Urdu Manzil


Forum
Directory
Overseas Pakistani
 

طاہرہ اقبال

پردہ

مکئی کے کھیت میں سے اُس نے چھلی توڑی، جیسے انگوٹھے اور اُنگلی کی پور کو جوڑ کر چٹکی بجائی ہو۔ ادھ کچری چھلی کے ُگلابی چہرے والا بوٹا کمر لچکا کر سر سرایا۔ خانو دو بیگھ بھرے برسیم کے جامنی پھولوں پر سے تیرتا ُہوا مکئی کے اس کھیت میں اُترا۔ چھلی توڑتی ریشو کے جنڈوں پر ہاتھ پڑا، تو جیسے بھٹے کے پردے میں سے جھانکتے سنہرے ریشم نے پوروں کو لپیٹ لیا، خانومنڈیر سے پھسل بہتے کھال میں دھکا کھا گیا۔

’’ری تو ریشو نائن ہی ہے نا، جس کے جنڈے جنڈ کی جڑوں کی طرح بٹے ہوئے ہوتے تھے اور چہرہ رہو کے پیپے کی طرح گرالوں سے بھرا ہوتا تھا۔‘‘

’’ریشو نہیں ریشماں کہو۔‘‘

اُس نے دودھی چھلی کا گودا چبا کر خانو کی گردن پر پھوگ اُچھالا، خانو نے پھوگ اُنگلیوں پرَمل کر َپوریں چاٹیں اور اچھی اچھی چھلیاں توڑ توڑ اُس کے گلابی آنچل میں بھرنے لگا اور دودھی ُتکے چبانے لگا۔

’’اری تیرے بالوں میں کن ریشم اُنگلیوں نے کنگھا پھیرا، تیرے گالوں پر کس پھول کے زردانے جھڑ گئے ، تیرے قد پر کب سنی کے بوٹے نے لہرا کو انگڑائی کھولی اری ُتو ریشو نائن سے ریشماں کب ہو گئی؟‘‘

ریشو ریشماں ہوگئی ۔ ریشماں جوان ہو گئی۔

یہ خبر ہر نکڑ کونے میں یوں لگی، جیسے میاں خیرے کے میلے میں موت کے کنویں میں کوہ کاف کی حسینہ ایک پہئے والا سائیکل چلاتی ہو اور بنا ٹکٹ والا تنبو توڑ رش، اُس ہٹی پر پڑنے لگا، جس کے سامنے سے ُگزر کر وہ روز صبح لسّی لینے نمبرداروں کے گھر جاتی تھی۔ ذرا سی ُکجی کا بوجھ سر پر رکھے ، کبھی کولہے پہ ٹکائے کچی گلیوں کے ٹیڑھے میڑھے موڑ کاٹتی، تو تماش بینوں کو لگتا جیسے موت کے کنویں میں چکرانے والا سائیکل اُن کے سینوں کے نشیب و فراز پر سرپٹ دوڑنے لگا ہے۔ اُس وقت گاؤں کے مردوں کے پاس اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہ رہتا کہ وہ ہٹی پہ بجتے فلمی گانوں کے تال پر سیٹیاں اور چٹکیاں بجائیں اور ُمونچھوں پہ ٹپکتی رال کو ُچوس کر گالیاں چباچبا تھوکیں۔

’’ ُلچی، بدمعاش ، لفنگی۔‘‘

وہ بازو کو کمان کی شکل میں خم دے کر َسر پر دھری ُکجی کی گردن میں ہاتھ ڈالتی، تو اوڑھنی کا پلّو کھنچ کر بائیں کندھے سے لٹک جاتا اور قمیض کا چاک یوں اُوپر اُٹھتا کہ شلوار کے نیفے کے اُوپر کولہے کا اُبھار مصالحہ دار بوٹی سی مردوں کے منہ میں چلا جاتا، وہ ِسی ِسی اُنگلیاں کاٹتے، زبان پر پڑے کالے پیلے چھالے چاٹتے، ’’کنجری، گشتی، بدمعاش‘‘ تب گاؤں کی عورتیں کانوں کو ہاتھ لگا زبان ُچھوتیں۔۔۔

’’ہائے ہائے نی ساری کی ساری ننگی۔‘‘

تب وہ کولہے سے بوٹی بھر عریاں اتنی ہی ننگی معلوم ہوتی جتنی پنجابی فلموں کی گدرائی ہوئی ہیروئن اوراتنی ہی ُلچیدکھتی جتنی باری میں سے جھانکتی کوٹھے والی، جوان بیٹوں کی ماؤں کو اُس کی بدمعاشی، اُس کی چھوٹی ذات نیچ فطرت کا خاصہ معلوم ہوتی، جوان شوہروں کی بیویوں کو اُس کا گورا رنگ اُنھی کے شوہروں کی لائی ہوئی کریموں کا چمکارا دِکھائی دیتا اور اُس کی عمر اُس کے ُحسن کے لوازمات کو مختلف مردوں کے ناموں سے تعبیر کرتے ہوئے نفرت بھرے َہو کے بھرتیں۔

’’اچھو منیاری والے کی ِنکی بنیان ‘‘ جس میں وہ کس کس کر ساری کی ساری آپے سے باہر اُمڈ آتی کہ اُسے واپس خود اپنے ہی بدن میں دھکیلنا جیسے اُس کے اپنے بس میں نہ رہا ہو تبھی تو نمبردارنی اُس کی ُکجی میں لسّی ڈالتے ہوئے کانوں کو ہاتھ لگاتی۔

’’ارے بچے جوان ہوگئے پر جسم اپنی ہی کھال کے پردے میں چھپا رہا، اری تو تو اپنے ہی بدن سے دو گٹھ (بالشت) باہر نکل کرچلتی ہے۔‘‘

’’نمبرد ارنی جی! ٹوڈا ِکھرجائے تو کھوکھری میں تھوڑی سما پاتا ہے۔‘‘

وہ ہنستی تولگتا ماس میں بھرا آتشیں لاواسا، باہر اُمڈ کر بہہ نکلا ہے۔ اُس کے گالوں کی سرخی پھیری والے اَکو کے مالٹوں اور سیبوں میں سے نکلتی تھی، جنھیں سبھی لڑکیوں نے خود اپنی آنکھوں سے اُس کے سینے پہ تنی ُبکل میں ڈالتے ہوئے اکو کو کئی بار دیکھا تھا۔

اُس کی چال مورنی کی نہیں اُس چپلی کی محتاج تھی، جو گلو آرائیں میاں خیرے کے میلے سے بڑی مہنگی خرید کر لایا تھا اور جوں جوں وہ پرانی ہوتی جارہی تھی۔ اُس کی قیمت کا تخمینہ بھی بڑھتا جارہا تھا، تو گلو کی بیوی اُسے واپس لانے کو روز صبح شام سر باندھ کر گالیوں کا لٹھ اُٹھا کر اُس سے لڑنے جاتی، جواباً وہ ہنس ہنس سنی کے پھولوں جڑی لخروں سابدن لہراتی اور زرد زرد پنکھڑیاں بکھیرتی چلی جاتی۔ گلو کی بیوی لڑ لڑ پسینو پسین لوٹتی تو جیسے بے لچک لٹھ سی کڑک کر کے جا جا ٹوٹ چکی ہوتی۔

بالآخر جوان شوہروں کی بیویوں، جوان بیٹوں کی ماؤں اور اُس کی ہم عمر لڑکیوں نے مل کر یہ فتویٰ دیا کہ ُلچی رَن اس لیے خوبصورت دِکھتی ہے کہ وہ رنگ رنگ کا کھاتی ہنڈاتی اور وَن وَن کا مردور تتی ہے، بوڑھے مردوں کی بیویاں نسبتاً زیادہ خطرے کا شکار تھیں، کہ نہ رنگ رنگ کا کھانا اُنھیں پچتا، نہ ہنڈانا سجتا، اور نہ ہی مرد برتنے کی سکت بچی تھی، جب کہ وہ کناروں اُمڈتی ڈھلانوں چڑھتی سیلابی ندی اوربوڑھے مردوں کے جسم و جاں تو ویسے بھی نشیب میں دھرے ہوتے ہیں، ذرا سی چھل سے بھی پایاب اور پھر جب بادل کا پیٹ پھٹنے کو آئے تو وہ دریا، سمندر، تھل، بیلے کچھ تمیز تھوڑی رکھتا ہے، بس برس بڑتا ہے کہ اُس کا بوجھ اُس کے وجود میں سما نہیں پا رہا ہوتا، ریشو کے اندر بھرا سب کچھ اُس کی ہڈیوں کے پنجرے، گوشت کی دبازت اور کھال کے استرسے کہیں زیادہ منہ زور تھا۔ پھٹتی ، ادھڑتی، مسکتی، برستی بہتی چلی جاتی۔ اسی لیے تو جب وہ نمبرداروں کے گھر سے لسی لینے جاتی تو نمبردارنی کو رولاسا پڑ جاتا۔ نمبردارنی کے بالوں کی لٹیں چادر سے نکل کر بانس کے جھاڑو کی طرح بکھر جاتیں ، ماتھے پہ بچھی لکیریں اور ٹھوڑی کا ڈھلکا ہوا ماس گچھا مچھا ہو جاتا۔ نوکرانی کو ڈانٹتے ہوئے حلق میں سے جو آواز نکلتی وہ زنانہ ہوتے ہوئے بھی ہیجڑا سی معلوم ہوتی۔

’’نی جلدی ورتا نی ّلسی۔ نری آلسی، ّلسی ور تار ہی ہے کہ ہائے گلا رہی ہے۔ تو ہٹ پرے۔ میں آپ نبیڑوں۔‘‘

ون کا دُھواں نگلتی خود چولہے سے اُٹھتی تو گھٹنے کا کڑا کانو کرانی کو پڑھنے والے دھپے میں کھڑک کی آواز دیتا، کمان بنی کھڑی ریشو کے کولہے پر چڑھی کجی کے منہ میں ہاتھ ڈال کھینچتی جیسے ہاتھ اُس کی کھال پر پڑا ہو اور ادھیڑتا چلا گیا ہو۔

’’ َپلا (کپڑا)کر ِنی آگے، کیوں اکڑا کے رکھتی ہے۔ ڈھیلا چھوڑا نہیں ۔۔۔ یہ دیکھ۔۔۔‘‘ نمبردارنی چھلکیں مارتے سینے پر سے چادر ہٹاتی۔

’’یہ دیکھ آج تک کبھی نہ پہنی۔ کوئی شرم حیا بھی ہوتا ہے زنانی کا۔۔۔ کنجریاں کرتی ہیں ایسے چالے۔۔۔ یہ پہنیں تو گاڑ کے نہ رکھ دُوں انھیں اڑوڑی میں ۔۔۔‘‘وہ نوکرانیوں کی سمت اشارہ کرتی۔ لسی کجی کے منہ سے چھلک جاتی، نمبردارنی کا حلق غوطا جاتا جیسے اندر کہیں کوئی منہ کے بل ڈوب گیا ہو۔ وہ بکل کھول کر دوبارہ کستی تو نمبردارنی کو لگتا۔ اُس کے جسم کابے شرم اکڑاؤ اُس کے اپنے جسم کے ڈھلکاؤ پر ہنسی کے چھینٹے اُڑا رہا ہے اور برآمدے میں بیٹھے ہوئے نمبردار کے پراٹھا مکھن کے ذائقے میںا چاری چس بھر گیا ہے، جس کی سسکار وہ کانوں سنتی، ّلسی کی ُکجی بھر کر،یوں بڑھاتی جیسے پیر سے جوتا نکال کر پٹخا ہو، جو ہوا میں اڑنے لگا ہو، اور پتہ نہیں کون کون زد میں ہو، وہ ُلچی بھی ذرا سی ُکجی کو یوں جھٹکا مار کر سر تک لے جاتی کہ دائیں بائیں وکھیوں (پسلیوں) سے قمیض اُوپر تک چڑھ جاتی، جیسے یہ پاؤ بھر ُکجی نہ ہو کوئی منوں وزنی پنڈ ہو، جسے اُٹھانے کو کسی اور ہاتھ کا سہارا درکار ہو۔ تبھی تو اُس روز نمبردار کا اکلوتا بیٹا جبار اُسے مشکل میں دیکھ کر بے اختیار مدد کو بڑھا، اور ُکجی کے گلے میں ہاتھ ڈال اُس کے َسر دَھر دیا۔وہ ُ کجی کی بے وزنی پر ہنسی جس نے جبار کا سارا زور کھینچ لیا تھا اوروہ نڈھال ہو کر ہانپنے لگا تھا۔ ہنسی کا َبل جب مروڑے کھا کھا کر کمر تک آیا تو بڑے نمبردار کو دو ُمونہی نے ڈس لیا، جو ہر سال اسی موسم میں اُسے ڈسنے کو نجانے کتنا لمبا فاصلہ طے کرتی تھی اور جب تک ڈس نہ لیتی تھی۔ نمبردار کا بدن ڈنک کی وِس کے لیے ٹوٹتا رہتا تھا۔ نمبردار کے حلق میں پھنسنے والی مکھن ُچپڑی برکی، اُس نے کھنگورا مار کر نگلی، تو وہ دروازے سے باہر لپکی، جیسے خود ّلسی کی ُکجی میں لبالب بھر گئی ہو۔ چھلکتی ، امڈتی کبھی سر پر کبھی ُکولہے پر۔۔۔ جس جس گلی سے ُ گزرتی ، کچھ اُگلتی، تھوکتی، پھینکتی چلی جاتی۔ بھورے چننے والے اُس کے پیروں کی مٹی پھرولتے رہ جاتے، وہ بدمعاش بھی ایسی فسادی کہ بھونکنے، بھنبھورنے کو کئی نہ کوئی ہڈی ماس پھینک ہی جاتی، کبھی چیرویں آنکھ کی آب سے کچھ ڈھلک جاتا، کبھی بھیگے بھیگے لبوں کی تری سے کچھ ٹپک جاتا، کبھی کھال میں خود کو سموئے رکھنے کی کوشش میں کچھ اُبھر، اُمڈ آتا اور جب وہ گزر چکتی تو سارے ہونٹ چاٹتے ہوئے لکڑی بنے نرگٹوں میں خشک تھوک نگلتے۔

’’نری کنجری، ُلچی، بدمعاش ، غنڈی۔‘‘ جیسے وہ بنا کچھ کہے سنے سب دُکان داروں سے غنڈہ ٹیکس وصول کرتی گزر گئی ہو اور اس کا جھولا گزر جانے کے بعد اُنھیں اپنے قلاش ہو جانے کااحساس ہوا ہو۔ زبردست سے رُندھ جانے کے بعد زیردست کے اندر بھرا ہُسڑ گالیوں کی شکل میں باہر آتا ہے۔

یہ اطلاع آنے میں اگرچہ منطقی طور پر دیر ہوئی، لیکن جب خبر لگی تو چٹخارے کی طرح ہر زبان نے مزے لے لے کر چبائی۔ جوان شوہروں کی بیویاں اور جوان بیٹوں کی ماؤں نے اپنے ا پنے مردوں کے چہروں کی ُبھر ُبھری مٹی میں رمبی، درانتی چلا کوئی گرا پڑا سٹی دانہ ڈھونڈنے کی کوشش کی۔

کئی تو کھیڑے پڑ گئیں اور قسمیں اُٹھوانے تک آئیں اور ہڈیاں سنکوا کر روئیں۔

’’مرد کی ذات بڑی بے اعتباری شے اڑیو نہ بیٹا اعتباری، نہ شوہر، نہ سسر۔۔۔‘‘ اور پھر گم پھوڑے پر قیاس کے چوبھے لگانے لگیں، جیسے ہر ایک کو یقین تھا کہ یہ دوسری کی ہی سوتیلی اولاد پوتا پوتی ہے۔ جو اس ناجائز کو کھ میں پل رہی ہے۔ تب بیویوں کے سسر اور بیٹوں کے باپ بھی ڈھیری پھرولتے ہوئے معلوم ہوتے۔ گاؤں میں کسی کی چوری ہونے کی صورت میں وہ مٹی کی ڈھیری بنا کر سب کو باری باری اُس میں ہاتھ ڈالنے کی دعوت دیتا ہے۔ تب موقع سے فائدہ اٹھا کر اصل چور مدعا ڈھیری میں چھوڑ جاتا ہے۔ چوری کا مال توپکڑا جاتا ہے لیکن اصل چور سامنے نہیں آپاتا، گویا یہ چوری تھوڑی تھوڑی کرکے سبھی میں تقسیم ہو گئی ہو اور کفارے کے طور پر قبول کر لی گئی ہو۔ یہ چوری بھی سارے گاؤں کے مردوں میں ذرا ذرا تقسیم ہوگئی تھی اور اصل چور سامنے نہ آرہا تھا۔ تبھی تو نمبردارنی نے چھونی (ڈھکنا) کی اوٹ میں سیر بھر مکھن کا پیڑا اُچھا ل اُچھال ّلسی لینے والیوں کی نظروں سے اُسے چھپایا۔ ّلسی کے آخری قطرے نچوڑے۔

’’اڑیو! اپنے اپنے خصموں کے توپے اُدھیڑو۔ چور تو اُنھی میں سے کوئی ہے نا بے غیر تو ہے کہ نہیں۔۔۔‘‘

مگر یہاں کوئی اقرار نہ کرتاتو اِنکار بھی تو نہ کرتا تھا، جیسے اقرار جرم ہے تو انکار ذلت، جیسے اس جرم کا اعزاز کسی اور کے نام کرنے والے پر خود نامردی کا طعنہ آجاتا ہو۔ تب ہر عورت اندھیرے سویرے مُلّا کے پاس مٹھی بند کر کے گئی اور ڈھیری میں ہاتھ ڈال کر کھول آئی۔

’’ مُلّا جی! کتاب پھرول کر بتاؤ ، اصل چور کون ہے۔ قسم لگے آپ کو اس پاک کتاب کی چور کانام بتا دومُلّا جی! ورنہ بستی پر قہر ٹوٹے گا، نہروں میں بندیاں ہو جائیں گی۔ فصل کو تیلا کھا جائے گا۔۔۔‘‘

تب مُلّا درود شریف کا وِرد مکمل کر کے گریباں کے اندر پھونکتا، جیسے اپنے ِگرد حفاظتی قلعہ کھینچ رہا ہو۔

’’بی بیو! پچھ پر تیت عورت ذات سے ہوتی ہے، کیونکہ راز کی محرم وہی ہے ۔ اسی لیے تو حشر دیہاڑے ہر ایککو ماں کے حوالے سے پکارا جائے گا۔ اس میں بڑی حکمت ہے۔ پردے کی حکمت۔ اس لیے بیبیو چشم پوشی کرو، مُتشبہات کے لیے شرع میں یہی حکم آیا ہے یا پھر اُسی سے جا کر سچ اُگلواؤ۔۔۔‘‘

لیکن جب نمبردارنی کا پیغام بھی یہی موصول ہو اکہ مُلّا جی کتاب نکال کر اصل چور کا نام سامنے لایا جائے۔ کیونکہ یہ شرع کا مسئلہ ہے تب گڑ اور گینہوں کی بوریاں مولوی کے گھر جاتے ہوئے عام دیکھی گئیں اور یہ بھی سنا گیا کہ نمبردار نے ریشماں کے باپ دِ ّتو نائی کو ُبلا کر حکم دیا کہ اوّل تو کمیوں کی بیٹیاں پیدا ہوتے ہی مرجائیں تو بہت اچھا اور اگر بدقسمتی سے جوان بھی ہوجائیں تو ان کی ُجڑی ہوئی لٹوں میں پہلا کنگھا پھرنے اور گرالیں لبڑے منہ کو پہلی بار دھوتے ہی ساس کے بیلن میں ان کا گالا جھونک دینا چاہیے کہ ان کا دُھلا ہوا چہرہ اور سنورے ہوئے بال بستی کا فساد ہیں، کیونکہ مردوں کے جسم و جاں صاف چہرے اور سنورے ہوئے بالوں کی بھٹی میں بھس کی طرح جل اُٹھتے ہیں اور بھس غریب تو پھر آگ کے لانبے کے رحم و کرم پر ہی ہوتا ہے نا۔

تب سنانمبردار دِ تونائی کے پیروں میں بیٹھ گیا اور اُس کا جوتا اُٹھا کر سر پر رکھا۔ خالی کھیسہ سامنے اُلٹ دیا، بولا: ’’مائی باپ! میں بھی یہی چاہتا ہوں، مگر جب غریب کے پاس بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے کو رنگ نہ ہوتو پھر جس کاجی چاہے اُس کے چہرے پر لال کالا تھوکتا رہے۔‘‘ تب سنا نمبردار نے بند مٹھی اُس کی جیب میں کھولتے ہوئے کہا۔

’’دِتو نائی! جتنی دیر میں یہ بند مٹھی تیری جیب میں کھلی ہے۔ اتنی دیر میں گناہ کا چھپ جانا بہتر ہوتا ہے۔ گناہ کی نمائش بستی پر عذاب نازل کر دیتی ہے اور گناہ کا جلد سے جلد چھپ جانا ہی اُس کا کفارہ ہوتا ہے۔ ایسی عورت جو توری کی بیل کی طرح بڑھتی اور ہر شے سے لپٹی چلی جائے اور بھرے گھڑے کی طرح چھلک چھلک پڑتی ہو۔ بزرگوں نے یہی فرمایا ہے کہ اُسے فوراً نکاح میں دے دو۔۔۔‘‘ اگلے روزگاؤں کی ہٹی ، گاؤں کی گلیوں کی طرح ویران تھی اور گلیوں کی مٹی کی طرح فلمی گانوں کا گلا بیٹھ گیا تھا کیونکہ مردوں کو بھولے بسرے کام یاد آرہے تھے، جو پچھلے ہنگامی و ہیجانی دور میں تعطل کا شکار رہے تھے۔

’’کل رات سے ریشماں گاؤں میں موجود نہ تھی۔‘‘ عورتیں سکون کا گہر ا سانس کھینچ کر آلوں کی دُھول میں لتھڑے ادھورے چنگیر اور رومال اُٹھا ٹاہلی کی چھاؤں میں آبیٹھیں ، جیسے آوارہ کتی کے سامنے کلچے ڈال کر بے فکر ہو گئی ہوں، کہ اب چوکے کی راکھی کی مصیبت ختم ہوئی، لیکن شام پڑتے پڑتے چنگیریں اور رومال پھر اُدھورے چھٹ گئے۔ مردوں کے بھولے بسرے کام بھی مکمل نہ ہوسکے، گاؤں کی ہٹی، گاؤں کی گلیوں کی طرح پھر بھر گئی، جس میں فلمی گانوں کی بجائے چہ میگوئیوں کا تال گلیوں کی سوئی ہوئی مٹی کواُڑانے لگا۔ خبر کانوں کان طویل سفر طے کر گئی۔

ریشماں کسی نائی موچی سے نکاح کر نہ گئی تھی بلکہ چھوٹا نمبردار اُسے بھگا کر لے گیا تھا۔ اس خبر کی تصدیق اُس ٹیکسی ڈرائیور نے بھی کردی ، جس نے جبار کو ریلوے اسٹیشن تک چھوڑا تھا کہ اُس کے ساتھ سیاہ برقعے میں لپٹی ایک لمبے قد والی عورت تھی جس کی نقاب میں سے روشنی سی جھلکتی تھی۔

ہٹی پر بیٹھے مرد بڑی دیر مکھیوں لپی دیواروں پہ نظریں جمائے سگریٹ کے دھوئیں سے اُنھیں مزید لبیڑتے رہے، جیسے ایک دوسرے کے پہلو میں بیٹھے دوسرے کی پہل کے تذتذب میں ہوں۔

آخر اچھو منیاری والے نے پہلا اخروٹ کھتی کی سمت لڑھکایا۔

’’پہلے میرے پاس آئی تھی۔ کہنے لگی قسم رب سوہنے دی یہ تیرا ہے۔ چل مجھے ساتھ لے چل، ورنہ مولوی کو جا کر بتادوں گی، مولوی دوسرے مولویوں کو بتائے گا، دوسرے مولوی سرکار کو بتائیں گے اور سرکار تجھے مٹی میں گاڑ کر پتھر مار مار۔۔۔ مکا دے گی۔‘‘

سارے مرد مل کر ہنسے، جیسے اُن کی ہنسی کے چھینٹے گزر چکے سانپ کی لکیر پر برس رہے ہوں۔ اب اَکو نے ُکھتی کے منہ پر پڑے اخروٹ پر چوٹ ماری۔

’’مجھے بھی یہی کہا، مجھے بھی تو۔۔۔ ‘‘ میں نے جواب دیا۔ ’’اری تیرے پاس کیا ثبوت ہے کہ یہ میرا ہے۔ مولوی تین گواہ مانگے گا اور تیری تو اپنی گواہی آدھی ہے۔‘‘

تب سارے مردوں نے اِک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارے اور اپنا اپنا بیان دینے کو یکبارگی منہ کھولے، خانو جٹ کی دبنگ آواز نے باقی آوازوں کو دبا لیا اور ُگڑ کی بوری پہ لپٹی مکھیوں میں، کابلی بھڑ گھس کر بھنبھنانے لگا۔

’’جب میرے پاس قرآن پاک سر پر اٹھا کر لائی کہ قسم پیر دستگیر کی بس تو ہی تو تھا تو میں نے کہا۔ تو معشوق ہے اور معشوق بیوی بن جائے تو زندگی اُداس ہوجاتی ہے۔‘‘

تب مردوں کے حلق کے کنویں میں غٹر غٹر ہنسی کے بوکے اُلٹے۔ ’’یہی قرآن سر پر رکھے رکھے نمبرداروں کی حویلی کارستہ پکڑ اور جبار کے پاس جا کر یہی قسم کھا اور اُسے کہہ کہ اپنی نسل بچالے، ورنہ کسی موچی نائی کے نام لگ کر پلے گی اور کمی کمین کہلائے گی۔ مردوں کے حلق میں گھڑگھڑاتے ہوئے قہقہے یکبارگی باہر اُلٹے۔ تو ہٹی کی دیواروں پر لپی اَدھ مری سی مکھیاں ذرا ذرا رینگیں جیسے اپنے زندہ ہونے کا احساس خود کو کروارہی ہوں اور پھر اپنی ہی گندگی میں منہ مارنے لگیں اور اُن میں گھسا ہوا بھیڑ اُلٹا ہو کر چکرانے لگا۔ گلو کو ہنستے ہنستے اَچھو آگیا۔

’’مَیں نے بھی۔۔۔ مَیں بھی کبھی تو۔۔۔ یہی مشورہ دیا۔ کہا اِک بندہ پنڈ میں ایسا ہے کہ جس کانام اگر تو لے گی تو تیرے سے کوئی گواہ نہ مانگے گا۔۔ ۔ اور جبار جسے باپ نے گھر میں ماسٹر رکھ کر پڑھوایا کہ سکول میں لڑکے اُسے کہیں خراب نہ کر دیں، نوکرانیوں کی صحبت میں رکھ پالا کہ نوکروں کی بیٹھک میں کہیں بگڑ نہ جائے وہ غریب پھول کے زردانوں میں پوریں ڈبو کر ہی سمجھا کہ شہد کی مکھی وہی ہے اور گوڈے گوڈے دھنسے ہوئے صاف بچ نکلے۔‘‘

ہٹی کے حجم کی نسبت کہیں بڑے قہقہے ہٹی کے کچے بدن کو پھاڑ کر گولوں کی طرح باہر نکلے، اور اندھیرے سایوں کو روندتے ساتھ والے باڑے کی امس میں اُترے، تو مویشی کھونٹوں کے گرد چکرانے لگے۔ چاچے حکم داد نے ٹھنڈے چلم کا سوٹا گھڑ گھڑایا۔

’’تمیز سے بھئی تمیز سے۔ اب وہ ریشماں نہیں رہی۔ نمبردارنی ہے اور بڑے لوگوں کی بہو بیٹیوں کا نام ہم چھوٹے لوگوں کی زبانوں پر آئے تو زبان پر چھالا پڑ جاتا ہے۔ ریشو کی کہانی مک گئی۔ نمبردارنی کا قصہ شروع ہوا، بڑے لوگوں کا ذِکر بھی زبان دانتوں تلے دبا کر سنتے ہیں، ہنکار ا بھی بھرو تو سوچ سمجھ کر بھرو، جس کے برابر آسکو نہ آگے بڑھ سکو اُس کے پیچھے پیچھے آنکھ منہ بند کر کے چلا کرتے ہیں بھئی۔۔۔‘‘

سارے مرد زبانیں دانتوں تلے دبا کر اپنے اپنے گھروں کو چلے، پیروں سے اُٹھتی سوئی ہوئی دھول دھکا کھا کر ذرا سا آگے جا کر منہ کے بل گرتی تو اندھیرا بھری گلیوں میں اڑوڑی کے ڈھیروں پر گند پھرولتے کتوں کے غول بھونکنے لگتے۔

باڑوں میں بھری تاریکی میں مویشیوں کے مہیب سایوں میں سوئے راکھے ہنکارتے، کھانستے اور حقے گھڑ گھڑاتے تو کماد کی کٹی ہوئی پوریوں کی باسی مہک کڑوے تمباکو میں گھل مل جاتی تھی۔ تبھی مسجد کے لاؤڈ سپیکر کی آواز نے سوئی ہوئی فضا کو ہڑ بڑا کر جگا دیا، جہاں انتہائی افسوس کے ساتھ اعلان کیا جارہا تھا کہ نمبردار صاحب قضائے الٰہی سے فوت ہوگئے ہیں۔ گاؤں کے ہر گھر سے نکلتا ماتمی جلوس حویلی کو جانے والی گلیوں میں بھر گیا، جیسے پہلے سے ہی تیار بیٹھے تھے، سفید چادریں اور چار خانے صافے اوڑھ کر۔۔۔ جب مردوں کا بھرواں ریلا میرو میراثی کی جھگی کے سامنے سے گزرا، تو وہ دو ہتھڑ مارتے ہوئے مجمع کے سینے میں آن کھبا، تب تک کیکروں کی ٹیشیوں سے اُترتا چاند گلی میں بھرے چہروں کو پہچان دے گیا تھا۔

’’ہائے ہائے نمبردار صاحب مر گئے۔۔۔ جنت ملے تے بھانویں دوزخ دونوں تھاں سرداریاں قائم رہن، ڈاہڈے بیبے بندے تھے۔۔۔ پر مر گئے۔۔۔ اپنی اعلیٰ نسل میں نیچ رلا تو قبول کر ہی لیتے پر ہائے ہائے۔۔۔ ہائے۔۔۔ مرنا ہی تھا۔۔۔ مرتے نہ تو کیا کرتے آنے والے کو۔۔۔ ہائے ہائے آنے والے کو۔۔۔‘‘

میراثی نے پوری قوت سے سینہ دھڑ دھڑ کوٹا۔۔۔ ’’ہائے آنے والے کو بیٹا کہتے کہ پوتا۔۔۔ ہائے پوتا کہ بیٹا۔۔۔ جنت ملے کہ دوزخ ، اللہ بہشتی کی سرداریاں قائم رکھے۔ اس گناہگار نے خود۔۔۔ ہائے خود۔۔۔ چھوٹی نمبردارنی اور بڑے نمبردار کی بیٹھک کا پہرہ کئی باردیا ۔ ہائے خود۔۔۔ دوزخ ملے کہ جنت سدا سرداریاں قائم رہیں ھائے مرگئے۔‘‘

ماتمی جلوس نے دانتوں تلے زبان دبا دبا ہنسی کاٹی۔ عورتوں نے تاریک فضاؤں میں بازو لہرا لہرا بین ڈالے۔ ’’ہائے نی آج سارا جگ رانڈ ہو گیا۔ ‘‘ اور اِک دوجی کے چٹکیاں لیں اور خانو کی دبنگ آواز نے درختوں سے چمگادڑوں کو اُڑا دیا اور پرندے قبل ازو قت بولنے اور پھڑ پھڑانے لگے۔

’’کلمہ شہادت لااِلہٰ الا اللّٰہ‘‘سارا گاؤں قدموں کی چاپ ، سرگوشیوں اور آوازوں سے چھلکنے لگا۔ بڑی نمبردارنی پہلی غشی کے بعد ابھی ہوش میں آئی ہی تھی کہ مجمع میں شور اُٹھا۔

’’چھوٹا نمبردار واپس آگیا۔‘‘

مجمع خبر کی شدت کے تیز بہاؤ، میں بے اختیار باہر کی سمت بہا، کئی بچے اور کمزور عورتیں پیروں تلے کچلے گئے۔ جبار کے پیچھے سیاہ بُرقع میں لپٹی ریشماں نے دو ہتڑ مار مار صحن کے بیچوں بیچ بین شروع کیے۔ تو حویلی کے کہنہ ستون لرز گئے اور دھریک پر سے چڑیاں اور لالیاں اُڑ گئیں۔ مجمع دائرہ بنا کر یوں ساکت ہو گیا جیسے موت کے کنویں کی کمزور دیواروں پر کوہ قاف کی حسینہ ایک پہیہ والا سائیکل چلاتی ہو۔

بڑی نمبردارنی چلائی تو جیسے موت کے کنویں کی نازک دیواروں کے اندر کی خوفناک گھڑ گھڑاہٹ باہر اُمڈی ہو۔

’’حرام خورو! کوئی تو میرے منہ میں بھی پانی کی بوند ٹپکا دے۔‘‘ اور پھر پیاسی ہی دانت میچ کر بے ہوش ہوگئی۔ تب چھوٹی نمبردارنی نے سارے انتظامات یوں سنبھال لیے جیسے ُمدتوں سے اس گھر کے اندر اور باہر کی ہر ہر تفصیل سے آگاہ ہو۔ اُس کی زبان سے صادر ہوتے احکامات محترم و مدبر تھے، جیسے بڑی نمبردارنی کے، جو اس وقت بے ہوش پڑی تھی۔ نوکرانیاں بجا آوری میں پسینو پسین ہو رہی تھیں ، جیسے وہ سدا سے ایسی ہی حکمرانی کی عادی رہی ہو اور اُس کی بجا آوری کی ، جیسے نمبردارنی کا نام نہ ملا ہو اعتبار اور احترام کے سارے سلسلے بھی دُور تک جڑ گئے ہوں۔

ّمیت کی چارپائی چھاؤں میں کرو۔ اُوپر پنکھا چلا دو، بیلی ہوئی روئی اطراف میں رکھو، کلمے شریف والی چادر اُوپر ڈالو، خوشبو چھڑکو نوکرانیاں زبان دانتوں تلے دبا بھاگی پھرتیں تھیں، جیسے اندر کا تذبذب اور باہر کی حیرت قدموں کی رفتار میں بھر گئی ہو۔

تبھی باہر سے آواز آئی۔ ’’پردہ، جنازہ اُٹھانے کو َمرد اَندر آتے ہیں۔‘‘

بے ہوش پڑی نمبردارنی کو نوکرانیوں نے وہیں چادر ڈال کر ڈھک دیا۔ البتہ وہ یہ فیصلہ نہ کر پائیں کہ چھوٹی نمبردارنی کو مطلع کیا جائے یا نہ۔۔۔ جب مردوں کی ایک ٹولی اندر داخل ہوئی تو سامنے چھوٹی نمبردارنی میت کے سر ہانے کھڑی گلاب کی پتیاں میت پر بکھرتے ہوئے بین کرتی تھی۔۔۔ اباجی میرے سوہنے اباجی اپنے پوتے کی صورت تو دیکھ مرتے اپنی اکلوتی بہو کا تھوڑا سا انتظار تو کیا ہوتا، ہائے میرے پیارے ابا جی۔ مرد یوں اوندھے منہ واپس پلٹے جیسے جوتوں سمیت مسجد میں پیر رکھ دیا ہو، ایک دوسرے سے ٹکراتے دروازوں کی چوکھاٹوں سے بجتے گچھا مچھا ہو باہر گرے۔ البتہ دِ ّتو نائی نے صحن میں رُک کر ہانک لگائی۔

’’چھوٹی نمبردارنی جی! َپردہ ۔۔۔‘‘

ریشو نے چادر منہ سر پر لپیٹ کر پاس کھڑی نوکرانی کے دھپ مارا۔

’’اری زنان خانے میں داخل ہونے کی جرأت کیسے ہوئی انھیں ۔۔۔ اری پوچھ ان سے ۔۔۔ پوچھتی ہے کہ مَیں کہوں چھوٹے نمبردار صاحب سے۔۔۔ وہ خود پوچھیں ذرا سنوار کر۔۔۔‘‘

نوکرانی زبان دانتوں تلے سے نکال کر بدبدائی۔

’’لیکن یہ تو دِ ّتو نائی صیب ہیں جی۔‘‘

ریشو نے گھما کر دوسرا دھپ مارا۔

’’اری کم بخت کوئی بھی ہو تجھے پتہ نہیں، اس حویلی کا َپردہ پکا ہے۔‘‘

نوکرانیاں اپنے ُجرم پر سہمی کھڑی تھیں اور َمرد چہروں پر صافے لپیٹے زبان دانتوں تلے دبائے ہونکتے تھے۔

 
 

Blue bar

CLICK HERE TO GO BACK TO HOME PAGE