Urdu Manzil


Forum
Directory
Overseas Pakistani
 

فرزانہ سحاب مرزا

میں جل پری تھی اور سمندر میں قید تھی

تہہ دار پانیوں کے کسی گھر میں قید تھی

بے ساختہ کسی نے پکارا مجھے مگر

خود ساختہ غموں کے مقدر میں قید تھی

مجھ کو محبتوں سے رہائی نہ مل سکی

خوشبو تھی اورپھول کےپیکر میں قید تھی

سب کی نگاہ میں تھی جو ناقابل شکست

وہ مورتی بنی کسی پتھر میں قید تھی

دلکش غزل کبھی تو کبھی گیت بن گئی

کس کس ادا سے رنگ سخنور میں قید تھی

آزاد ہو سکی نہ کسی دور میں سحاب

تصویر بن گئی کسی پتھر میں قید تھی

 

Blue bar

CLICK HERE TO GO BACK TO HOME PAGE