ عورتوں کی پھیلی بانہوں کے دائروں میں ایک ستون کا آنا شاید ممکن تھا ۔بلندی دیکھنے کی کوشش میں گردن کو تقریباً دوہراکرنا پڑا تھا۔

ایک فرعون نے نہیں وقت کے کئی فرعونوں جن میں ایمنوفس III رعمیس اول دوم سیتی اول نے اِس کی تعمیر میں ذاتی دلچسپی لی تھی۔اِن بلندو بالا کالموں اور ستونوں جن پرکھُدی انسانی صورتوں کے ایک دوسرے سے مکالموں کی کیفیات اور واقعات دیکھتے ہوئے انسان حیرت زدہ ہوکر بے اختیار سوچتا ہے۔قبل مسیح دور کا انسان کسی بھی طرح اپنے ماحول اور حالات کے مطابق کم ذہین اور فطین نہ تھا۔دیوہیکل قسم کے پتھر کہاں سے لائے گئے ۔کون سی مٹی گاراچونا مسالا انہیں جوڑنے کے لیے استعمال ہوا جس نے صدیوں پر محیط بارشوں اور موسم کی سختیوں کے باوجودانہیں ابھی تک اُسی آن بان سے کھڑے رکھا۔اِس ہیپو سٹائل ہال کے عقب میں ایک مخروطی بلند مینار کے بارے میں گائیڈ نے بتایا کہ اب یہ صرف ایک باقی رہ گیا ہے ۔انہیں ملکہ ہت شی پشت نے بنوایا تھا اور جب تعمیر ہورہی تھی اُس نے سونے سے بھری ہوئی بوریاں یوںبھیجی تھیںجیسے وہ گندم کی بوریاں ہوں۔

کمال ہے ۔میں نے اُس ( OBELISK ) کو بغور دیکھتے ہوئے کہا۔

اور مقدس جھیل کے پاس ایک نو عمر مصری کُرسی پر بیٹھا سو رہ یٰسین کی تلاوت کرتا تھا۔ میں بھی قریب پڑے ایک بڑے سے پتھر پر بیٹھ گئی ۔ایسی خوبصورت اور رسیلی آواز۔پتہ نہیں لحن داؤدی میں کتنی نغمگی ہو گی۔ میرا تو اس آواز پر قربان ہونے کوجی چاہ رہا تھا۔

جھیل کے پار اپنے سامنے بکھرے ٹوٹے پھوٹے کالموں اور ہالوں کے سلسلوں کو دیکھتے ہوئے میں نے اپنے آپ سے کہا تھا حقیقت تو یہ ہے کہ فرعونوں کی طاغوتی طاقت ، قوت اُن کے جاہ وجلال اُن کی شان وشوکت اور سطوت کے کھنڈر عبرت کے نشان ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ بندے کا پتر بنو۔اور یہ جانو کہ دنیا میں باقی رہ جانے والا سچ صرف وحدت ہے۔

یہ جھیل ایمنوفس III کے زمانے میں مذہبی رہنماؤں کے لیے تھی وہ اپنے روزمرہ کے فرائض انجام دینے سے قبل اس میں غسل کرتے تھے ۔اور دن میں چاربار غسل ہوتا تھا۔بورڈ پر لکھا یہ سب پڑھ کر مجھے ہنسی آئی۔بے چارے اسی کام میں لگے رہتے ہوں گے۔

تیرہ سالہ ایک خوبصورت سی لڑکی کیپری پر چھوٹا سابلاؤز پہنے ایک دیو ہیکل پتھر کے پاس کھڑی تھی جس پر کمال کی کھدائی تھی اور جسے فرعون مصر نے کیپری دیوتا کے نام منسوب کیا ہوا تھا۔

میں دوسری سمت چلی گئی ۔یہاں دوکانیں تھیں جن میں کتابیں اور سونیئرزسجے تھے اور خریدوفروخت کا سلسلہ جاری تھا۔سرسری سا ایک جائزہ لیکر میں باہر نکل آئی۔

باہر گردوغبار کے بادل تھے۔کرینیں اور بل ڈوزر ماردھاڑ میں لگے ہوئے تھے۔کہیں میدان ہموار اور کہیں کھدائی ہورہی تھی۔ثنا اور مہرالنساء گائیڈ کے پاس بیٹھی اُس سے معلوم نہیں کیا کیا قصّے کہانیاں سن رہی تھیں۔

بہت دُور پارک کی گئی گاڑی میں بیٹھی ۔مغرب ہوگئی تھی۔نماز کیلئے کہاں جاؤں ۔سمجھ نہیں آتی تھی۔

چلو رات کو عشاء کے ساتھ پڑھوں گی۔

کروز پر پہنچ کر گائیڈاور گاڑی دونوں رُخصت ہوئے۔پر ہمارا تو موڈ سیر سپاٹے پر ابھی مائل تھا ۔نیل کے کناروں پر عالیشان بلند وبالاعمارات کی جگمگاتی روشنیوں نے اگر فضا کو بُقئہ نور بنا رکھا تھا تو نیل کے پانیوں میں بھی ان کے شرارے رقصاں تھے۔

جا بجاچلتی شاندار بگھیاں اور ان کے سائیسں شہر کی سیرکی دعوت دیتے تھے بھاؤ تاؤ ہوا اور سات مصری پاؤنڈ میں ہم نے شہر کی سیر کا سوداکیا۔

جب پون گھنٹے میں شہر کا ایک اوپری سا چکر لگا کر اُس نے ہمیں شیرٹن ہوٹل کے پاس اُتارنا چاہا تو ہم اُسکے گلے کا ہار ہوگئیں۔

لویہ کیا بات ہوئی ۔ہمیں اندر کی گلیوں اور سڑکوں پرلے کر چلو۔

اب وہ انکاری اور ہم اصراری ۔چلو پانچ پاؤنڈ مزید لو پر ڈنڈی نہیں چلے گی۔

روشنیوں سے بھری ہوئی رات کا پہلا پہر ۔نیل پر سے آتی ہواؤں میں خنکی کی خوشبو۔ شاندار بگھی میں مہارانیوں کیطرح بیٹھے ہونا اور چند لمحوں کیلئے خود کو بھی مہارانی ہی سمجھنا کسِی افسانے کا قصہ ہی تو معلوم ہوتا تھا۔

بڑی سڑکوں سے چھوٹی کیطرف اور چھوٹیوں سے بڑی کیطرف گلیاں راستے کاٹتے ہوئے ہم نے پورا شہر چھان مارا ۔گوشہر بہت بڑا نہیں ۔لیکن نیل کے کنارے کنارے چار پانچ منزلہ عمارتوں کا ایک تسلسل آنکھوں کو خوبصورت لگتا ہے۔خوبصورت سڑکیں ۔پارک اسپتال۔مقامی چھوٹی سڑکوں کے کونوں پر ہمارے ہاں کے ڈھابوں کیطرح فلافل والوں کے چھوٹے چھوٹے کھوکھے سجے تھے۔گرم گرم فلافل نکل رہے تھے۔

ہائے ری میّا۔ ڈھیر سارا پانی منہ میں بھر آیا۔جی چاہا گرم گرم دو فلافل لے لیں۔ پر کروز پر شاندار ڈنر انتظار میں تھا۔منہ میں لڑھکتا پھرتا سارا پانی نیچے لے جانا پڑا۔

خالد بن ولید روڈ پر اُترے جہاں سے تھوڑا سا چلنے کے بعد مارکیٹ میں آگئے۔مقامی عورتیں سیاہ بُرقعوں میں ملبوس گھومتی پھرتی تھیں۔مرد لوگ توپ (لمبا چوغہ) پہنے گاہک اور دوکان داروں کی صورت میں نظر آتے تھے۔توپ صاف سُتھری بھی تھیں اور ملگجی بھی۔

دوکانیں جگمگارہی تھیں ۔مقامی مصنوعات کے ڈھیروں رنگ تھکی آنکھوں کو چمک اور تازگی دیتے تھے۔میں کتابوں کی ایک دوکان میں چلی گئی۔ٹورسٹ آفس کے سامنے اکٹھے ہونے کا طے پایا تھا۔میری خوش قسمتی کہ دوکاندار انگریزی بول لیتا تھا۔بتانے پر بھی مائل تھااور صاحب علم بھی تھا۔کتابوں کی پھولاپھرولی کے بعد میں اسکی طرف متوجہ ہوئی۔دوکان میں رش بھی نہیں تھا۔لہٰذاآمنے سامنے بیٹھ کر علم دینے اور لینے کا عمل شروع ہوگیا۔

لُکسر کی موجود ہ شان وشوکت کو دیکھتے ہوئے اسکی ماضی کی صورت کو تصور میں لانا خاصا مشکل ہے۔ایک ہزار سال تک مصر کا درالخلافہ رہا۔یہ اپنی دولت اپنے خزانوںاور اپنے محلات کی وجہ سے ہمیشہ تاریخ میں ممتاز رہا۔گو کبھی یہ معمولی سا شہر تھا۔چھوٹے سے راجے کا پایہ تخت تھا۔پربڑابخت ور شہر تھا۔یہی وہ شہر ہے جسے یونانی شاعر ہومرنے سودروازوں کا شہر کہاتھا۔طیبسکا نام بھی اسے یونانیوں نے دیا ہے۔

دراصل ساتویںآٹھویں اور دسویں فراعنہ کے ادوار میں بادشاہ ملک کیلئے کو ئی قابل قدر کام نہ کر سکے۔شاہی خاندان اور مذہبی پیشواؤں میں جھگڑے شروع ہوگئے تھے۔ایسے میں طیبسکے ایک نوابی خاندان نے گیارھویں خاندان کی حکومت قائم کرنے کے بعد طیبسکو پورے مصر کا پایہ تخت بنا دیا۔

وہ دوربُت پرستی کاتھا ۔پوری مصری قوم دیوی دیوتاؤں میں اُلجھی ہوئی تھی۔ہر شہر اور ہر گاؤں کا اپنا اپنا دیوتا تھا۔طیبس کا سب سے بڑا دیوتا امن تھا۔ حت امن کی بیوی تھی۔

حکومتی سطح پر مصریوں کا سب سے بڑا معبود سورج دیوتا را تھا۔

اب جب جنوبی اور شمالی مصر اکٹھا ہوا تو سیاسی بصیرت کا ثبوت دیتے ہوئے امن اور ر ا کو بھی اکٹھا کر دیا گیا۔اور سرکاری طور پر امن را دیوتاؤں کا حکمران اور زمین و آسمان کے سب سے بڑے معبود کا اعلان کیا گیا۔

فرعون موسٰی کے بارے میں جاننے کیلئے مجھے خاصا تجسّس تھا۔

کچھ اس پر تفصیلی روشنی ڈال سکیں گے۔ میں نے ایک نظر اِس نرم خو مصری پر ڈالی جسکا نام مصطفٰی آغا تھا۔اور جسنے کمال مہربانی سے میرے اُوپر علم وآگہی کے دروازے کھولے تھے۔

تاریخ دانوں میں تضاد ہے۔مگر چند امور ایسے ہیں جن پر اتفا ق ر ائے سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ فرعون موسٰی رعمیس دوم نہیں بلکہ اسکا بیٹا منفتاع تھا لیکن حضرت موسٰی پیدا رعمیس دوم کے زمانے میں ہوئے تھے۔اور یہ رعمیس دوم ہی تھا جس نے بنی اسرائیل کے نوزائیدہ بچوں کے قتل عام کا حُکم دیا تھا۔اس وقت بنی اسرائیل چھ لاکھ سے اوپرنفوس والا قبیلہ تھا۔جسکی بغاوت سے فرعون خائف تھا۔

رعمیس دوم ڈھیرساری بیویوں کا شوہر اور ڈھیر سارے بچوں کا باپ تھا۔منفتاح اُسکا اور نفرتیری کا بڑا بیٹاکاروبار مملکت میں اُسکا دست راست تھا۔اس میں شک نہیں کہ رعمیس دوم بہت ساری عہد ساز خوبیوں کا مالک تھا۔پر اسکے ساتھ ساتھ وہ انتہائی متکبّر ظالم اور خود پرست انسان تھا۔بادشاہ بنتے ہی اُس نے اپنے بھائی کے تمام مجسمے تڑوا دئیے یا پھر انہیں اپنی صورت میں ڈھلوا لیا تھا۔

اسی نیل میں فرعون کی بیوی نہاتی تھی جب اُسنے لہروں پر تیرتے صندوق کو دیکھا ۔اسکی خادماؤں نے پکڑا ۔کھولا تو ایک خوبصورت بچے کو انگوٹھا چُوستے ہوئے پایا۔ملکہ نے اُسے کلیجے سے لگایا اور محل لے آئی۔

یہاں میں نے فی الفورسوری میںآپکی بات کاٹ رہی ہوں ۔کہتے ہوئے پوچھا۔یہ ملکہ کون تھی؟کیا نفرتیری تھی؟

مختلف آراہیں ۔بعض کا خیال ہے کہ نفرتیری تھی کیونکہ وہ ایک مہربان اور نرم مزاج خاتون تھی پر کچھ کا کہناہے کہ یہ رعمیس کی بڑھاپے کی ایک اورشادی تھی۔جسکا کوئی بچہ نہیں تھا۔وہ جب بچے کو کلیجے سے لپٹائے محل میں آئی تو اُس پر نظر پڑتے ہی رعمیس چلّا اٹھا۔

قتل کردو اِسے ۔ یہ اسرائیلیوں کا لڑکا ہے۔

۔نہیں نہیں اسکی بیوی چلائی۔میں اِسے پالوں گی اور یہ میرا بیٹا ہو گا۔

اور یوں وہ فرعون کے محل میں اس کی چھتر چھاؤں تلے پلنے لگے۔

نوے 90 سال کی عمر میں رعمیس دوم مرا اور سترّ70 سال کی عمر میں اُسکا بیٹا منفتاح باقاعدہ فرعون بنا۔حضرت موسٰی اُس وقت حضرت شعیب کے پاس اپنی آٹھ سالہ مدّت پوری کر رہے تھے۔ اپنے باپ کیطرح منفتاح بھی مغرور اور تکبر پسندتھا۔وہ لوگوں کا رب بھی بنا ہوا تھا۔اُنکا خالق و رازق و مالک بھی۔تو پھرجھوٹے خداؤں کا یہی انجام ہوتا ہے جو اُسکا ہوا۔

میں نے کلاک پر نظر ڈالی ۔نو بج رہے تھے۔

میری جا ن کا سیاپا کر رہی ہونگی وہ دونوں ۔

اجازت چاہی ۔دوکان سے باہر نکلتے ہی دوڑ لگائی ۔اطراف کے بورڈوں اور بڑی بڑی علامتوں کو جنہیں نشانی کے طور پر ذہن میں بٹھایا ہواتھا۔دیکھتی جاتی تھی۔واقعی وہ دونوں وہاں پریشان حال بیٹھی تھیں اور فکر مند تھیں کہ میں کہیں بھٹکتی تو نہیں پھر رہی۔ چلو اب بھاگو۔

کروز کو ڈھونڈنا بھی کونساآسان تھا۔نیل کے کنارے پر فاصلے فاصلے سے کوئی میل کے ایریا میں پھیلی لمبی قطار لگی پڑی تھی۔

ہماری سمجھداری یا ہوشیاری سے زیادہ خدا کی نظر عنایت تھی کہ جلدہی ٹھکانے پر پہنچ گئے۔شکر ہے کہ ابھی رابطہ کا پُل اُٹھایا نہیں گیاتھا۔

کھانے کے فوراً بعد لاؤنج بار میں ڈسکو ڈانس تھا۔ثنا وہاں چلی گئی مہرالنساء نے آرام کرنے کا کہتے ہوئے کمرے کی راہ لی اور میں عرشے پر آگئی۔کیسا سحر انگیز سا ماحول تھا۔گورات تاریک تھی پر یہ تاریکی بھی بڑی رومانوی قسم کی تھی ۔چوبی راستے پر چلتی میں سوئمنگ پول کے پاس ریلنگ کے ساتھ کھڑی ہوکر نیل کو دیکھنے لگی ۔دنیا کا شاید ہی کوئی دریا اس درجہ تاریخ سے بھرا ہوا ہو جیسا یہ ہے ۔دیر بعد میں نے رُخ پھیرا ۔انگلش پب اس وقت ویران تھی۔بیسیو ں بیچ بیڈز بھی خالی تھے۔دو جوڑے عرشے کی بیک پر صوفوں میں دھنسے سگریٹ نوشی کرنے اور باتوں میں مصروف تھے۔

سوئمنگ پول کے اطراف میں لگے پائیپوں سے پانی شرل شرل کرتا اندر گر رہا تھا۔کنارے پر بیٹھ کر میں نے ہاتھ اندر ڈالے ۔نیم گرم پانی کس قدر فرحت بخش ساتھا۔

میرا کھیڈن کو مانگے چاند جیسی خواہشوں کا اسیر دل کسی شوخ شرارتی بچے کی طرح پانی میں دھم سے چھلانگ مارنے پر مچل رہاتھا۔پراواخرمارچ کی یہ رات خنکی سے لبالب بھری ہوئی تھی کپڑوں کی بھی قلت تھی ننگے ہو کر ایسی خواہش کی تکمیل ناممکن تھی۔یوں بھی جوانی والی چستی اور تیزی طرازی کو ئی قصہ پارینہ تھی۔پردیس میں بیماری اور بستر میں لیٹنے کی عیاشی سے بھی ڈر لگتا تھا۔اس لیے ایسی بے سروپا خواہش کا گلا گھونٹنا بہت ضروری تھا اور ابھی جب میں اس ضروری کام سے فارغ ہورہی تھی۔سیڑھیوں پر آگے پیچھے تین چار چہرے نظر آئے۔چلو یہ بھی اچھا ہی ہوا کہ عرشے کی پچھلی جانب چلے گئے ۔دو عورتیں اور دو مرد۔

[L:200][L:1][L:0][L:0] بعض اوقات زندگی کے اتفاقات بھی کتنا حسین رنگ لیے ہوئے ہوتے ہیں۔یوں بھلا کبھی کا ہے کو سوچا تھا کہ ایک دن نیل کے سینے پر تیرتی ہوئی اِس دیس کے کسِی اجنبی شہر کو جاؤ ں گی۔ احسان ہی ہے نا مولا تیرا جو یہ سب دیکھنا تو نے نصیب کیا۔

وقت تو پتہ نہیں کیا تھا۔ پر مجھے اندازے سے محسوس ہوتا تھا کہ رات کافی ہوگئی ہے۔نیچے بلیرڈ روم اور لاؤنج بار سبھی جگہ سناٹا تھا۔

بستر پر لیٹ کر بھی مجھے بہت دیر تک نیند نہ آئی۔سرہانے لگی روشنی نے اُکسایا کہ لُکسر پر لٹریچر ہی پڑھ لوں ۔

] بڑا مقدر والا شہر ہے۔ جس کے قریب ہی چھوٹے سے گاؤں اطّود میں خدا کے جلیل القدر پیغمبر حضرت موسٰی نے جنم لیا تھا۔

پتہ نہیں کب سوئی پر خوابوں میں بھی ا طّود میں ہی گھومتی پھرتی رہی۔

باب نمبر:

۱۵لُکسر ٹمپل ایسنا

ایدفو کوممبو

غریب غرباء اور محنت کش لوگوں کیطرح میرے مقدر میں بھی صبح دیر تک سونے کی عیاشی کبھی نہیں رہی۔نور پیر کے تڑکے آنکھ کی کیفیت من وعین الارم کی سی ہوتی ہے جس نے وقت مقررہ پرپٹ سے کھُل جانا ہے۔ پس اُوپر بھاگی کہ طلوع آفتاب کا نظارہ کروں ۔مجھے تو یہاں ایک اور کنفیوژن سے پالا پڑا تھا۔کہ کعبہ کا تعین غروب آفتاب کی سمت سے نہیں طلوع آفتاب کی سمت سے ہوتا ہے۔اِدھر کہ اُدھر انہی چکروں نے اُلجھائے رکھا اور پھر سامنے نیل کے پار کی پستہ قامت پہاڑیوں کے اوپری سرے کرنوں میں نہائے نظر آئے تو سخت مایوسی ہوئی۔

ناشتے سے قبل غسل کا سوچا۔باتھ روم اپنے مہنگے ترین سازوسامان کے ساتھ اُس خوبصورت حسینہ کی طرح تھا جس کے بارے میں ضرب المثل ایجاد ہوئی ہے کہ ہاتھ لگاؤ تو میلی ہونے کا ڈر ہے۔ یہی کیفیت یہاں تھی۔ پہلے تو ٹونٹیاں کھولنے کا مشکل ترین مرحلہ تھا۔ چلیے اُوپر نیچے دائیں بائیں کی زورآزمائیوں نے شناسائی کی راہ نکالی۔ اب نہانے کے لیے شیشے کے اس قبر نما کیبن میں بیٹھے۔ شاور لینے کے مشکل مراحل تھے جو بالکل طے نہیں ہو پا رہے تھے۔ نتیجتاً سارا باتھ روم پانی سے بھر گیا۔

ہائے ری مےّا۔ کروز والے تو کہیں گے نا۔ گنوارنیں کسی جنگل سے اُٹھ کر آ گئی ہیں۔

چاروناچار ثنا کو آوازیں دیں جس نے اپنے جوان اور ماڈرن دماغ سے صورت کو قابو میں کیا۔

ناشتہ کرنے تک میں اپنے آپ سے یہی سوال کرتی رہی اگر میں اطّود چلی جاؤں تو ساڑھے دس کروز کی روانگی تک واپسی ہوسکتی ہے ۔اب جواب ہاں اور نہ کی عجیب سی گھمن گھیری میں پھنسا ہوا تھا۔

اسی نیل کے کنارے وہ چھوٹی سی لڑکی بھی میرے تصور میں تھی جو اپنے بھائی کے پانی پر بہتے صندوق کے ساتھ ساتھ کتنی دور تک دوڑتی چلی گئی تھی۔

میرے مولا اس نیل کو بھی تونے کتنی فضیلتوں سے نوازا ہے ۔کہیں اس نے پیغمبر کا بار امانت اُٹھایا کہیں تاریخ اسلام کی عظیم ہستی عمرؓ نے اسے مخاطب کیا۔

قاہرہ کے انڈیانہ ہوٹل میں ناشتے پر ہماری ٹھونسا ٹھونسائی بڑی مار دھاڑ قسم کی ہوتی تھی۔پر یہاںکروز پر ناشتہ بڑی نزاکتوں سے ہواتھا۔دوپہر کا کھانا ملنے کی امید تھی نا۔

ہم تینوں اُس پختہ جیٹی جو نیل کے مشرقی کنارے پر میلوں کے دائرے میں بنائی گئی ہے پر چلتی ہوئی اوپر کورنش روڈ (corniche road) پر آگئیں۔

وہ دونوں تو حسب معمول مجھے یہ کہتے ہوئے کہ دو ڈھائی گھنٹوں کا مارجن ہے ۔ایک دوسرے کے انتظار کی بجائے کروز پر ہی پہنچ جائیں گے بازار کیطرف مڑ گئیں۔ پر ثنا جاتے جاتے یہ کہنا نہیں بھولی ۔

آنٹی خیال رکھیے گا ۔روانگی ساڑھے دس بجے ہے۔

] اطّود جاؤں ۔میں وہیں ساکت کھڑی خود سے سوال کرتی تھی۔پر میرا اندر انکاری تھا۔گاڑی کی بکنگ آنا جانا۔دیر سویر بندے کے ساتھ ہے ۔ٹینشن والا تو کوئی کام سرے سے کرنا ہی نہیں۔ایسے ہی پر دیس میں اللہ رحم کرے کوئی کھڑاک ہوجائے تو بندہ کس کی ماں کو ماسی کہے گا۔

چلو لُکسرٹمپل چلتی ہوں۔ہے بھی پاس ہی ۔ایک دوراہگیروں سے پوچھنے پر اُنکے ہاتھوں کے اشاروں نے سمجھا دیا تھاکہ دو سڑکوں کے موڑ کاٹوں گی تو ٹمپل سامنے ہو گا۔

لُکسر ٹمپل کو نہ دیکھنا زیادتی ہوتی ۔گورعمیس دوم کا دیوتا امن را کے نام پر بنایا ہوا اِس ٹمپل کا کافی حصّہ کھنڈر بن چکا ہے۔تاہم اُسکے موجود حصّے اسکے انتہائی شاندار ہونے کے گواہ ہیں۔مینار دار عمارت کے داخلی دروازے پر رعمیس دوم کے دو سٹیچو کرسیوں پر بیٹھے ہیں۔ٹانگوں کے ساتھ نفرتیری کھڑی ہے۔ایک چہرہ شناخت سے عاری ہے دوسرا کچھ کچھ چہرہ شناسی کرواتا ہے۔بغیر چھت کے ایک لمبی راہداری دو طرفہ کالموں سے گھری ہوئی آگے تک جاتی تھی۔گولائی میں ہشت پہلو اوپر سے Papyrus Flower کی شکل کے یہ کالم فن تعمیر کے حوالے سے مصریوں کی ذہانت اور مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔اندرونی کورٹ یارڈ میں خوبصورت سی مسجد جیسے بتوں کے نرغے میں پھنسی ہوئی اپنے ہلالی نشانوں کے ساتھ بہت پیاری لگی تھی۔

میں اوپر چلی گئی ۔اندر جاکر دونفل کی ادائیگی کی۔ مصر کی زمین کے مسلمان ہونے پر شکر کے کلمات اداکیے۔

ٹمپل کا بیرونی حصّہ بہت دلچسپ تھا۔باہر والی دیوار میں بے شمار دروازے جو ملحقہ عبادت گاہوں کیطرف جاتے تھے۔یہاں رعمیس دوم کی اس جنگ کے مناظر کی کندہ کاری تھی جو اس نے شام کے HITTITE قبیلے کے ساتھ کی۔کہیں وہ اپنے سپہ سالاروں کی جنگی میٹنگ کی صدارت کررہا ہے۔کہیں فوج پڑاؤڈالے بیٹھی ہے۔کسِی کالم پر دشمن کی فوج فرعونی فوج پر حملہ کر رہی ہے۔کہیں فرعون اپنی رتھ پر سوار ہے۔بائیں ہاتھ کے کالموں پر سنگین لڑائی کے مناظر ہیں۔ایک دوسرے پر تیروں کی بارش ہے۔

میدان میںمُردوں اور زخمیوں کے ڈھیر بھی نظر آتے ہیں۔دشمن کی فوج کے بھاگنے اور شام کے بادشاہ کا فرعون رعمیس کے سامنے تھرتھراتے ہوئے کھڑے ہونا فی الوقع دلچسپ منظر تھے۔

اور نہ چاہتے ہوئے بھی بندہ ماضی اور حال کے موازنوں میں تو اُلجھ ہی جاتا ہے۔ بھلا صدیوں پہلے اور آج کے انسان میں کیا فرق ہے۔ کچھ بھی نہیں۔ وہی خون خرابہ وہی ہوس گیری جو کل تھی سو آج بھی ہے۔ تو پھر اوپر والے نے یہ سب اپنی دل پشوری کے لیے ہی تخلیق کیا نا۔ خود سے ہی اُلٹی پلٹی باتیں کرتے کرتے باہر نکل آئی۔ تھوڑی دیر کیلئے بازار کی سیر کی د س 10 تو یونہی بج گئے تھے۔

ساڑھے دس10 بجے میں اوپر عرشے پر آگئی ۔سارا عرشہ ویران تھا۔بیچ بیڈزخالی تھے۔ ریک میں رکھے گئے صاف تولیوں میں سے ایک نکال کر میں نے بیڈ پر بچھایا اور اس پر لم لیٹ ہو گئی۔ خاصی دور فضا میں فلائنگ غبارے اڑتے تھے ۔میرا جی چاہتا تھا کوئی اُڑتا ہوا عین میرے اوپر آجائے اور میں کچھ دیکھ سکوں۔

ساڑھے دس کی بجائے کروز نے ساڑھے گیارہ بجے حرکت کی ۔ وقت کی اس زیادتی نے اور میرے دل کو جلایا۔ ہم دھیرے دھیرے لُکسر کی بلند و بالا عمارات سے دور ہوتے جا رہے تھے۔ عرشے پر اس وقت مسافروں کا رش تھا۔ دھوپ بھی تیز تھی اور ہوائیں بھی ٹھنڈی تھیں۔ سوئمنگ پول کے گرد رنگین Bikni کے دھنک رنگ بکھر گئے تھے۔ تھل تھل کرتے مردوزن کے نیم عریاں اجسام عجیب سی کراہت کا احساس پیدا کر رہے تھے۔

رفتار تیز ہو گئی تھی۔ گو نیل کے دونوںکناروں پر مناظر کی خوب صورتیاں گرفت میں لینے والی فسوں خیزیوں جیسی تو نہ تھیں جہاں بندہ بے اختیار بول اُٹھے کہ:

دامنِ دل می کشد کہ فردوس ایں جا است۔

تاہم اپنے تمام تر تہذیبی اور ثقافتی ورثے کے ہمراہ زردئی پہاڑیوں گنےّ اور کیلے کے کھیتوں مٹی رنگے کچے اور پکے مکانوں سیاہی مائل سبز پانیوں کے ساتھ ایک خوبصورت اور دلکش تاثر کے نمائندہ تھے۔ اور یہ کیلوں کے کھیت کے کھیت دیکھنا بھی انوکھا اور دلچسپ منظر تھا۔ کیلوں کے گھر بنگلہ دیش اور سری لنکا وغیرہ میں جھنڈوں سے ہی کیلوں کی پیداوار کے مناظر سامنے آئے تھے۔ پر یہاں تو گندم اور گنّے کی طرح میلوں میں اِن کا پھیلاؤ تھا۔

پر ان منظروں کا حُسن دو چند ہوا ž