Urdu Manzil


Forum
Directory
Overseas Pakistani
 

نجمہ عثمان

کسی ٹوٹے ہوئے دل میں سمانا چاہتی ہے

یہ خواہش مضطرب ہے اک ٹھکانہ چاہتی ہے

عجب لڑکی ہے تعبیروں سے خائف ہی نہیں ہے

سنہرے خواب آ نکھوں میں بسانا چاہتی ہے

ابھی بنجر پڑی ہے یہ زمیں پر دیکھنا تم

نمو کی منتظر ہے لہلہانا چاہتی ہے

جو موسم کے کشاکش سے نہیں واقف ابھی تک

وہ کیوں سوکھے شجر میں آشیانہ چاہتی ہے

ہجوم شادمانی میں کھڑی ہے اور پیہم

وہ رونے کے لیے کوئی بہانہ چاہتی ہے

کبھی آنکھوں میں اس کی اشک آتے ہی نہیں ہیں

کبھی چھوٹے سے دکھ پر ٹوٹ جانا چاہتی ہے

جو ہونا ہے وہ دیکھا جائے گا یہ سوچ کر وہ

دئیے کی لو ہوا کے رخ پہ لانا چاہتی ہے

ہمیں پر ختم ہیں شعر و سخن کی محفلیں اب

پرانی نسل کیوں یہ بھول جانا چاہتی ہے

..............................

نجمہ عثمان

وہ مجھ کو دیکھ ر ہا تھا بڑے ملال کے ساتھ

نہ جانے کون سا لمحہ تھا ماہ و سال کے ساتھ

نہ بے رخی ، نہ عداوت، نہ کوئی رنج و گلہ

نبھا ئی میں نے محبت یہ کس کمال کے ساتھ

عجیب جنگ تھی ، اک جان بے اماں تھی میں

وہ تیر تانے مرے سامنے تھا ڈھال کے ساتھ

بس اب تو پیلی رتوں سے ہیں نسبتیں میری

قدم ملا نہ سکی موسموں کی چال کے ساتھ

وہ مجھ سے پوچھ رہا تھا بڑے تکلف سے

جواب اس کو ملا ہے مگر سوال کے ساتھ

عجیب وجد کا عالم رہا اکیلے میں

میں رقص رقص رہی دل کی ایک تال کے ساتھ

ملے تو اپنی ا نا کی حدوں میں قید رہے

ہمیں بدل نہ سکے خود کو اعتدال کے سا تھ

یہ سرکشی بھی نہیں ، میری سادگی بھی نہیں

عروج مجھ کو ملا خواہش زوال کے ساتھ

 

 

Blue bar

CLICK HERE TO GO BACK TO HOME PAGE