Urdu Manzil


Forum
Directory
Overseas Pakistani
 

غلاما
طاہرہ اقبال
 جون جولائی کے روزے تھے اور کپاس کی بوائی کا موسم تھا۔ وڈی سرگی(فجر سے پہلے) جب کسان کھیتوں میں بھاپیں مارتے سورج کے بھٹے میں دِن بھر بھننے کی تیاری کر رہے ہوتے تو مولوی ابوالحسن مسجد کے لاؤڈاسپیکر سے اعلان کرتا۔
’’دروزے دارو اللہ کے پیارو سحری کا وقت ہو گیا ہے کھانے پینے کا انتظام کر لو۔‘‘
 ٹریکٹر کے ساتھ ہل جوڑتے بھل آہلی کی ٹرالیاں بھرتے اسپرے کی مشینیں ُپشت پر جماتے کھاد بیج کی جھولیاں باندھتے کسان میلوٹی پگڑیاں منہ پر کھینچ مولوی کی نادانی پر حلق کے اندر ہی اندر تضحیک آمیز قہقہے اُنڈیلتے۔
 ’’مُلّا! یا تو روزہ رکھے یا تیرا رب رکھے جو جہاز پر آسمانوں کے ہنڈولے میں جھولے لیتا ہے اور خود تو مسیت کے تھوڑے فرشوں پر پانی چھڑک دِن بھر ویلا سوتا ہے۔ پانچ اذانیں کوک دیں پانچ ٹیم ماتھا ٹیک لیا کبھی دھوپ کے کراہے میں امن چھوڑتی فصلوں پر زہریلے اسپرے چھڑک کبھی آسمانوں کی دہکتی انگیٹھیوں تلے گوڈیاں کر سہاگے اور جندرے مار کبھی ہاڑ جیٹھ کی بھاپیں مارتی کھیتوں کی آوی میں کوزوں ک طرح دم پر لگ ۔جب پنڈے کا سارا پانی پیاسی مٹی چوس لے جاتی ہے اور جیب حلقوم سے چپہ بھر باہر اُلٹ آتی ہے تو پھر میں تجھ سے پوچھوں۔
 ’’مُلّا روزہ رکھے گا اللہ کا پیارا بنے گا۔‘‘
 پرلی بہک سے کڑوے تمباکو کو سیاہ چقماق سی ہتھیلیوں میں مروڑے دیتے ہوئے سوہنا بغلیں بجاتا سینے کے بلغم میں ہنستا’’گلا جو دے رکھا ہے تجھے مولوی! وہ کالا خچر،لادو، جیسے تو گلام محمد کہتا ہے۔ چاہے تو نمازوں کے لادے ڈال اُس پر چاہے تو روزوں کے بھار اُٹھوا اُس سے۔‘‘
 

 اللہ دِتے کے اکھڑ لفظوں اور سوہنے کی اجڈ ہنسی سے فوجی نصیر ڈر سا گیا، زبان کی نوک چھو کر کانوں کی لویں پکڑیںاور کلمہ طیبہ پڑھا۔
 

 ’’ہر کوئی رب سوہنے کے حکم سے اپنا اپنا کام کر رہا ہے۔ کیوں ڈراتا ہے یار مُلّا! اگر ہم مٹی میں مٹی ہو محنت نہ کریں تو پھر تو گھی شکر کے ساتھ دو دو چپڑی کھا کر روزہ کیسے رکھے اور اگر ہم بھی تیری طرح نہا دھو روزہ رکھ سو رہیں تو پھر خون پسینہ ایک کر کے اناج کون اُگائے۔‘‘
فوجی نصیر نے حقے کے لمبے سوٹے میں آنکھوں کی مشقتی جھریوں کو گچھا مچھا کھینچ فلسفیانہ انداز میں ناک سے دُھواں چھوڑا اور سرمئی لہریوں میں سے جواب کھوجا۔
 ’’ہر ایک کی اپنی اپنی ڈیوٹی ہے مُلّا تجھے ربّ سوہنے نے نماز روزے دے دیئے۔ ہمیں مٹی اور مشقت دے دی۔‘‘
 مولوی ابوالحسن نے اذانِ فجر کے بعد انتظار کھینچا لیکن مسلمانوں کی اس بستی میں سے ایک بھی نمازی مسجد کی چوکھٹ پر نہ پہنچا۔
 مولوی ابوالحسن کے دماغ میں دِن میں پانچ مرتبہ آنے والا خیال پھر آیا۔ یہ بستی چھوڑ دینی چاہیے یہاں قہرخداوندی نازل ہونے والا ہے۔مسجد کے سامنے سے گزرتی سڑک پر سے چیختے دھاڑتے، ٹریکٹر ٹرالیاں، بھل صفائی کو جانے والے کسانوں کے جتھے عالم لوہار کی جُگنیاں اور نوراں لال کے گیت الاپتے گزرتے رہے۔ دُکانوں کے تھڑوں پر بیٹھے نوجوان کے فلمی گانوں کی تال پر اپنی معشوقوں کو ننگے اِشارے اور جملے کستے تو جیسے بھڑوں کے چھتے میں دھواں دھخا دیا گیا ہو۔ زہریلے ڈنگ ناک کی کرتے پھینک اور کانوں کی لویں ڈنگنے لگے۔ مولوی ابوالحسن نے کانوں کی باوضو لویں ُچھو کرایک بار پھر توبہ تائب کی اور اپنے دونوں لڑکوں کو بالمقابل کھڑے ہونے کا اِشارہ کیا۔ کاش اُس کی ساتوں بیٹیوں میں سے کوئی ایک لڑکا ہو جاتی تو کم از کم گھر کی جماعت تو بن جاتی۔
 وہ نیت باندھنے کو ہی تھا کہ مسجد کے دروازے میں سے غلاما سیاہ آندھی کا جھولا سا داخل ہوا۔ لمبی لمبی جاہنگوں سے اُٹھی تہمد کے ٹکڑے سے سیاہ چھال تنے جیسے گھٹنے ڈھانپتا مڑی تڑی اُنگلیوں اور کھکھڑی سے پھٹے تلوؤں والے گوبر کیچڑ سے لتھڑے پیر مسجد کی حوضی سے دھوتے ہوئے کامیابی بھرے سیاہ دھبوں والے زرد دانت باہر نکالے جیسے کہتا ہو۔
 ’’آخر میں پہنچ گیا نا۔‘‘
 جماعت بن گئی تھی اور تکبیریں پڑھتے ہوئے مولوی ابوالحسن کا بستی چھوڑنے کا اِرادہ پھر متزلزل ہو گیا۔ حالانکہ اُسے معلوم تھا کہ غلامے کو نماز چھوڑ کلمہ بھی نہیں آتا، جب بھی سکھانے کی کوشش کی وہ اُونٹ سے دھانے کے اندر خالی الذہن مسکراہٹ کے ساتھ شرماتا جیسے کہتا ہو۔
 ’اس کی بھلا کا ضرورت ہے آپ کا کام تو اس کے بغیر بھی چل جاتا ہے۔‘
 لیکن جب وہ مولوی ابوالحسن کے اِتباع میں سجودوقیام کرتا تو ابوالحسن کو وہم سا ہونے لگتا کہ کم از کم اس نماز میں تو وہ اُن سے زیادہ نمبر لے گیا ہے۔ نماز سے فراغت کے بعد وہ سرپٹ دوڑتا ہوا مالک کے کھیت میں جا کر جت جاتا اور نماز کے وقت کے عوضیانے میں کئی گنا زیادہ محنت چکا دیتا۔
 باچھوں کے دونوں اطراف ہتھیلیاں کھڑی کر کے دِن رات میں کئی کوکیں پڑتیں۔
 ’’گلاما آں ں گلاآا‘‘
 غلاما جہاں کہیں ہوتا رساتڑوا کر سیاہ خچر سا، سانڈوں جیسے ٹیڑھے میڑھے کھربجاتا کھالے بنے ڈھائے ہل ویڑیں ٹاپتا کوک کی سیدھ میں آن ہواؤں اُترتا۔
 شہتیر چڑھانے، اڑوڑی کے گڈے بھرتے، مرے ہوئے جانوروں کی کھال اُدھیڑ کر اُنھیں گاؤں سے باہر گھسیٹ کر پھینکنے، شرطیںپوری کرنے اور حلالے کروانے کے لیے گاؤں والوں کے پاس شاید ایک ہی شخص بچا تھا۔’’گلا، گلاما، غلاما، گاما، غلام محمد۔‘‘ جو سحری سے افطاری تک کھیتوں کی دہکتی بھٹی میں روزہ رکھ ایسی جگرتوڑ محنت کرتا کہ گاؤں والے بھت اُڑاتے۔ کالا خچر،لادو، کمہار کا کھوتا، مشکی گھوڑا، کملا سانڈ، جس طرح وہ یتیمی کی کوکھ میں آپ ہی آپ پل گیا تھا۔ اسی طرح وہ ہاڑجیٹھ کے اٹھ پہرے روزے رکھ جلتے بلتے کھیتوں کے کولہو سے جٹا تنومند خچر کی طرح ہنہناتا رہتا۔
 گاؤں کے نوجوان شرطیں بدھتے۔
 غلاما تین روزے پانی سے رکھے گا اور نمک سے کھولے گا۔ غلاما شرط بدھنے والے کو سو روپیہ جتوا دیتا۔ گلا گڑ کے شربت کی پوری بالٹی پی جائے گا اور اُوپر سے پانچ کلو جلیبی بھی کھائے گا۔ پورے گاؤں کے مرد اور بچے چوک میں جمع ہوتے اور سب کے بیج مداری کا بچہ جمہورایہ کرتب بھی دِکھاجاتا۔
 گلام محمد رات کے دو بجے پرانے قبرستان کے بڑ سے پتے توڑ لائے گا۔
 شرط بدھنے والے چڑیلوں کے خونی دانتوں سے بھنبھوری ہوئی غلامے کی لاش کے منتظر ہوتے لیکن وہ پتے توڑ کر زندہ لوٹ آتا۔
 گاما اس مہینے تین حلالے کروائے گا۔
 وہ شرط بدھنے والوں کو جیت کی جلیبی کھاتے دیکھ حبشی شراد ٹوٹی ہوئی ہڈی والے پھیلے نتھنوں سے میٹھی مہک سونگھتا اور کامیابی سے چور شرمیلی مسکراہٹ میں گچ ہو جاتا۔
 مولوی ابوالحسن دُکھی ہوتا رہتا۔
 ’’سن غلام محمد! یہ ناعاقبت اندیش تجھ پر غیرشرعی بدعتوں کا گناہ ڈال رہے ہیں۔‘‘ ڈھیموں جیسے بے حس ڈیلوں اور بڑے بڑے حبشی نژاد جبڑوں کے اندر وہ پوری بتیسی کھول دیتا جیسے کہتا ہو۔
 ’’مُلّا جی! میں جیسے آپ کی جماعت کھڑی کروا دیتا ہوں ویسے ہی ان کی شرطیں بھی پوری کروا دیتا ہوں۔‘‘
 ہاڑ جیٹھ ساون بھادوں کی چلچلاتی گرمی میں کپڑے مارادویات کی اُمس چھوڑتی فصلوں کی حبس میں لتھڑے پتھڑے کسانوں کے منہ سے سورج کی آگ جیسے ہذیان نکلتے رہتے۔ کھیت میں روٹی پہنچانے میں ذرا دیری ہوئی لسی میں نمک زیادہ کھر گیا۔ روٹی پر دھری مرچ زیادہ باریک کوئی گئی تو وہ اپنی عورتوں کو درانتیاں مار مار لہولہان کر دیتے اور زبان سے ’’طلاق طلاق طلاق‘‘ کا جھانپا برس پڑتا۔
 موسم کی شدتوں میں سے ٹپک پڑے ایسی بے قابو طلاقوں کے حلاے کے نکاح مولوی ابوالحسن کو کروانے پڑتے کیونکہ وہ انھی کی غصیلی محنت سے چھ ماہی فضلانہ وصول کرتا اور بخوبی جانتا کہ ان غافلوں کی خودساختہ شرع پر وہ دینِ اسلام کی شرع لاگو نہیں کر سکتا پھر بھی کٹے پروں کی تکلیف میں ایک بار پھڑپھڑاتا ضرور۔
 ’’غلام محمد نادان ہے۔ فاترالعقل ہے۔ شرعاً وہ نکاح کے قابل ہی نہیں ہے۔‘‘نمبردار حقے کا لمبا سوٹا گھڑگھڑا کر پنچائیت میں بیٹھے ہر گھرانے کے ایک ایک معتبر کی طرف دیکھتے ہوئے مولوی کی نادانی پر آنکھ مارتا۔
 ’’کیوں مُلّا جی!جب اُسے نماز کے کولہو میں جوتتے ہو اور روزوں کے لادے اُس پر چڑھاتے ہو، اُس وقت کیا وہ فاترالعقل نہیں ہوتا۔‘‘
 پنچائیت کا کوئی دوسرا معتبر مولوی کی بودی دلیل کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے نمبردار کو داد طلب نظروں سے دیکھتا۔
 ’’مُلّا جی! اگر وہ جماعت کھڑی کروانے کو پھٹ(فٹ) ہے تو پھر حلالہ کروانے کو بھی بڑا ٹیٹ(ٹائیڈ) ہے۔
 مولوی زبان سے نکاح کے کلمے پڑھتے ہوئے دِل ہی دِل میں نعوذ باللہ کا وِرد بھیجتا۔
’’آخر یہ نافرمان مذہب کی بخ چھوڑکیوں نہیں دیتے۔ مسجد اور مُلّا کو اپنی خرمستیوں کے لیے ڈھال کیوں بنائے ہوئے ہیں۔‘‘
 غلاما اُونٹ جیسے چھوچھ پھیلا بیلوں جیسی چتکبری بتیسی نکال دولہے کی طرح شرماتا۔
 اب حلالہ کروانے والا اُسے اپنی بیٹھک میں لے جاتا۔ پیٹ بھرکر کھالاتا ۔غلاما دُلہن کا چہرہ دیکھے بنا بے سدھ سو جاتا۔ اگلی صبح حلالے والا طلاق کا گواہ بن مُلّا سے تصدیق نامہ لینے کو آجاتا۔ کوشش کے باوجود مولوی ابوالحسن یہ بستی چھوڑ نہ پا رہا تھا کہ سترہ افراد کے کنبے کو یہی جاہل پال رہے تھے جو قسمیں بھی اپنی ذات کے حوالے سے نہ کھاتے۔ مُلّا کے رب کی سونہہ۔
 مُلّا کے نبی کی قسم۔
 مُلّا کے قرآن کی قسم۔
 مُلّا کی مسیت کی سونہہ۔
 مولوی ابوالحسن سنتا توبہ استغفار پڑھتا۔
’اپنے بیٹیوں کی قسم کھاؤ مال ڈنگر کھیت کھلیان کی قسم کھاؤ ناواقفو بدبختو۔‘‘
وہ رمیاں درانتیاں کسیاں پھاوڑے سروں کے اُوپر ہی اُوپر لہراتے۔
 ’’مُلّا! اپنی مسیت اور بانگ تک رہ سونہہ قسم مال اولاد کے لیے نہیں ہوتی رب سوہنے کو سوبھتی ہے قسم۔‘‘
 وہ تو دُعا بھی اپنے لیے خود نہ کرتے اسی کام کے لیے تو وہ اپنی محنت میں سے مُلّا کو ششماہی وظیفہ دیتے تھے اور جتاتے بھی تھے۔
 ’’مُلّا دُعا کر بارش ہو۔ دُعا کر فصل کو چھاڑ لگے دُعا کر دودھ پوت بڑھے، فصلانہ لے گھوس مار حجرے میں سوتا ہے نہ رہا کر۔
 ’’ارے صور کھو! کبھی خود بھی دُعاکر لیا کرو۔ سفارشی دُعا بھی کبھی لگی ہے۔ فوجی نصیر کی خام دانش اُس کی مشقت بھری جھریوں میں سمٹ آئی۔‘‘
 ’’مُلّا جی ! یہ غریب اَن پڑھ محنت کش اپنا خون پسینہ دہکتی چلم سی دھرتی کو پلا دیتے ہیں پوہ ماگھ کی برفیلی راتوں میں کہراجمے پانی باندھ۵تے کئی سانپ ڈسے مر جاتے ہیں کئی کا کلیجہ چڑیلیں پنجہ مار نکال لے جاتی ہیں لیکن تمہیں قصیلانہ برابر دیتے ہیں ککہ ان کے اور رب کے بیج واسطہ رہے۔ آپ دِل سے دُعا کیا کرو مُلّا جی! کسانوں کی سانسوں سے کیڑے مار ادویات کی بدبو اور کربرے زرہ بیمار دانتوں کی بوچدھٹتی جن کی مہکتی ہوئی قمیصوں پر میل اور زرعی ادویات کی تہیں چڑھی ہوتیں جیسے گنے کی راب کے ڈرم میں غوطے ہوں۔ مولوی جہاں سے گزرتاہوکارے پڑتے۔
 ’’مُلّا جی کوئی دم دارو کوئی تعویذ دھاگا، کھاٹے تم پڑھے ہوئے ہو فصلوں کو سوکھا کھا گیا۔ ٹیوب ویل چلوا چلوا ڈیزل کے ادھار میں لوں لوں جکڑا گیا۔ اللہ سائیں سے مینہ کی دُعا کرو۔‘‘
 ارے نافرمانو! خود کچھ نہ کرنا صرف غفلت اور جہالت کے کوزے بھرتے رہنا ہے۔ مولوی ابوالحسن جلی ہوئی زرد فصلوں پر عبرت کی نگاہ ڈالتا اور توبہ استغفار کا وِرد کرتا۔
 نمبردار نے دخائی سانسوں تلے گلہری کی دم جیسی مونچھوں کو پھڑپھڑاتے ہوئے آخری فیصلہ دیا۔
 مُلّا چلا کاٹو جو یہ کر سکتے ہیں وہ یہ کرتے ہیں گیارہویں کا ختم دلاتے ہیں محرم میں گڑ کے شربت کے کوڑے بانٹتے ہیں۔ منتیں مانتے چڑھاوے چڑھاتے ہیں ہر فصل پر میٹھی سلونی دیگیں پکا ختم دلاتے ہیں۔ مسجد میں جمعرات بھیجتے ہیں قبروں والے سائیں کو تین ٹیم روٹی بھجواتے ہیں جو ان کا کام ہے وہ یہ کرتے ہیں جو تیرے کرنے کا ہے تو کر مُلّا۔‘‘
 مولوی ابوالحسن نے مسجد میں اعلان کیا۔ گاؤں کے سارے مرد ریڑے میدان میں بعدازنمازِظہر نماز استسقا کے لیے جمع ہو جائیں۔
 مولوی جب نمازِ ظہر کے بعد میدان میں پہنچا تو عجب تماشا دیکھا۔ روڑوں والے ریتلے ٹیلے پر غلاما ایک ٹانگ پر کھڑا تھا اور اُس کے گرد جمع تماشائی تالیاں پیٹتے ہلاشیری دیتے بکرے بلاتے دور سے ہی چیختے۔
 ’’مولوی! پرے پرے گلاما چلا کاٹ رہا ہے جب تک مینہ نہیں برستا ایسے ہی ایک ٹانگ پر کھڑا رہے گا۔ دوپہر ڈھلنے لگی، غلامے کی پگھلتی لک سی جلد پر سیاہ آبلے پڑنے لگے۔ خام ڈیزل سا پسینہ نچڑتا، باسی ریت کو بھگوتا رہا۔ جس کے گرم بخارات اُڑ اُڑ کر شاید آسمان پر بادل بستے تھے۔ مولوی کو وہم سا ہوا کہیں بارش ہ نہ برس پڑے پھر تو یہ جاہل اسی گلے کو سائیں بابابنا لیں گے اور بات بے بات کہیں گے، مُلّا چلا کاٹتا ہے کہ ہم گلے سے کٹوا لیں۔‘‘
 وہ کانوں کی لوؤں کو ُچھوتے ہوئے۔
 عصر کی اذان کے لیے واپس پلٹا۔ حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اس ہنگامے اور شور میں اذان کی پکار کا جواب دینے والا ایک بھی نہیں۔ آج تو گلا بھی نہیں، لیکن مسلمانوں کی بستی میں اذان نہ گونجے تو پھر۔۔
 تبھی مجمع کا شور بھیانک گھن گرج میں تبدیل ہو گیا۔ غلامے کی سیاہ مہیب چٹان تڑخ کر گری جیسے کوئلے کی کان منہدم ہوئی ہو جیسے بھٹی میں اُبلتے لک کا سیال بہہ نکلا ہو چیختے دھاڑتے مرد گھٹنوں گھٹنوں تپتی ریت میں دھنسے غلامے پر گھونسوں اور ٹھڈوں سے ٹوٹ پڑے اوئے کالا خچر خنزیرکی اولادتھوڑی دیر اور کھڑا رہتا تو مینہ بس برسنے کو ہی تھا۔‘‘
نمبردار دھاڑا۔
 او کے ماں کے پارو! میں نے کہا نہ تھا کہ اسے کمر کمر تک ریت میں پورو یہیں کھڑا کھڑا مر جاتا لیکن گرتا تو نہ۔‘‘
 مولوی ابوالحسن نے خدا کا شکرادا کیا کہ بارش نہیں برسی۔
نرم دِل عورتیں سحری افطاری روٹی پکا لے آتیں۔
 ’’مولوی جوی اتوں قہر گرمی دا گھا پٹھا کرتے مال ڈنگر کی ٹہل سیوا کرتے تنوروں پر دس دس پور روٹیوں کے لگاتے ٹیم ہی نہیں لگتا۔ مُلّاجی! مڑ کے (پسینہ) سے بھیگی اوڑھنیاں نچوڑیں تو آپ چاہے وضو کر لو روزے رکھ تو نہیں سکتیں پر رکھو! تو سکتی ہیں نا۔ مُلّا جی دُعا کرو اللہ سات بیٹیوں اُوپر تو بیٹا بخش دے۔ پھنڈر بھینس لگ جائے۔ وِکی ہوئی بھینس کو اللہ کٹی دے۔‘‘
 ’’بی بیبیو! غلام محمد کو رکھواؤ، روزہ اُسے پکا کر کھلانے والی کوئی نہیں ہے۔ زیادہ ثواب ملے گا۔۔۔‘‘
 مولوی چارخانہ رومال کے گھونگھٹ میں نظریں حجرے کے فرش میں گاڑے رکھتاعورتیں اُس کے پردے کو بٹ بٹ دیکھتیں ایک دوسرے کو چپے دیتیں۔
 ’’ہائے نی مرد ہو کر زنانیوں سے پردہ کرتا ہے۔ اللہ سائیں کاحکم آیا ہے مرد ہے عورتوں سے پردہ کریں۔‘‘
 نہ مُلّا جی! اس خچر کو کھانے کی کیڈی لوڑ ہے۔ اُسے کوئی نماز روزے کی سر سمجھ ہے بھلا وہ تو تیری ریس میں بھوک کاٹتا اور ٹکڑیں مارتا وہ اُس کا نماز روزہ کوئی لگتا ہے بھلا۔۔۔‘‘
 مسجد کی صفروں پر ٹکڑیں مار مار غلامے کے کالک ذرہ بجھے دیئے سے ماتھے پر مسا پڑ گیا، جیسے مُلّا محراب کہتا، تو گاؤں کی عورتیں اوڑھنیاں منہ میں دبا دبا ہنستیں۔
 گلا کملا مسیت کا دیا بن گیا اس میں جمائیاں کا کڑوا تیل ڈالو۔‘‘
 ایک رات نمبردار نے اپنے ڈیرے سے ’’اوملا‘‘ کی ہانک مارنے کی بجائے بلاوا بھجوایا۔ بلانے والے نے زبان کی طنابیں تالو میں کھینچ ہونٹ سیاہ جھال سی اوک میں چھپا کر سرگوشی کی۔
 ’’مُلّا جی! ڈیڑے پر حاضری آئی ہے۔ مولوی جانتا تھا ایسے خفیہ بلاؤں کا مطلب غیرشرعی وارداتوں پر مذہب کا ٹھپہ لگوانا ہو تا ہے لیکن نمبردار کے بلاوے کو ٹھکرانا مسجد کی سیپ کو ٹھکرانا تھا۔
 مولوی کو دور سے دیکھتے ہی نمبردار نے دُھائی مچائی۔
 بڑا پاپ مُلّا جی مہا پاب۔‘‘
 لیکن دین اسلام میں پردہ پوشی کا حکم آیا ہے۔ اس گندی بھتی پر نکاح کی چادر ڈالو۔ عیب کبیب جو کچھ بھی ہے اس کا جلد چھپ جانا ضروری ہے۔
 مولوی نے چارخانہ صافہ سَر سے اُتار کر زور سے جھٹکا جیسے اس پر اُڑ کر پڑ جانے والی گندگی جھاڑ رہا ہو۔ سامنے کیکر سے بندھی بھینس کے اِردگرد کھلا سانڈ گھوم رہا تھا۔ گاؤں بھر کے بچے اور نوجوان دائرہ بنائے سانڈ کو ہلاشیری دے رہے تھے۔
 نمبردار نے پکار کر پوچھا۔
 ’’اوئے! مُلّائی ہوئی کہ نا۔‘‘
 ’’نمبردار جی! ابھی کام ٹھنڈاہے۔‘‘
 ’’پر ادھر تو کام گرم ہے۔‘‘
 نمبردار نے رانوں پر ہاتھ مارلے۔
 ’’اگربدبخت حمل گراتی ہے تو یہ قتل ہے ایک معصوم جان کا ناحہق خون، اس کی سزا پوری بستی پر آئے گی۔ مولوی جی! قتل بڑا جرم ہے کہ گناہ کا چھپالینا۔‘‘
 مولوی کے جواب سے پہلے پنچائیت نے دھائی مچائی۔
 بناشک قتل مُلّاجی! مٹی پاؤدو بول پڑھاؤ۔‘‘
 بچوں نے اِشتہا انگیز تالیاں بجائیں نوجوانوںنے سانڈ کی مردانگی پر لذیذ نعرے بلند کیے بھینس لگ گئی تھی۔
 ’’مولوی جی! دِن رات کھیت کھلیان میں اندھیرے اُجالے میں بیچاریوں کو بھورے(مشقت) کرنا پڑتے ہیں ہر طرف سانڈ وہیں سونگھتے پھرتے ہیں ہماری آپ کی بہو بیٹیوں کی طرح غریب پردے میں تھوڑی بیٹھ سکتی ہیں، جب مفقع بہت ہوں تو پھر بندہ بھولن ہار غلطی تو اماں حوا سے بھی ہو گئی تھی۔ مُلّا جی الہ ستار ہے غفار ہے، نبی بھی لج پال ہے پھر ہم آپ نشر کرنے والے کون ہوتے ہیں۔۔۔‘‘
 بھینس کامالک ملائی کی مبارکبادیں وصول کرتا بھینس کو تھپتھپاتا باڑے کو لے جا رہا تھا۔ مجمع ٹوٹ کر اب مولوی کے گرد جمع ہو گیا تھا۔
 مولوی ابوالحسن نے قفس کی آخری پھڑپھڑاہٹ لی۔
 ’’حاملہ عورت کا نکاح غیرشرعی ہے۔ نمبردار جی بستی پر قہرخداوندی نازل ہو جائے گا۔۔۔‘‘
 ’’مولوی جی پھر کوئی رستہ نکالو آپ دِین اسلام کے عالم ہو قرآن کے حافظ ہو نماز روزے کے محافظ ہو آپ جو کہو گے وہی شرع ہو جائے گی۔ آسمانوں سے انکار تھوڑی نازل ہو گا۔ چلیں پوچھ لیں اپنے رب سے آپ کی تو گل بت رہتی ہی ہو گی نا۔۔۔‘‘
 نمبردار دین اسلام میں پردہ پوشی کی اَن گنت مثالیں گنواتے ہوئے پوروں پر پٹاخ پٹاخ بوسے دیتا رہا اور پنچائیت اُس کی پیروی میں سبحان اللہ، سبحان اللہ کے نعرے بلند کرتی رہی۔
 آخر آٹھ ماہ کی حاملہ سے عقد کرنے کو کون تیار ہو گا۔
 مولوی کے اس احمقانہ استغفار پر پوری پنچائیت کے گدگدی ہوئی۔ نمبردار نے لمباکش لے کر تضحیک آمیز آنکھ دبائی۔
 ’’مولوی جی! یہ آپ کی پریشانی نہیں بندوبست ہے ہمارے پاس۔‘‘
 غلاما اپنے بڑے بڑے جبڑوں کے اندر مسکرا رہا تھا۔ تارکول سی سیاہ چکتی رنگت میں سے چکنا چکنا روغن چھٹتا تھا۔ لال سرخ مسوڑھوں کے اندر زرد دانت سچے سونے کی طرح چمکتے تھے اور وہ کندھے پر گردن ڈھلکا شرماتا تھا جیسے کہتا ہو۔
 ’’مولوی جی! میں آپ کی جماعت نہیں پوری کرواتا کیا؟ آپ کے روزے نہیں رکھتا؟ آپ میرا نکاح نہیں پڑھوائیں گے؟‘‘
 آٹھ ماہ کی حاملہ لال تلے دار دوپٹے میں چھپنے سے زیادہ اُمڈتی چھلکتی پڑ رہی تھی۔
 ’’مولوی جی! بسم اللہ پڑھو پردہ ڈالو اس حال میں پنچائیت میں بیٹھی کیا یہ گدھی اچھی لگتی ہے۔‘‘
 نمبردار نے ابوالحسن کے کمزور حوصلوں کو ایک اور دھکا لگایا۔
’’غلاماغریب بنا سحری کھائے روزہ رکھتا اور نمک چاٹ کر کھولتا ہے۔ چکر روٹی پکانے والی مل جائے گی جھگی بس جائے گی اس کی مُلّا جی۔‘‘
 پوری فضا میں اسپرے کی زہریلی بورَچ بس گئی تھی۔ تنوروں میں ہانڈیوں بھرولوں میں لسی کے مٹکوں میں کسانوں کے جسموں میں سانسوں میں گھاس چارے جڑی بوٹیوں میں جیسے پوری دھرتی و آسمان زہر میںگندھے ہوں کپاس کے پودے ابھی زمین سے سر نکال کر خود کو سیدھا نہ کر پائے تھے کہ بیماریوں نے آن پکڑا، زرد ٹہنیوں پر کملا کے سکڑے ہوئے پتے جیسے رُوٹھے ہوئے بچے منہ بسورتے روتے ہوئے کسان دِن بھر اسپرے والی مشینیں کمر سے باندھے متعفن سانس چھوڑتی فصلوں پر زہر چھڑکتے کئی ایک کو زہریلے اسپرے چڑھ جاتے کھٹا پلانے سے کئی بچ جاتی کئی مر جاتے، جانور زہریلا چارہ کھا مرنے لگے۔ بھینس دودھ گھٹا گئیں۔ نہروں میں بندیاں آ گئیں۔ ڈیزل سونے کے بھاؤ بکنے لگا۔ کھادنایاب ہو گئے۔
 مولوی ابوالحسن جدھر سے گزرتا ہو کارا پڑا۔
 ’’مُلّا جی! کوئی دم درود کوئی تعویذ دھاگہ۔ اب کو عرض گزارو بندوں پر رحم کرتے۔‘‘
مولوی ابوالحسن نے تنہامسجد میں جمعے کا خطبہ دیا۔
 ’’اے لوگو! خدا کے احکامات اور نبی کی شرع سے مذاق مت کرو۔ بستی پر قہرخداومندی نازل ہو جائے گا۔‘‘
 ’’اے ہے قہر خدا کا۔۔۔ مُلّا بھی بادشاہ بندہ ہے۔‘‘
 وہ کھال کے پیندے میں متعفن پانی اوک بھر پیتے کھالے بنے کھودتے حلق میں بھری دھول میں اندر قہقہے پلٹتے۔
 ’’مُلّا! چہار پہر کھیتوں کے بیلن میں نچڑتے ہیں۔ کہاں ہیں پاک کپڑے کہ نمازیں پڑھیں ،تو تو مُلّا چٹا بانا کر کے مسیت کے حجرے میں ویلا جمراتوں کے حلوے کھاتا ہے۔ رب بھی اُنھی کا پیٹ بھرتا ہے جن کا پہلے پھولا ہوا ہے۔ جب بھی مارآئی ہم غریبوں پر ہی آئی۔ سوکھا پڑا تو سب سڑ گیا مینہ برسا تو سب بہا لے گیا۔ ارے مولوی تو مسیت کے گنبد میں بیٹھا ویلیاں کھاتا ہے۔رب سوہنے کو ہماری پریشانیوں سے آگاہ کیوں نہیں کرتا۔
 مولوی ابوالحسن کانوں کی لویں چھو کر توبہ جو استغفار پڑھتا۔ وہ اس موقع پرست جہالت کے خلاف فتویٰ کیسے دیتا کہ اگر ان کی فصل ہو گی تو اسے بھی فصلا نہ ملے گا۔ عورتیں کتاب کھلوانے کو جوتے سمیت جوڑے لائیں گی اور جمعراتیں بھیجیں گی اور ہر مشکل میں حلوے پکا کتاب کھلوانے آئیں گی۔
 ’’مُلّا جی! ذرا کتاب کھول کر بتاؤ میرا مندری چھلا کس نے چرایا، میرے شوہر پر تعویذ کس نے ڈالے۔‘‘
مولوی کے بولنے سے پہلے ہی نشانیاں وہ خود ہی بتاتی چلی جاتیں۔
 ’’مولوی جی! کیری آنکھ والی ہے نا پیر میں .........ہے نا، گال پر سستا ہے نا۔‘‘
 پھرماتھا پیٹ کر کامیابی بھری چیخ مارتیں۔
 ’’بوجھ لیا وہی کالے کی رن پہلے ہی پک تھا۔‘‘
 مولوی کے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ کتاب کی گواہی اُٹھا کر کالے کی رن کے تو بے اُدھیڑنے چل پڑتی۔ لیکن حلوے کی رکابی چھوڑ جاتی تو دوسری گڑ کی تھالی بھرے آن بیٹھتی۔
مُلّاجی! کتاب پھر ولو بھینس کا دودھ کس نے باندھا چولہے کی راکھ میں تعویذ کس نے دبائے۔ رضائیوںمیں سوئیاں کس نے پروئیں۔ لسی پر مکھن کمر کیوں چڑھنے لگا ہے۔ گویا غیب کے یہ سارے علم گڑ حلوے کی پیٹوں کے رُوبرو بولنے لگے ہوں۔ ضروری تھا، ورنہ وہ فصلانے کے قابل نہیں۔۔۔
 مہینے بھر بعد غلاما بیٹے کا باپ بن گیا جس کا نام اُس کی ماں نے نوید رکھا گاؤں کے لڑکے غلامے کو ابو نوید کے نام سے چھیڑتے تو وہ خچر جیسے مضبوط بدن کے اندر پھول سا کھلتا اور بچے سا کھکھلاتا ،دولتیاں جھاڑتا اور لمبی لمبی ہچکوہچکو کرتا۔
 اس نکاح کے بعد مولوی ابوالحسن کی کوشش ہوتی کہ غلامے کے پہنچنے سے پہلے پہلے وہ نماز کی نیت باندھ لے لیکن وہ بڑے بڑے جبڑوں کے اندر دخاتی انجن سا ہونکتا کیچڑگوپر سے لتھڑے عمر بھر جوتوں کی قید سے آزاد کھروں پر بھاگتا ہوا آن پہنچا اور مولوی کو نہ چاہتے ہوئے بھی جماعت کروانی پڑتی۔اُس شخص کی خاطر جو شرع کی صریحاً خلاف ورزی کروانے کا مرتکب ٹھہرا تھا۔ بعد میں وہ اپنے لڑکوں کو سناتا۔
’’نہ کلمہ آئے نہ اللہ رسولﷺ کا پتہ شریعت کو مذاق بنانے والے آ جاتے ہیں جماعت کروانے۔‘‘
 جس روز مرادو دو مہینے کا بچہ غلامے کے پہلو میں سوتا چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ نکل گئی۔غلاما اپنے سیاہ بدن پر اُداسی کے سارے رنگ اوڑھے پھٹے پھٹے بنا پلکوں والے ڈیلوں میں سے میلا میلا پانی بہاتا رہا۔ بھوکا بچہ تانت کی طرح اکڑتا اور پھر گچھا مچھا ہو کرروتا تو لگتا تنی ہوئی رگوں وریدوں میں سے پھٹ کر قطرہ قطرہ بہنے لگے گا۔ لیکن جب وہ بوتل کے منہ پر لگے نپل سے دودھ پینے لگا تو غلاما اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو کا وِرد مسلسل کرنے لگا۔ غلاما جو گونگا بہرا تو نہ تھا لیکن یتیمی کی چپ اور بھیڑ بکریوں کی صحبت میں وہ جملے نہ سیکھ سکا تھا۔ ٹانواں ٹانوں لفظ بول لیتا لیکن آج اِک سوگوار ردھم کے ساتھ لفظوں کا تسلسل اُس کے منہ سے اُمڈا چلا آ رہا تھا۔اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو اڑوس پڑوس کی عورتیں حیرت کی انگشتِشہادت خاک کی پھنک پر جمائے جمع ہو گئیں۔ کچھ روئیںکچھ ہنسیں۔ کیوں روتا ہے جھلا اسی کا ہو او کملا گلاما! پتہ نہیں کسی راہی کی سمٹ تھی پھینک کر چلی گئی تیرا کیا لگتا ہے کیوں لوریاںسناتا ہے اُسے۔۔۔‘‘
 غلاما عمر میں پہلی بار رونے اور بولنے کے تجربے سے دوچار ہوا تھا جی بھر کیرویا سر لگا لگا لوریاں سنائیں۔اللہ ہو اللہ ہو اللہ۔
 چوکیدار کے رجسٹر میںجب بچے کی ولدیت کے خانے میںغلام محمد رف گلا، لکھا گیا تو وہ بچے کی جھولی جھلاتا مزید اُونچے اور آزادانہ سُروں میںلوری گانے لگا، جس کے لفظوں میں خودبخود تبدیلی ہو گئی تھی۔
 اللہ ہو اللہ ہو گلے دا توں
 اللہ ہو اللہ ہوں۔۔۔ گلے دا توں
 سننے والے پھیپھڑوں کے اندر ہی اندر مخصوص گم دیہاتی ہنسی ہنستے۔
اوئے گلمے دا نیں بیگی دا آکھ (کیہ)
 دیہات کی روایت کے مطابق بچوں کے نام لینے کی بجائے اُن کے باپ کے حوالے سے پکارا جاتا ہے،مثلاً
 وریامے دا، اللہ دِتے دا، گلامیدا
 غلاما جب لوری کا وِرد کرتا تو لوگ پکارکر پوچھتے
 او کہڑے دااے۔(یہ کس کا ہے؟)
 وہ سیاہ چمک دار روغن جیسے چہرے میں شرماتا۔
 ’’جی گلے دا۔‘‘
 او کے خچرا اے تے بیگی دا اے۔(یہ تو بیگی کا ہے)
 گاؤ ںمیں کئی اور بچے بھی بیگی کے کہلاتے تھے یعنی جس کسی کے باپ کے بارے میںشک ہوتا وہ بیگی کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا۔
 غلاما بیلوں جیسی چتکبری بستی پوری کھول دیتا۔
 ’’نہیں اللہ دے گلے دا بندے دا۔اللہ ہو اللہ ہو۔
 اُس روز مولوی ابوالحسن جماعت نہ کروا سکا، وہ اپنے دونوں بیٹوں کو پہلو بہ پہلو کھڑا کر کے نماز سے فارغ ہوا تو درود شریف کا وِرد کرتے ہوئے اس گاؤںسے نکل جانے کی تدبیریں پوری سنجیدگی سے سوچنے لگا۔آج پتہ نہیں غلامے کو باؤلا کتا کاٹ لے گیا تھا جو کہ وہ بھی نہ پہنچ پایا تھا کہ جماعت تبھی ہی میں جاتی اللہ ہو اللہ ہو گلے دا توںکا ہیجان خیز وِرد مسجد کے باہر سے اندر ٹپکا اور مسجد کا دروازہ پٹاخ سیکھلا، وہ سیاہ خچر ٹیڑھے میڑھے کھر ڈغ ڈغ مسجد کے پختہ فرشپر بجاتا ہاتھوں میںحرامی بچے کو اُٹھائے مولوی کے قدموںمیں جھکتا چلا گیا۔ مولوی ابوالحسن کا ایک بار تو جی چاہا کہ اس گناہ کی پوٹ کو ٹھوکر مار کر مسجد کے حوض میں اُ چھال دے لیکن یوں تو وضو والا پانی ناپاک ہو جائے گا پھر اُسے غلامے پر بے تحاشا غصہ آیا۔ اس گندگی کو مسجد جیسی پاک جگہ پر یہ کیوں اُٹھا لایا ہے۔ اُس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
 ’’اوئے اے بیگی دا۔‘‘
 وہ اُونٹ جیسے جبڑے کے اندر زرد بتیسی پر گہری سیاہ اُداسی لیپے کپاس کی چھڑی جیسی سیاہ موٹی شہادت کی اُنگلی آسمانوں کی طرف اُٹھائے وِرد کرنے لگا۔
 اللہ دا گلامے دا بندے وا اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو۔
 بچے کے بدن سے چھٹتی حرارت مولوی ابوالحسن کے قدموں پر بھٹی سے دہکی مولوی نے بچے کو چار اُنگلیوں کے پنجے میں یوں پکڑا جیسے مردہ چوہے کو دست پناہ سے پکڑ کر کوڑے کے ڈھیر میں پھینکتا ہو۔یہ بیگی دا یہ ناپاک حرامی بچہ مرتے ہوئے کس قدر معصوم اور بے گناہ لگ رہا تھا۔ مولوی ابوالحسن کو اُس پر ترس آ گیا۔ مسجد کے حوض میں دوچار ڈوبے دیئے اور پھر حجرے کے ٹھنڈے فرش پر لٹا دیا۔بخار کی شدت سے بے ہوش بچہ مسجد کے ٹھنڈے فرش پر بے سدھ پڑا تھا۔ سیاہ ہونٹ تپ کر لال بوٹی ہو گئے تھے۔
 سیاہ کر کتے کاغذ جیسے نتھنے بھنبھیری کی طرح پھڑکتے تو مولوی کے چہرے پر گرم راکھ سی جھڑتی، جیسے دانے بھوتنی دانی کے چھانتے سے گرم ریت اُڑتی ہو۔
 غلاما مسجد کے صحن میں کڑکتی دھوپ کے بھرے حوض میں ایک ٹانگ پر کھڑا تھا۔ سیاہ ننگے بدن سے چھٹتا پسینہ پکے فرش کو بھگو رہا تھا۔ سیاہ دیو، کالا خچر مشکی گھوڑا فاترالعقل غلاما لنگوٹ کسے جسے کوئی بھکشو جیسے چلہ کاٹتا کوئی صوفی منش جیسے برگد کے پیڑ تلے گیان دھیان میں لکڑی بنا بدھا۔ جیسے یوگ لیے آلتی پالتی مارے کوئی سادھو۔
 مولوی ابوالحسن کی توجہ بچے کیطرف تھی۔ درود شریف کے وِرد کے ساتھ پانی کے چھڑکاؤ سے اُس کی بجتی ہوئی نسیں اور دھکتی ہوئی سانسیں معتدل ہو رہی تھیں اور وہ دودھ کے لیے منہ کھول رہا تھا۔
 سامنے ایک ٹانگ پر کھڑا ہوا غلاما سیاہ موٹی گردن کی تنی ہوئی نسیں جیسے کھولتا ہوالہو دھڑ دھڑ پورے وجود کا دورہ کرتا ہو، جس کے سیال میں سے تین جملے بہتے تھے۔
 اللہ دا، گلامیدا بندے دا، اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو
 گلامے دا توں اللہ ہو اللہ ہو۔

 
 

Blue bar

CLICK HERE TO GO BACK TO HOME PAGE