Urdu Manzil


Forum
Directory
Overseas Pakistani
 

 مرزا غالب

نقش فریادی ہے کس کی شوخیٴ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
کاؤ کاوِ سخت جانیہائے تنہائی، نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شِیر کا
جذبہٴ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے
سینہٴ   شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالَمِ تقریر کا
 

 

محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
یاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کا
رنگ شکستہ صبحِ بہارِ نظارہ ہے
یہ وقت ہے شگفتنِ گل ہائے ناز کا
تو اور سوئے غیر نظر ہائے تیز تیز
میں اور دُکھ تری مِژہ ہائے دراز کا
صرفہ ہے ضبطِ آہ میں میرا، وگرنہ میں
طَعمہ ہوں ایک ہی نفسِ جاں گداز کا
ہیں بسکہ جوشِ بادہ سے شیشے اچھل رہے
ہر گوشہٴ بساط ہے سر شیشہ باز کا
کاوش کا، دل کرے ہے تقاضا کہ ہے ہنوز
ناخن پہ قرض اس گرہِ نیم باز کا
تاراجِ کاوشِ غمِ ہجراں ہوا، اسد!
سینہ، کہ تھا دفینہ گہر ہائے راز کا
* * * * *

شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہٴ ابر آب تھا
شعلہٴ جوّالہ ہر اک حلقہٴ گرداب تھا
واں کرم کو عذرِ بارش تھا عناں گیرِ خرام
گریے سے یاں پنبہٴ بالش کف سیلاب تھا
واں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیال
یاں ہجومِ اشک میں تارِ نگہ نایاب تھا
جلوہٴ گل نے کیا تھا واں چراغاں آبجو
یاں رواں مژگانِ چشمِ تر سے خونِ ناب تھا
یاں سرِ پرشور بیخوابی سے تھا دیوار جو
واں وہ فرقِ ناز محوِ بالشِ کمخواب تھا
یاں نفس کرتا تھا روشن، شمعِ بزمِ بیخودی
جلوہٴ گل واں بساطِ صحبتِ احباب تھا
فرش سے تا عرش واں طوفاں تھا موجِ رنگ کا
یاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا
ناگہاں اس رنگ سے خوننابہ ٹپکانے لگا
دل کہ ذوقِ کاوشِ ناخن سے لذت یاب تھا

 

ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب
خونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا
اب میں ہوں اور ماتمِ یک شہرِ آرزو
توڑا جو تو نے آئينہ، تمثال دار تھا
گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو، کہ میں
جاں دادہٴ ہوائے سرِ رہگزار تھا
موجِ سرابِ دشتِ وفا کا نہ پوچھ حال
ہر ذرہ، مثلِ جوہرِ تیغ، آب دار تھا
کم جانتے تھے ہم بھی غمِ عشق کو، پر اب
دیکھا تو کم ہوئے پہ غمِ روزگار تھا
* * * * * *

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا

آپ جانا اُدھر اور آپ ہی حیراں ہونا

جوہرِ آئینہ بھی چاہے ہے مژگاں ہونا

عیدِ نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا

تو ہو اور آپ بہ صد رنگ گلستاں ہونا

لذت ریشِ جگر، غرقِ نمکداں ہونا

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

 گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی

واے دیوانگیٴ شوق کہ ہر دم مجھ کو

جلوہٴ از بسکہ تقاضائے نگہ کرتا ہے

عشرتِ قتل گہِ اہل تمنا، مت پوچھ

لے گئے خاک میں ہم داغِ تمنائے نشاط

عشرتِ پارہٴ دل، زخمِ تمنا کھانا

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

حیف اُس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالب!

جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا

 

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا؟

کبھی تو نہ توڑ سکتا، اگر استوار ہوتا

یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

 کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غمگسار ہوتا

جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا

غمٕ عشق اگر نہ ہوتا، غمِ روزگار ہوتا

مجھے کیا برا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا

نہ کبھی جنازہ اٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا

جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دوچار ہوتا

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا

ترے وعدے پر جیے ہم، تو یہ جان جھوٹ جانا

تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا

کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیم کش کو

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح

رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
غم اگرچہ جاںگسل ہے، پہ بچیں کہاں کہ دل ہے

 کہوں کس سے میں کہ کیا ہے، شبِ غم بری بلا ہے

ہوئے مرکے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا

اُسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا

 یہ مسائلِ تصوّف، یہ ترا بیان غالب

 تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

پھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا

الٹے پھر آئے درِ کعبہ اگر وا نہ ہوا

روبرو کوئی بتِ آئينہ سیما نہ ہوا

تیرا بیمار، برا کیا ہے، گر اچھا نہ ہوا

خاک کا رزق ہے وہ قطرہ کہ دریا نہ ہوا

کام میں میرے ہے جو فتنہ کہ برپا نہ ہوا

حمزہ کا قِصّہ ہوا، عشق کا چرچا نہ ہوا

کھیل لڑکوں کا ہوا، دیدہٴ بینا نہ ہوا

درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا

بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں، کہ ہم

سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کا

 کم نہیں نازشِ ہمنامیٴ چشمِ خوباں

سینے کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیا

نام کا میرے ہے جو دکھ کہ کسی کو نہ ملا

ہر بُنِ مو سے دمِ ذکر نہ ٹپکے خونناب

قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کُل

تھی خبر گرم کہ غالب کے اُڑیں گے پرزے
 دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا
* * * * *
اسد ہم وہ جنوں جولاں گدائے بے سر و پا ہیں
 کہ ہے سر پنجہٴ مژگانِ آہو پشت خار اپنا

 

Blue bar

CLICK HERE TO GO BACK TO HOME PAGE