Urdu Manzil


Forum
Directory
Overseas Pakistani
 

جیم فے غوری، سچا ادیب

تحریراسحاق ساجدؔ جرمنی

ایک زندہ زبان کی پہچان یہی ہے کہ وہ ہر دور میں مختلف مسائل سے دو چار رہنے کے باوجود اپنی آن بان اور وقار کا سودا کرنے کی بجائے حالات سے نبرد آزما رہے۔اردو جو مغلوں کے زمانے میں ہندوستانیوں اور مغلوں کے درمیان با ہمی تعاون اور رشتے کا سبب بن کر وجود میں آئی ۔اپنی بے پناہ شیرینی اور لطافت کی وجہ سے آج پوری دنیا میں اردو جاننے والوں کی مقبول ترین زبان ہے .اس میں اردو افسانہ یا کہانی نے بڑا رول ادا کیا ہے۔اور اس زبان کو زندہ رکھنے والے بھی کم نہیں آج بھی ایسے گمنام لوگ جو صحیح اردو کی خدمت کر رہے ہیں ڈھونڈنے سے مل جاتے ہیں اور ان میں معتبر نام جیم فے غوری صاحب کا بھی ہے ان کی کہانیوں کا مجموعہ شطرنج ،لڑکی اور فالتو چیز جو حال ہی میں منظرِ عام پر آیا ہے بہت خوبصورت سرورق کے ساتھ اس میں جو کہانیاں ہیں وہ کوئی عام کہانیاں نہیں بلکہ ہر کہانی اور کہانی کا ہر کردار زندہ محسوس ہوتا ہے ۔اردو کے صفِ اول کے افسانہ نگار جناب محمد منشا یادؔ صاحب لکھتے ہیں ۔ اردو افسانہ نازک دور سے گزر رہا ہے چند برس پہلے نوجوان نسل نے جدیدیت اور نئے پن کا نعرہ لگایا تھا وہ بذاتِ خود ذہنی اور جسمانی اضمحلال اور فرسودگی کا شکار ہو چکی ہے اور تیزی سے تبدیل ہوتی زندگی اور اس کے مسائل سے آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے بہت سے افسانہ نگار تکرار اور جمود کا شکار ہو گئے ہیں اور ان کا فن نئی سوچ دینے کی بجائے لفظوں اور استعاروں کی صنعت گری تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اور جیم فے غوری ایسا ہی با صلاحیت افسانہ نگار ہے جو جدید علامتی اور استعاراتی انداز میں کہانی لکھتے ہیں اور نہایت مؤثر طریقے سے اور سہولت کے ساتھ خارج سے داخل اور داخل سے خارج کی طرف سفر کرتے ہیں ۔ان کے ہاں معنویت کی سطح گہر ی ہوتی ہے. مجھے یقین ہے کہ اردو افسانے کے قارئین ان کہانیوں کو محبت اور قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے اور انہیں دلچسپ ،خوبصورت اور متنوع پائیں گے۔۔۔

اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والے کے لئے جیم فے غوری کا نام نیا نہیں وہ جدید افسانہ نگار ہیں ۔غمِ جاناں کو غمِ کائنات میں ڈھال کر پیش کرنے کا حد درجہ کمال رکھتے ہیں ۔ جیم فے غوری کو قدرت نے بے انتہا ذہنی ہم آہنگی سے نوازا ہے غوری صاحب جب افسانہ یا کہانی لکھتے ہیں تو اپنے موضوع پر آخری وقت تک قائم رہتے ہیں ۔انہیں خیال و فکر کا بدل جانا پسند نہیں ۔علم و معرفت کا سر چشمہ جیم فے غوری آج لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتے ہیں ۔اٹلی کی سر زمین سے علم و فن کے ایسے آفتاب و مہتاب جو تشنگانِ مے اخلاص و محبت اور ادب کی بے لوث خدمت کر رہے ہیں ۔آپ کی کہانیوں میں بہترین ترکیبیں گو ناگوں موضوعات جو اول تا آخر قاری کے ذہن کو اپنی قید میں رکھتے ہیں آپ نے اپنی کہانیوں میں حق گوئی اور بے باکی سے کام لیا ہے کہیں پر بھی مصلحت کشی سے کام نہیں لیا ایک مرد حق کی طرح جھوٹی اور تیرہ ایام میں زندگی گزارنے والوں کے سامنے حقائق کا انکشاف کیا ہے۔زندگی کا کوئی بھی موضوع ہو کوئی بھی پہلو ہو ان کے قلم سے سچائی ہمدردی اور غم گساری ٹپکتی ہے ان کے قلم سے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچتی ۔بڑے فنکارانہ انداز میں وہ ذہنوں کو اصلاحی مواد فراہم کرتے ہیں ۔ معاشی، نا برابری، سفارتکارانہ ،غیر انسانی صورتِ حال سیاسی و سماجی کشمش اور پیچیدگیاں موجودہ دور کے اہم ترین مسائل کو آپ نے اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا ہے۔ جیم فے غوری صاحب کی کہانیوں میں الفاظ و معانی کا ایک بے کراں دریا بھی رواں دواں ہے اس دریائے بیکراں میں غوطہ زنی کرنے کیلئے جراّتِ مردانگی کی اور ہمت کی ضرورت تو ہے ہی ساتھ ساتھ لمبے وقت کی بھی ضرورت ہے میں یہ بات بلا خوفِ تردید کہہ سکتا ہوں کہ جیم فے غوری عظیم افسانہ نگار تو ہیں ہی عظیم انسان بھی ہیں۔

 
 

Blue bar

CLICK HERE TO GO BACK TO HOME PAGE